” انتخابی میدان کے بڑے کھلاڑی “

10 اپریل 2013

نگران وفاقی وزیر ِ اطلاعات و نشریات جناب عارف نظامی نے ، 8اپریل کو ،” نوائے وقت گروپ“۔ کے ایڈیٹر انچیف جناب مجید نظای سے ، اُن کے دفتر میں ملاقات کرنے کے بعد ۔” نوائے وقت“۔ ” دی نیشن“۔ اور ۔” وقت نیوز“۔ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ۔ ” انتخابات ملتوی کرنے کی کوئی تجویز زیرِغور نہیں ہے اور بڑی سیاسی جماعتیں بھی یہ برداشت نہیں کریںگی۔الطاف حسین صاحب نے انتخابات آگے لے جانے کی جو تجویز پیش کی ہے، ضروری نہیں کہ دوسری جماعتیں بھی اُن سے متفق ہوں“۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ۔” آئین کی دفعات 63/62پر عملدرآمد کی مخالفت کا کوئی جواز نہیں ہے ۔ نواز شریف،شہباز شریف ، پرویز مشرف اور چودھری نثار علی خان جیسے سیاستدانوں کے کاغذاتِ نامزدگی منظور کئے جا چکے ہیں۔میرا خیال ہے کہ بڑے کھلاڑیوں (Major Players ) کو انتخابی میدان سے باہر رکھ کر آزادانہ اور منصفانہ انتخابات ممکن نہیں“۔
الیکشن کمِشن اور کسی حد تک وفاقی نگران حکومت کی طرف سے بھی، انتخابات مقررہ وقت پر کرائے جانے کا عمل تیزی سے جاری ہے ، وزیرِاعظم جسٹس (ر) مِیر ہزار خان کھوسو بھی قوم کو یقین دلا چکے ہیں کہ ۔” اگر عام انتخابات مقررہ وقت پر نہ ہُوئے تو وہ گھر واپس چلے جائیں گے “۔ نگران وُزرائے اعلیٰ میں سے، صِرف نگران وزیرِاعلیٰ پنجاب جناب نجم سیٹھی نے مقررہ وقت پر انتخابات نہ کرائے جانے کی صُورت میں گھر جانے کا اعلان کِیا ہے ،لیکن سندھ ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے وُزرائے اعلیٰ نے اِس طرح کا کوئی اعلان نہیں کِیا ۔ شاید ان تینوں صاحبان کو گھر واپس جانے کی جلدی نہیں ہے ۔ وفاقی وزیرِ داخلہ ملک حبِیب خان سے بھی ۔” زبان کی لغزش“۔ ہو گئی ۔ جب انہوں نے کہا کہ ۔” مَیں تین سال تک فرشتے کی طرح کام کروں گا “۔ میاں نواز شریف کو۔” بحرانوں سے نکالنے والے واحد لیڈر “۔ قرار دینے پر مختلف جماعتوں نے ملک حبیب خان کو برطرف کرنے کا مطالبہ کر دِیا ہے کہ، وہ غیر جانبدارنہیں ہیں۔
 الطاف صاحب ، علامہ طاہر اُلقادری کے لانگ مارچ اور اُن کے بہت سے ارشادات کی اخلاقی حمایت کر چُکے ہیں ۔ علامہ القادری کا نسخہءکیمیا یہ تھا کہ ۔” 4سال کے لئے نگران حکومت قائم ہو جو بڑا آپریشن کرے اور سیاست اور جمہوریت کے بدن سے سارے نا سُور نکال دے “۔ چودھری برادران اور نِیم دِلی سے عمران خان نے بھی، علامہ القادری کو ہاتھوں ہاتھ لِیا تھا، لیکن جب علامہ صاحب،راندہء عوام و سُپریم کورٹ ہو گئے تو، اُن کی ۔” اخلاقی حمایت“۔ کرنے والوں نے بھی پینترا بدل لیا ۔ عارف نظامی صاحب نے دیکھاہو گا کہ اِس بار انتخابات میں گہما گہمی نہیں ۔ ہر جگہ ۔” بیوہ کے نکاح“۔ کا منظر ہے ۔جیسا کہ کئی فلموں میں دکھایا جاتا ہے کہ ۔عین نکاح کے موقع پر پولیس پہنچ جاتی ہے اور انسپکٹر خبردار کر کے کہتا ہے ۔” ٹھہرو ! یہ شادی نہیں ہو سکتی!“۔عارف نظامی صاحب نے آئین کی دفعات 63/62پر عملدرآمد کی مخالفت کو بلا جواز قرا دیا ہے ،لیکن اِن دفعات سے متاثر ہونے والے تو شور مچائیں گے ہی۔
انجیلِ مقدّس کے مطابق ،حضرت یوحنا(یحییٰؑ) نے حضرت عیسیٰؑ کی آمد کی بشارت دیتے ہوئے لوگوں سے کہا تھا کہ۔”اُ ن(حضرت عیسیٰؑ ) کا چھاج تیار ہے ۔ وہ اپنے کھلیان کو خوب صاف کریں گے۔ وہ گندم کو اناج کی کوٹھی میں محفوظ کر لیں گے ۔مگر، بھُوسے کو آگ سے جلا دیں گے ، جو کبھی نہیں ، بجھے گی “۔ جسٹس (ر) فخر اُلدین ۔جی۔ابراہیم کی سربراہی میں الیکشن کمِشن ، امیدواروں کی ایسی ہی چھان پھٹک کر رہا ہے ۔ بڑی بے رحمی سے گندم اور بھوسے کو الگ کیا جا رہا ہے ۔ ہر امیدوار گویا پُل صراط سے گزر رہا ہے ۔ اُس کا نامہءاعمال نہ صِرف الیکشن کمِشن کے پاس ہے بلکہ 19کروڑ 75لاکھ لوگوں کی نظروں کے سامنے بھی۔انتخابات کے التواءکی افواہیںپھیلنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ، صوبہ سندھ اور بلوچستان میں نگران سیٹ اپ خالصتاً ۔” مُک مُکا“۔ سے قائم ہُوئے اور بعض نگران وفاقی وُزراءبھی، چھان پھٹک کے عمل سے نہیں گُزرے ۔ خاص طور پر وفاقی وزیرِ مواصلات جناب اسد اُللہ مندو خیل اور وزیرِ پڑولیم جناب سہیل وجاہت ۔ جِن لوگوں نے ( نہ جانے کِن لوگوں نے؟) ۔ اِن دونوں حضرات کو اتنی اہم وزارتیں دِلوا دی ہیں۔ دونوں صاحبان ٹھیکیدار ہیں اور اِن کے بار ے میں خبریں چھپ چکی ہیں کہ یہ دونوں اربوں روپے کے سکینڈلز میں ملّوث ہیں گویا دونوں ٹھیکیداروں کو اہم وزارتیں ٹھیکے پر دے دی گئی ہیں۔ شاعرِ سیاست کہتے ہیں۔۔۔
” مِل گئے ہیں ، اجِیر ، ٹھیکے پر
بن گئے ہیں، وزیر، ٹھیکے پر
ٹھیکے داروں کی ، کھُل گئی ، قِسمت
کھانے آئے ہیں، کھِیر ، ٹھیکے پر “
صدر جنرل ضیاءاُلحق نے ،1980ءمیں، مجلسِ شُوریٰ بنائی تو ،کہا تھا کہ ۔” مَیں نے ہر شخص کا شجرہءنسب دیکھ کر ، اُسے مجلسِ شُوریٰ کا رُکن نامزد کِیا ہے“۔جنرل صاحب کا اپنا کوئی سیاسی شجرہءنسب نہیں تھا ، لیکن انہوں نے ، خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹوں کی بنیاد پراور اپنی ذاتی پسند کے لوگوں کو، مجلسِ شُوریٰ کا رُکن نامزد کِیا تھا ۔میاں ممتاز دولتانہ، اپریل1951ءمیں، وزیرِاعلیٰ پنجاب بنے تو، انہوں نے، اپنی حکومت پر، جناب حمید نظامی کی تعمیری تنقید سے مشتعل ہو کر ۔” نوائے وقت“۔ بند کر دیا اور اُس کا ڈیکلریشن ، متحدہ پنجاب کے ، یونینسٹ وزیرِاعظم ،ملک خضر حیات ٹوانہ کے ۔”فیملی صحافی“۔ ملک مظفر احسانی کے نام کر دیا ،لیکن مُلکی اور بین الاقوامی اخباری برادری کے احتجاج اور دباﺅ کی وجہ سے ۔” نوائے وقت“۔ کا ڈیکلریشن پھِر نظامی صاحب ( مرحوم) کے نام بحال کرنا پڑا ۔ ملک مظفر احسانی کا تعلق، سرگودھا سے تھا ۔ ایک روز (1961ءمیں) ۔ انہوں نے مجھے ،ملک خضر حیات خان ٹوانہ کے والد ملک عُمر حیات ٹوانہ کا واقعہ سُنایا اور کہا ۔” پہلی اور دوسری جنگِ عظیم میں، ملک عُمر حیات ٹوانہ نے ، اپنے علاقے کی ۔” Martial Races“۔ ( جنگ جُو ۔بہادر اقوام) ۔ کے نوجوانوں کو انگریز کی فوج میں، بھرتی کرا کے خُوب نام کمایااور پِھراُنہوں نے ،پیشہ وروں ( غیر کاشتکاروں) کے بیٹوں کو بھی ٹوانہ ( راجپوت) کا سرٹیفیکیٹ جاری کر کے فوجی بھرتی کی نذر کر دیا ، جِن میں سے کئی کرنل کے عُہدے تک پہنچے“۔ ہر دَور میں اِس طرح کے ۔” شجرہءنسب “۔ پیش کر کے لوگ نہ جانے کہاں سے کہاں پہنچ جاتے ہیں ۔
اب رہے انتخابی میدان کے بڑے کھلاڑی تو، اُن میں سے تو ،5سال تک اقتدار کے جھُولے جھُولنے والی پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز ( پی۔پی۔پی۔پی) کے دونوں سابق وزرائے اعظم سیّد یوسف رضا گیلانی اور راجا پرویز اشرف تو ، سیاسی کھیل کے سارے قواعد و ضوابط کی خلاف و رزی کرنے پرآﺅٹ ہو چکے ہیں ۔پی۔پی۔پی۔پی ۔ کے چیئر مین مخدوم امین فہیم کے سر پر بھی نا اہلی کی تلوار لٹک رہی ہے ۔ عارف نظامی صاحب ! آپ کی نگران حکومت کو اِس طرح کے Major Players، کو انتخابی میدان سے باہر رکھ کر ہی آزادانہ انتخابات کراناہوںگے۔