بچے اور انتخابی مہم

10 اپریل 2013

مظہر حسین شیخ .....
آج کے بچے کل کا روشن مستقبل ہیں۔ ابتدائی عمر میں ہر بچے کے دل میں کوئی نہ کوئی خواہش جنم لیتی ہے کہ وہ بڑا ہوکرکیا بنے گا؟ ڈاکٹر‘انجینئر‘بنکر‘ فوجی یا بزنس مین تو ماضی میں ہر بچے کی یہ خواہش ہوتی تھی کہ وہ بڑا ہوکرڈاکٹر بنے گا اور غریبوں کا مفت علاج بھی کرے گا لیکن جب سے الیکٹرانک میڈیا نے جنم لیا ہے زیادہ تر بچے سماجی رتبے کے لئے سیاستدان بننے کی خواہش رکھتے ہیں اور کیوں نہ رکھیں جب ان کو سکول یا کالج سے چھٹی ہوتی ہے اکثر اوقات کسی سیاستدان کی آمد پر پوری ٹریفک بلاک ہوتی ہے جب ہوٹر لگی گاڑی پر ننھے منے دوست کسی وزیر کو آتے جاتے دیکھتے ہیں تو ان کے دل میں یقیناً یہ خواہش جنم لیتی ہے کہ وہ بھی سیاستدان بنیں اور کسی اہم وزارت کا منصب سنبھالیں پھر جب رات کو مختلف چینلز پر مختلف پارٹیوں کی بحث سنتے ہیں تو وقتی طور پر ان کی خواہش دم توڑتی نظر آتی ہے پھر سکول میں سالانہ تقریب کے موقع کسی وزیر کی سکول آمد ہوتی ہے تو اتنی بڑی تعداد میں لوگ ان کے آگے پیچھے ہوتے ہیں اتنا پروٹوکول دیکھ کر وزیر بننے کی خواہش مچلتی ہے،جب تالیوں کی گونج میں وزیر انعامات تقسیم کرتا ہے تو ا ن کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہتا چند گھنٹے یا چند منٹ گزارنے کے بعد مہمان خصوصی جانے کی تیاریوں میں ہوتا ہے تو پولیس ان کے آگے پیچھے ہوتی ہے ایسے میں بہت سے بچے دل ہی دل میں اس خواہش کو جنم دیتے ہیں کہ کچھ بھی ہو وہ بڑے ہو کر ان کی جگہ لیں گے۔ خیر یہ تو اللہ تعالیٰ کو جو منظور ہوگا وہیں بنیں گے لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ جو بچے کچھ بننے کا دل میں مصمم ارادہ کر لیتے ہیں اور اپنی کوشش جاری رکھتے ہیں مایوس نہیں ہوتے لگاتار محنت کرتے رہتے ہیں اللہ تعالیٰ کی مدد شامل حال ہوتی ہے۔ کئی ایسے نامور لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ بچپن میں جو انہوں نے ارادہ کیا اور دلجمعی سے اپنے کام میں مگن رہے آخرکار انہوں نے اپنی منزل پا لی اور وہ کچھ بن کر نکلے۔ ننھے منے دوستو! الیکشن 2013ء کی آمد آمد ہے ٹھیک ایک ماہ بعد قومی و صوبائی سطح پر الیکشن ہوں گے ہر کوئی چاہے گا کہ جیت اس کا مقدر بن جائے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ الیکشن کے میدان میں کامیابی اسی کو حاصل ہوگی جنہوں نے ملک وقوم کی خوشحالی اور بہتری کے لئے کام کئے ہوں گے۔ اس موقع پریقیناً ننھے منے دوستوں کی پسند کے اُمیدوار بھی الیکشن میں حصہ لے رہے ہوں گے،ایسے بچوںکا یہ کہنا ہے کہ بے شک ہمارا ووٹ نہیں لیکن وہ اپنے امی جان پاپا جان کے ساتھ ووٹ ڈانے ضرور جائیںگے اور الیکشن کا رونق میلہ دیکھیں گے۔ آج کل ہر جگہ الیکشن کا زور ہے جگہ جگہ بڑے بڑے بینرز پوسٹر آویزاں ہیں ایسے موقع پر بچے یہ ضرور سوچتے ہوں گے کہ کاش ان کی بھی ووٹ ڈالنے کی عمر ہوتی تو وہ بھی اپنا ووٹ ڈال سکتے تو ننھے منے دوستو گھبرائیے نہیں وہ دن دور نہیں جب آپ بھی ووٹ ڈالنے کے قابل ہو جائیں گے اپنی پسند کی جماعت اور اس کے امیدوار کے حق میں ووٹ دیں گے۔اتنا پروٹوکول اور عزت دیکھ کر آپ میں سے بچوں کا یہ بھی جی چاہے گا کہ آپ کچھ بن کر دکھائیں۔آپ جو کچھ بھی بننا چاہتے ہیں اپنے مصمم ارادے کے ساتھ اس بات کا عہد کر لیں کہ اپنی منزل تک پہنچنے کے بعد آپ کو جو عہدہ بھی سونپا جائے گا اس میں ایمانداری سے کام لیں گے۔ اپنے فرض کے ساتھ ناانصافی نہیں کریں گے۔اخلاق کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑیں گے اورلوگوں کے کام آئیں گے۔ آج کل ہر گھر میں الیکشن کی باتیں ہو رہی ہیں والدین ایک طرف جبکہ بڑے بہن بھائی جن کا ووٹ بن چکا ہے وہ دوسری طرف ہیں ایسے میں چھوٹے بچوں کی یہی ضد ہوگی کہ وہ الیکشن کے دن اپنے والدین کے ساتھ ووٹ ڈالنے جائیں اور اس بات پر غور کریں کہ ووٹ کس طرح ڈالا جاتا ہے۔ الیکشن کو اگر پانچ صد سالہ تہوار کہیں تو بے جا نہ ہوگا کیونکہ الیکشن کے دنوں میں ایک نہیں بلکہ تین چار چھٹیاں ہوں گی اور ٹی وی ہوگا بچے ہوں گے بڑے ہوں گے والدین ہوں گے اور گاہے بگاہے چائے کا دور چلے گا جب الیکشن کا رزلٹ سامنے آئے گا تو جو جس پارٹی سے تعلق رکھتا ہے یا جس سے اس کی وابستگی ہوگی اپنے امیدوار کو جیتتا دیکھ کر خوش ضرور ہوگا بس اب ننھے منے دوست دعا کریں کہ جو بھی حکمران آئے پاکستان کے لئے بہتر ثابت ہو۔ اور یہ دعا بھی کریں جس طرح آج کل ضرورت سے زیادہ لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے الیکشن کے دنوں میں نہ ہو۔ ورنہ لوڈشیڈنگ ٹی وی پرانتحابی نتائج اور الیکشن کی سرگرمیاں دیکھنے والوں کے لئے کباب میں ہڈی کا کام کرے گی۔