مارشل لاءکا دروازہ ہمیشہ کیلئے بند کردیجئے

10 اپریل 2013

جنرل پرویز مشرف کے عدلیہ کیخلاف غیر آئینی اقدام کے رد عمل میں وکلاءنے عظیم الشان تحریک چلائی جس میں سول سوسائٹی اور سیاسی کارکن بھی شریک ہوئے۔ اس تحریک کے دوران نامور شاعر سعد اللہ شاہ نے رب کائنات سے یوں فریاد کی۔وہ جو کہتا ہے انصاف ملے گا سب کواس نے منصف کو بھی سولی پہ چڑھا رکھا ہےاے خدا لوگ تجھے دیکھتے ہیں اور تو نےایک فرعون کی مہلت کو بڑھا رکھا ہےیوں محسوس ہوتا ہے کہ عوام کی دعائیں قبول ہوئیں اور ”فرعون کی مہلت“ ختم ہوئی۔ باری تعالیٰ نے آمر کے دل میں ڈال دیا کہ تم عوام کے مقبول لیڈر ہو اور پاکستان کو تمہاری ضرورت ہے۔ قرآن پاک کی سورةفاطر کی آیت نمبر 43 میں ارشاد ربانی ہے ”بری چالیں اپنے چلنے والوں کو ہی لے بیٹھتی ہیں“۔[تفہیم القرآن]جنرل پرویز مشرف خوش فہمی میں مبتلا ہوکر کراچی پہنچے۔ چند ہزار افراد نے آمر کا استقبال کیا۔ اوقات کھل کر سامنے آگئی مگر شکاری اپنے جال میں پھنس چکا تھا۔ آمر ”پاکستان بچاﺅ“ کا نعرہ لے کر آیا اور اب خود کو بچانے کی تگ و دو میں ہے۔آمر زمینی حقائق کا درست ادراک نہ کرسکا۔ اوسط درجے کا جرنیل پاکستان پر برسوں حکومت کرتا رہا۔ کراچی، اسلام آباد اور لاہور سے جنرل مشرف کے کاغذات نامزدگی اس بنیاد پر مسترد ہوچکے ہیں کہ اس نے آئین توڑ کر ایمر جنسی نافذ کی۔ عدلیہ کے ججوں کو گھروں میںقید کردیا اور اپنے 68 کروڑ روپے کے اثاثوں کا ذریعہ آمدن نہیں بتایا۔ چترال میں مشرف کے کاغذات نامزدگی منظور کرلیے گئے ہیں۔ انتہائی باوثوق ذرائع کیمطابق جب جنرل مشرف کے فارم ہاﺅس (چک شہزاد) کی اندرونی ڈیزائنگ ہورہی تھی تو بیگم صہبا مشرف نے خاتون انٹیرئیر ڈیزائنر سے کہا کہ وہ ایک کمرے میں پڑی الماری کو مناسب جگہ پر سیٹ کردے۔ الماری کا تالا کھولا گیا تو اس میں ڈبے تھے۔ ایک بھاری ڈبہ فرش پر گر گیا اس میں گولڈ بارز یعنی اصلی سونے کی ڈلیاں تھیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ دولت کے پجاری حکمران ہیرے جواہرات اور سونے کے ”تحفے“ وصول کرتے رہے ہیں جن کو ”فضل ربی“ کا نام دیا جاتا رہا۔سپریم کورٹ میں جنرل مشرف کیخلاف اپیلیں دائر کرکے استدعا کی گئی ہے کہ عدلیہ حکومت کو حکم جاری کرے کہ وہ آئین توڑنے کے سنگین جرم میں آمر کیخلاف آرٹیکل نمبر 6 کی روشنی میں مقدمہ درج کرے ۔یاد رہے کہ عدلیہ نے اپنے ایک فیصلے میں جنرل مشرف کو ”آئین توڑ کر اقتدار پر ناجائز قبضہ کرنیوالاغاصب“ قرار دے رکھا ہے۔ اس فیصلے کی روشنی میں لازم تھا کہ وفاقی حکومت غاصب جرنیل کیخلاف مقدمے کا اندراج کراتی مگر جنرل مشرف نے اقتدار چھوڑنے سے پہلے یہ ضمانت حاصل کرلی کہ اس کیخلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کرایا جائیگا۔ آئین توڑنے والے کو گارڈ آف آنر دے کر رخصت کیا گیا۔ چیف جسٹس پاکستان نے آمر جرنیل کیخلاف اپیلوں کی سماعت کیلئے اپنی سربراہی میں تین رکنی بنچ تشکیل دیا۔ نوائے وقت نے اپنے اداریے میں رائے دی کہ چیف جسٹس کا بنچ کا حصہ بننا مناسب نہیں۔ چیف جسٹس نے خود کو بنچ سے علیحدہ کرکے جسٹس جواد خواجہ کی سربراہی میں دو رکنی بنچ قائم کردیا۔ جسٹس جواد خواجہ نڈر، بے باک اور باضمیر جسٹس ہیں۔ جب جنرل مشرف نے چیف جسٹس پاکستان کو نظر بند کیا تو وہ واحد جسٹس تھے جنہوں نے احتجاج کے طور پر لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس کے منصب سے استعفیٰ دیدیا تھا۔ اس بنچ نے سماعت کے بعد جنرل مشرف کو سمن جاری کرتے ہوئے انہیں اصالتاََ یا وکالتاََ عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت کی ہے اور ان کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔جنرل پرویز مشرف کیخلاف معتبر، مستند، سچی اور ”خاکی گواہی“ سامنے آئی ہے۔ جنرل مشرف کی ٹیم کے رکن جنرل (ر) شاہد عزیز نے اپنی کتاب ”یہ خاموشی کہاں تک“ میں تحریر کیا ہے کہ کارگل آپریشن جنرل مشرف کی ذاتی مہم جوئی تھی اور انہوں نے 12 اکتوبر 1999ءسے بہت پہلے میاں نواز شریف کی منتخب حکومت کا تختہ اُلٹنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔ جس غیر رسمی اجلاس میں فیصلہ ہوا ان میں ”جنرل شاہد عزیز، لیفٹیننٹ جنرل محمود، لیفٹیننٹ جنرل عزیز خان، میجر جنرل احسان الحق، بریگیڈئیر راشد قریشی اور چیف کے پرنسپل سٹاف آفیسر موجود تھے“۔ جنرل (ر) شاہد عزیز بنیادی طور پر نیک نام اور باضمیر جرنیل ہیں لہذا انہوں نے ”قلمی گواہ“ بن کر سچ کو بے نقاب کردیا اور ضمیر کے بوجھ سے آزاد ہوگئے۔ وہ لکھتے ہیں ”پھر فوجی زندگی کے آخری موڑ پر قانون توڑ کر کسی اور کا ساتھ دیا اور سب کچھ بدل گیا۔ پاکستان کا مطلب بھی، ہماری پہچان بھی، قوم کی تقدیر بھی، قبلہ بھی لیکن جو بدلنا چاہا تھا جوں کا توں رہا بلکہ اور بگڑ گیا“۔ یہ قلمی گواہی سماعت کے دوران عدالت کے سامنے پیش کی جائیگی۔جنرل مشرف کیخلاف فرد جرم طویل ہے کالم کا حجم ان جرائم کی تفصیل کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ جنرل نے اپنے اقتدار کیلئے غریب ملک کو امریکی جنگ میں جھونک دیا۔ جنرل کی اپنی کتاب کیمطابق کور کمانڈروں اور کابینہ کے ارکان نے جنرل کے ذاتی فیصلے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ منتخب ہیوی مینڈیٹ جمہوری حکومت پر غاضبانہ قبضہ کیا۔ بلوچستان کے جمہوری قوم پرست لیڈر سردار اکبر بگٹی کی شہادت جرنیل کی جنگجو یانہ حکمت عملی کے نتیجے میں ہوئی۔ بے نظیر بھٹو شہید نے جنرل مشرف کا نام اپنی ممکنہ شہادت کی ایف آئی آر میں شامل کیا۔ جنرل نے آئین توڑ کر 3 نومبر 2007ءکی ایمرجنسی نافذ کی اور چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چوہدری سمیت درجنوں ججوں کو گھروں پر نظر بند کردیا۔ آمر نے وحشیانہ کارروائی کرکے لال مسجد آپریشن کیا اور بے گناہ شہریوں کو کیمیائی ہتھیاروں سے بھون کررکھ دیا۔ سیاستدانوں کا احتساب ہوتا رہا اب جرنیل کا پہلی بار ہورہا ہے۔ راقم کو اس تاثر سے اتفاق نہیں ہے کہ جنرل مشرف کو فوج کی پشت پناہی حاصل ہے۔ سپہ سالار جنرل اشفاق پرویز کیانی نے فوج کے قومی ادارے کو سیاست سے الگ تھلگ رکھا ہے انہوں نے جنرل مشرف کی خواہش کے باوجود 2008ءکے انتخابات میں مداخلت نہ کی۔ آمر جرنیل نے کئی بار میڈیا پر سپہ سالار کے بارے میں اپنے غصے کا اظہار بھی کیا ہے۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی کبھی انصاف اور قانون کے راستے میں حائل نہیں ہوں گے۔ وہ فرد پر ادارے کو ترجیح دینگے اور رائے عامہ کیخلاف نہیں جائینگے۔رب کائنات پاکستان کا قبلہ درست کرنے کیلئے مواقع پیدا کرتا رہتا ہے جن کو ہم نے گنوا دیا۔ کیا مارشل لاءکا دروازہ ہمیشہ کیلئے بند کرنے کا یہ خدائی موقع بھی ہم ضائع کردینگے۔ مکافات عمل کے اصول کے تحت آمر خود اپنے جال میں پھنس چکا ہے۔ وکلاءتحریک کے ہیرو کیوں زیرو ہوگئے ہیں۔ سول سوسائٹی کی زبانیں کیوں گنگ ہوگئیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں کیوں چپ سادھے بیٹھی ہیں۔ آمر کیخلاف تندو تیز بیانات دینے والے اپوزیشن لیڈر میاں نواز شریف کو کیوں چپ لگ گئی کیایہ انتخابی مصلحت کا تقاضہ ہے اور تیسری بار وزیراعظم بننے کے شوق میں سعودی سرپرستوں اور طاقتور عسکری حلقوں کی ناراضگی مول نہیں لی جاسکتی۔ میاں صاحب اگر خاموش رہے تو ان کا ووٹ بنک متاثر ہوسکتا ہے۔ عمران خان نے مشرف کا ساتھ دینے پر قوم سے معافی مانگ لی تھی اب انکے پاس اس گناہ کا کفارہ ادا کرنے کا موقع ہے۔ آمر کیخلاف آرٹیکل نمبر 6 کے تحت مقدمہ چلانے کیلئے سینٹ کی متفقہ قرارداد مو¿ثر ہے۔ پاکستانی قوم متحد ہوکر جنرل پرویز مشرف کو آئین اور قانون کے تقاضوں کے مطابق کیفر کردار تک پہنچا کر ہمیشہ کیلئے مارشل لاءکا دروازہ بند کرسکتی ہے۔ نگران وزیراعظم میر ہزار خان کھوسو کو باری تعالیٰ نے 84 سال کی عمر میں بڑا منصب عطا کیا ہے وہ جنرل مشرف کیخلاف بغاوت کا مقدمہ درج کرکے نہ صرف خدا اور مخلوق خدا کو راضی کرسکتے ہیں بلکہ بلوچستان میں مشرف کی بھڑکائی ہوئی آگ کو ٹھنڈا کرکے اپنی عاقبت بھی سنوار سکتے ہیں۔