کھرا یا کھوٹا

10 اپریل 2013

مکرمی! سیاست ایک بازار ہے اور تمام سیاست دان اس بازار کے تاجر ہر سیاست دان اپنی سیاسی دکان کھولے بیٹھا ہے جو بڑا پیسہ والا ہے اس کی دکان اعلیٰ اور اونچی ہے جو اس سے کم ہے وہ پھٹہ والا اور بالترتیب تھڑے اور خوانچہ فروش ۔اس بازار سیاست میں تمام تاجر و سوداگر سب کا مقصد یکساں ہے۔ آجکل بازار سیاست میں بڑی گہما گہمی اور آپا دھاپی سی مچی ہے۔ دیکھیں اب کوئی کتنا مال فروخت کرتا ہے اور خریدار یعنی بے چارے عوام اس بازار کے سادہ غریب و غمگین خریدار ہیں اور عوام بے چارے جن کا کوئی پرسان حال نہیں وہ حسرت و یاس میں کھرا کھوٹا جو کچھ یہاں دستیاب ہے خریدنے پر مجبور ہیں۔ کیونکہ منڈی گرم ہے اور سیزن عروج پر ہے اس لئے چند موقع پرست تاجر بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کی تیاریوں میں سرگرم عمل ہیں۔ خریدار (عوام) سوچنے پر مجبور ہیں کہ کیا لے جائیں اور کیا نہ لے جائیں۔ کیا کھرا ہے کیا کھوٹا ؟(نعیم انصر ہاشمی جھنگ)