قومی کرکٹ میں وکٹ کیپر کا فقدان؟

10 اپریل 2013

مکرمی ! قومی کرکٹ میں ورلڈ کلاس وسیم باری انتہائی باکردار، راشد لطیف اور معین خاں کے بعد کوئی بھی جارح وکٹ کیپر نظر نہیں آ رہا۔ دنیائے کرکٹ میں جنوبی افریقہ کے وکٹ کیپر مارک باو¿چر موجودہ کرکٹ میں سب سے زیادہ اٹیکنگ وکٹ کیپر رہے ہیں، ان کے بعد آسٹریلیا کے گلکرسٹ اور اس سے پہلے انگلینڈ کے ایلن ناٹ، باب ٹیلر اور ویسٹ انڈیز کے جیفری ڈوجان اور بھارت کے سید کرمانی بہت ہی جارح وکٹ کیپر رہے۔ جارح وکٹ کیپرکا مقصد گیند کو اوپر چڑھ کر پکڑنا ہے جبکہ اب ہمارے ملک میں تمام کے تمام وکٹ کیپر دفاعی ہیں یعنی وہ ڈر کر اور فاسٹ باﺅلر کو وکٹوں کے اتنے پیچھے کھڑے ہو کر کیپنگ کرتے ہیں تاکہ کیچ ان تک پہنچنے تک والی کی صورت میں آئے اور وہ بہانہ لگا سکیں۔ قومی کرکٹ نے اب تک بہت سے وکٹ کیپر آزمائے جن میں اکمل برادران عدنان اور کامران اکمل گھوم پھر کراس لیے آ جاتے ہیں کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں اکمل برادران سے لے کر تمام وکٹ کیپر ایسے آئے ہیں یا دکھائی دیتے ہیں جن کی کیپنگ کے وقت پیروں کی حرکت اتنی سُست ہوتی ہے کہ وہ گیند تک او ر خاص طور پر لیگ سٹمپ پر گری ہوئی گیند تک پہنچ ہی نہیں سکتے اور بہت سی گیندیں اور ان کے پاس سے گزر جاتی ہیں یا چھوٹ جاتی ہیں پھر زیادہ تر وکٹ کیپر گیند کو اپنے پاس نہیں آنے دیتے بلکہ SNATCH کرتے ہیں یہ تکنیکی خرابی سیمنٹ پچ پر کھیلنے، بنیادی سطح پرکوچنگ نہ ہونے یا پریکٹس نہ کرنے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ (طاہر شاہ ۔ سابق فرسٹ کلاس کرکٹر سابق مینجر کوچ سروس انڈسٹریز کرکٹ ٹیم)