پھولوں کو نوچنے والے

10 اپریل 2013

پھولوں کو نوچنے والے اک بار ذرا سوچ
رہ جائیں گے تنہا یہ خار ذرا سوچ
یہ پر کیف صبحیں ہو جائیں گی بے رنگ
اُجڑے گا تتلیوں کا بھی سنسار ذرا سوچ
چھیڑیں گی آکے کس کوچنچل سی ہوائیں
کس سے کریں گے بلبل پھر پیار ذرا سوچ
ہستی گل مٹا کے کہتے ہو دکھ ہوا
ایسے ہوتے ہیں کیا غم خوار ذرا سوچ
کس نے سکھائے تجھ کو باقر یہ ستم
کرنے سے پہلے مجھ کو سنگسار ذرا سوچ
(باقر حسین شاہ، ڈسکہ سیالکوٹ)