معرکہ خیر و شر اور ایک شرارہ انگیز سوال

10 اپریل 2013

ہمارے معاشرتی آداب کا یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ جب کسی شخص کا ذکر خیر کیا جائے تو احتراماً اس کے نام کے ساتھ ’صاحب‘ پکارا یا لکھا جاتا ہے۔ ہماری ناقص عقل میں یہ بات کبھی نہیں آئی کہ بعض عاقل بالغ صاحبان اپنے نام کے ساتھ صاحب کے بجائے صاحب زادہ لکھوانا کیوں پسند کرتے ہیں۔ حالانکہ لفظ صاحبزادہ کے ساتھ کم عمری اور نابلوغت کا تصور جڑا ہوا ہوتا ہے۔ لغاتی معنی کی جانب توجہ کیجئے تو جن الفاظ کے ساتھ زادہ لگا ہوا ہوتا ہے وہ مستقبل قریب میں گدی نشینی یا سربراہی کے محض خواب بردار ہوتے ہیں۔ مثلاً شاہزادہ، نواب زادہ، پیر زادہ وغیرہ۔ بہرحال ایک بات طے ہے کہ شاہزادہ ہو، نواب زادہ ہو، پیر زادہ ہو، پری زادہ ہو یا صاحبزادہ، ان سب زادگان میں معصومیت قدر مشترک ہوتی ہے۔ اس معصومیت کے ثبوت یوں تو ہماری قدیم داستانوں میں جا بجا بکھرے ہوئے ہیں لیکن حال ہی میں صاحبزادہ حال، صاحبزادہ فضل کریم نے معصوم زادگی کا ایک بے مثال مظاہرہ کیا ہے۔ آپ نے فرمایا ہے کہ آنے والا الیکشن خیروشر کا معرکہ ہو گا۔ عوام سیاست کو تجارت بنانے والوں کو مسترد اور سیاست کو عبادت سمجھنے والوں کو منتخب کریں۔ ہمارے قارئین سوچ رہے ہوں گے سیاسی بلوغت سے بھرپور اس بیان میں صاحبزادہ صاحب نے کون سی معصوم زادگی دکھائی ہے تو دست بستہ عرض ہے کہ ان کے کلام بلاغت نظام میں نہیں بلکہ یہ معصومیت ان کے سیاسی اقدام میں پردہ پوش ہے۔ یہ شعر شاید ایسے ہی موقع کے لئے کہا گیا تھا....
کروں کلام، تو زیرزباں، حرم ٹھہرے
قدم اٹھاﺅں، تو اٹھتا ہے میکدے کی طرف
صاحبزادہ صاحب نے سنی مکاتب فکر کی مختلف تنظیموں کو ایک مرکز پر لانے کے دعویٰ کے ساتھ سنی اتحاد کونسل تشکیل دی اور اس کے صاحب سیاہ و سفید قرار پائے۔ کونسل کے مقاصد میں اہل سنت کی اتحادی جگمگاہٹ کے ساتھ ایک سیاسی چمک بھی شامل ہے۔ اس چمک کے صاحبزاد لشکاروں نے کونسل میں شامل تنظیموں کے کچھ سربراہوں کی آنکھیں یوں خیرہ کیں کہ وہ ان لشکاروں کے سامنے آنکھیں موندنے لگے۔ اس آنکھ مچولی کے نتیجے میں گذشتہ سال صاحبزادہ فضل کریم نے برسراقتدار پیپلز پارٹی اور قاف لیگ سے سیاسی اتحاد کر لیا اور اپنے حکومتی حلیفوں کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہو کر قومی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان باایمان فرمایا۔
 اب آئیے صاحبزادہ صاحب کے معصومانہ فرمودات کی جانب۔ آپ نے فرمایا کہ آنے والا الیکشن خیر اور شر کے درمیان معرکہ ہو گا۔ صاحبزادہ میاں سے زیادہ کن صاحبان کو علم ہو گا کہ دنگا فساد کے علاوہ لفظ ”شر“ کھوٹ بدی اور برائی کے معنی بھی رکھتا ہے۔ صاحبزادہ صاحب کا فرمان سن کر ایک شرپسند دوست نے یہ شرارہ خیز سوال پوچھا کہ صاحبزادہ صاحب خود خیر کے ساتھ ہیں یا شر کے۔ اگر شر کا مطلب بدی ہے تو ایک بین الاقوامی خفیہ انٹیلی جنس ایجنسی کے ریکارڈ میں حلیفان صاحبزادہ کی حکومت پاکستانی تاریخ میں بدترین کا اعزاز حاصل کر چکی ہے۔ خفیہ اداروں کی تحقیقات باتصدق کے مطابق وفاقی حکومت کے دست ہائے زربار دس ارب ڈالر کی کرپشن سے اٹے ہوئے ہیں۔ صاحبزادہ صاحب کے حمایت زادوں کے حاصل کردہ حکومتی قرضوں کاحجم 70ارب ڈالر سے متجاور ہے۔ حکومت کی روٹی کپڑا مکان غائب پالیسی کے نتیجہ میں مزید 75لاکھ افراد خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے اور دن رات حکومتی بدکارکردگی کو سراہنے پر مجبور ہیں۔ صاحبزادہ صاحب کے ایک حلیف مخدوم زادہ امین فہیم کے ذاتی اکاﺅنٹ میں محکمہ این آئی سی ایل کے کروڑوں روپے منتقل ہونے کے ثبوت عدالت میں پہنچ گئے ہیں۔ سرکاری کارپوریشن میں سالانہ 70ارب روپے کی چوری ریکارڈ پر ہے۔ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی رپورٹ بتاتی ہے کہ گذشتہ چار سال میں ان کے 7922 کنٹینرز غائب ہوئے ان میں سے 52کنٹینرز میں اربوں کھربوں کی اعلیٰ ولایتی شراب بھری ہوئی تھی۔ قوم کے 850بلین ڈالر خورد برد کرنے والا توقیر صادق حلیفان صاحبزادہ کی آشیر باد سے بیرون ملک فرار ہو گیا۔ اور عدالتی احکامات کے باوجود گرفتار نہیں ہو سکا۔ ورلڈ بینک رپورٹ کے مطابق گذشتہ پانچ سال میں 165ارب ڈالر کی گیس چوری ہوئی یا ضائع گئی۔ صاحبزادہ صاحب کے ایک سیاسی حلیف نے اسمبلی میں اعتراف کیا کہ ان کے دور حکومت میں 90ارب روپے کی بجلی چوری ہوئی۔ سیاست کو تجارت بنانے والے ان حربوں کے سبب سابقہ حکومت کے دور میں اشیائے خورد و نوش کے نرخوں میں ڈیڑھ سو فیصد تک اضافہ ہوا۔ صاحبزادہ صاحب نے عوام کو تلقین فرمائی ہے کہ وہ سیاست کو تجارت بنانے والوں کو مسترد کر دیں۔ اسے کہتے ہیں بروٹس یو ٹو.... ناطقہ سر بہ گریباں ہے اسے کیا کہئے۔
صاحبزادہ صاحب کے حلیفان باصفا میں سے ایک پر بجلی کمپنیوں اور ٹھیکوں، دوسرے پر غیرقانونی ایفیڈرین لائسنس جاری کرنے، تیسرے پر حج کرپشن، چوتھے پر سوئٹزرلینڈ میں مالی گھپلوں، پانچوں پر آئل اینڈ گیس کے اربوں روپے ہضم کرنے کے الزامات اور مقدمات رواں ہیں جبکہ ایک مونس و غمخوار کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ انہوں نے ایک برطانوی جزیرے میں خفیہ سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ پھر بہت سے ایسے قومی دغا باز بھی ان کے حلیفوں میں شامل ہیں جنہوں نے جعلی ڈگریوں کی بنا پر سیاسی تجارت کو فروغ دیا جائے۔ یہ سب شر نہیں تو اور کیا ہے۔ اگر یہ شردیدہ قوم صاحبزادہ صاحب سے یہ سوال کرے کہ ان کے حلیفان عالی شان کے کارنامے خیر کے زمرے میں آتے ہیں یا شر کے.... تو اسے قوم کی شرارت یا شر انگیزی نہ خیال فرمایا جائے بلکہ اپنی اداﺅں پر خود ناقدانہ غور فرمایا جائے۔ صاحبزادہ صاحب سے دست بستہ عرض ہے کہ ....
آپ خود اپنی اداﺅں پہ ذرا غور کریں
ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہو گی

100 سوال ۔۔۔ایک جواب

موجودہ سیاسی و ملکی گھمبیر صورت حال نے ہرایک کے سامنے سوالات کا ایک ہجوم کھڑا ...