قرآن اور ذکر

10 اپریل 2013

٭اے ایمان والو! یاد کرو اللہ تعالیٰ کو کثر ت سے یاد کرو اور صبح شام اسکی پاکی بیان کرو۔ (احزاب :۴۰/۴۱)٭اور کثرت سے اپنے پروردگار کو یاد کرو اور صبح شام اس کی پاکی بیان کرو۔(الاعمران ۔۴۱)٭جو لوگ ایمان لائے اور جن کے دل اللہ کے ذکر سے مطمئن ہوتے ہیں،دھیان سے سنو! اللہ ہی کے ذکر سے دل مطمئن ہوتے ہیں۔ (الرعد ۔۳۸)٭وہ لوگ اللہ کا ذکر کرتے ہیں ،کھڑے ہوئے ،بیٹھے ہوئے اور اپنے پہلوﺅں پر ۔ (الاعمران ۔۱۹۱)٭اور اپنے رب کے نام کو صبح وشام یادکرتے رہا کرو۔(دھر ۔۲۸)٭تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کروں گا۔ (البقرة)٭اور کثر ت سے اللہ کو یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں ،اللہ نے ان سب کے لیے مغفرت اور اجر عظیم تیار کررکھا ہے۔(الاحزاب ۔۳۵)٭اور اپنے رب کے نام کو یادکرتے رہو ،اور سب سے کٹ کر اسی کے ہورہو۔(مزمل۔۸)٭پھر جب نماز پوری ہوچکے ،تو زمین میں پھیل جاﺅاور اللہ کے فضل کو تلاش کرو،اور کثر ت سے اللہ کاذکر کرتے رہو تاکہ تم فلاح(دونوں جہانوں کی کامیابی) پاجاﺅ۔(سورئہ جمعہ)٭اور( اس شخص سے زیادہ) کون ظالم ہے جو اللہ کی مسجدوں سے روک دے کہ اُن میں اس کے نام کا ذکر کیاجائے۔(البقرة ۔۱۱۴)٭ان گھروں میں (جن کے متعلق)اللہ نے حکم دیا ہے کہ بلند کیے جائیں اور ان میں اللہ کا نام لیا جائے۔(نور۔۳۶)٭اے ایمان والو! تمہارے اموال اور تمہاری اولاد تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کردے ۔ (منافقون ۔۹)٭حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”اللہ کو کثرت سے یادکرنے والوں سے مراد یہ ہے کہ وہ نمازوں کے بعد ،صبح وشام ، نیند کی بیداری کے وقت ،اپنے گھروں میں داخل ہوتے ہوئے اور نکلتے ہوئے اللہ کا ذکر کرتے ہیں ۔حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ بندہ کثرت سے ذکر کرنے والوں میں اُس وقت شمار ہوگا جب اُٹھتے، بیٹھتے ،لیٹتے ہر حالت میں اللہ کا ذکر کرے ۔امام نووی فرماتے ہیں کہ تمام علماءکا اس بات پر اجماع ہے کہ دل اورزبان کا ذکرہے اور یہ بے وضو ،جنبی ،حیض ونفاس والی عورت کیلئے بھی جائز ہے اور اس ذکر سے تسبیح وتہلیل، تحمید ،تکبیر، درودوسلام اور دعاءمراد ہے۔شیخ عبدالقادر عیسیٰ فرماتے ہیں ذکر سے غفلت کی وجہ سے بندے پر غم وحزن طاری ہوتاہے اگر وہ اللہ کے ذکر میں مشغول ہوجائے تو وہ خوشی محسوس کرتا ہے اور اسکی آنکھیں ٹھنڈی ہوجاتی ہیںکیونکہ ذکر خوشی اورمسرت کی کلید ہے جس طرح غفلت غم وحزن کی کلید ہے۔