ایران گیس پراجیکٹ کو انتخابی سٹنٹ نہ بنایا جائے

10 اپریل 2013

جمعیت علماءاسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے گذشتہ دنوں مینار پاکستان لاہور کے سائے تلے ”اسلام زندہ باد کانفرنس“ میں پاکستان کے ایک ایسے میگا پراجیکٹ کو ہدف تنقید بنایا بلکہ مضحکہ بھی اڑایا جس کا مقصد کمر توڑ مہنگائی‘ بیروزگار‘ دہشت گردی‘ سیاسی خلفشار اور توانائی بحران سے سخت تنگ آئے ہوئے عوام کو ریلیف دینا ہے۔ ہمارا مطلب پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر دو ہمسایہ برادر اسلامی ممالک کے درمیان ہونے والے معاہدے پر دستخط کا واقعہ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کی معیشت کے فروغ اور توانائی بحران سے نجات کے اس منصوبے کو اگر عین انتخابات کے موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے منظور کرکے اس پر عملدرآمد کا بیڑا اٹھایا ہے تو یقیناً یہ کوئی زرداری حکومت کا ملک و قوم پر ہرگز احسان نہیں کیونکہ گیس پائپ لائن میگا پراجیکٹ پر جائزہ رپورٹیں تو طویل عرصہ قبل ہی تیار ہو چکی تھیں لیکن امریکہ نے کم از کم دو سال سے پاکستان پر گیس منصوبے کو ترک کرنے کے لئے مسلسل دبا¶ ڈال رکھا تھا جسے زرداری انتظامیہ بھی برداشت کرتی چلی آرہی تھی۔ تاہم انتخابات سے دو ڈھائی ماہ قبل اچانک حکومت کو اس پراجیکٹ کی حتمی منظوری کا جو خیال آیا‘ اس سے یہ اندازہ ہرگز نہ لگایا جائے کہ پراجیکٹ کے معاہدے پر آخرکار دستخط کرنے کا کریڈٹ گذشتہ حکومت کو ہی جاتا ہے کیونکہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے توانائی بحران دور کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش گذشتہ پانچ سال کے دوران انہیں کی اور درون خانہ ایران گیس معاہدے ہی کو کم از کم دو سال تک بڑی ڈھٹائی اور سفاکی کے ساتھ لٹکائے رکھا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایران جیسے مخلص دوست ملک کو یہی تاثر ملتا رہا کہ پاکستان جیسا ملک‘ جو پہلے ہی افغان جنگ میں امریکہ سمیت نیٹو کی جنگی کارروائیوں کی پشت پناہی کرتا رہا ہے۔ یقیناً امریکہ سے خوفزدہ ہے۔
ایرانی حکومت نے گیس پراجیکٹ کی بے پناہ افادیت سے وفاقی حکومت کو نہ صرف اقتصادی اور تکنیکی لحاظ سے توانائی بحران سے نجات کا ایک اہم ذریعہ قرار دینے پر قائل کیا بلکہ پاکستانی سرحد تک ایرانی علاقے کے اندر پائپ لائن کا انفراسٹرکچر بھی تعمیر کر لیا اور اس پر یہ کہ ساڑھے سات ارب ڈالر مالیت کے اس منصوبے کے ابتدائی اخراجات یعنی 50 کروڑ ڈالر کا قرضہ بھی انتہائی آسان قسطوں پر دینے کا اعلان کیا۔ انجینئروں اور دیگر تکنیکی و اقتصادی ماہرین نے حکومت پاکستان کو دو سال سے قائل کرنے کی کوشش کی کہ گیس پراجیکٹ وطن عزیز کی معیشت کو پروان چڑھانے میں بہت کارگر ثابت ہو گا لیکن حکومت تو امریکی دھمکیوں تلے آکر منصوبے سے جان چھڑاتی رہی۔ ایک اور خوش آئند بات یہ ہے کہ ایران نے اس پراجیکٹ کے ساتھ ساتھ ایک ہزار میگا واٹ بجلی کی فراہمی کی پیشکش بھی کی تاکہ پاکستانی عوام کو توانائی بحران سے فوری ریلیف مل سکے۔ تاہم صدر آصف علی زرداری نے عام انتخابات سے عین تین ماہ قبل اس معاہدے پر دستخط کرکے نہ صرف اپنے ہم وطنوں پر اپنی جانب سے بڑا احسان چڑھانے کی کوشش کی بلکہ یہ جھوٹا تاثر بھی دیا کہ جاتی ہوئی حکومت نے امریکی دبا¶ قبول نہیں کیا۔
اب ذرا اس ایشو پر بعض سیاسی جماعتوں کا ردعمل ملاحظہ فرمائیے جنہوں نے انتخابی سٹنٹ کا سہارا لے کر اس میگا پراجیکٹ پر خواہ مخواہ کی نکتہ چینی شروع کر دی اور سبکدوش ہونے والی حکومت کی جانب سے منصوبے کی حتمی منظوری کی بلاوجہ مخالفت کرکے ”پوائنٹ سکورنگ“ شروع کر دی۔ مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ ہمارے ملک میں ضرورت کے مطابق گیس وافر موجود ہے لہٰذا انہیں ایران ‘ تاجکستان یا ازبکستان سے خریدنے کی ضرورت نہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایران سے گیس پراجیکٹ کا معاہدہ حکومت نے کمیشن کھانے کے لئے کیا ہے لہٰذا حکومت اس معاہدے کو منسوخ کرکے دیگر ذرائع سے گیس حاصل کرے۔ دیگر ذرائع سے ان کا مطلب یہی ہو گا کہ امریکہ سے رجوع کیا جائے جو پہلے ہی کئی ماہ سے پاکستان کو ایرانی گیس خریدنے سے روکنے کے لئے دبا¶ بڑھا رہا ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی بے معنی اور لغو سی قرارداد کے حوالے سے پاکستان پر بعض اقتصادی پابندیاں لگانے کی دھمکیوں میں بھی مصروف ہے۔ تاہم یہ خوش آئند بات ہے کہ گذشتہ چند روز سے واشنگٹن انتظامیہ نے بھی اپنا موقف قدرے نرم کر لیا ہے اور شاید صبر شکر کرکے خاموش اختیار کر لی ہے۔
ایران سے گیس کی خریداری پر موجودہ نازک اور حساس مرحلے پر بلاوجہ نکتہ چینی کا مطلب تو غالباً یہی لگتا ہے کہ مولانا فضل الرحمن امریکی موقف کی حمایت کر رہے ہیں کیونکہ ایران سے اقتصادی روابط ختم کرنے کی خواہش کا اعلان تو امریکہ ہی کرتا آرہا ہے۔ اس سلسلے میں حیران کن امر یہ ہے کہ اگر مولانا کو علم تھا کہ گیس خریداری پر کمیشن کھانے کے ارادے موجود ہیں تو پاک ایران معاہدے پر دستخط ہونے کے موقع پر وہ خواب خرگوش کے مزے کیوں لوٹتے رہے۔ وہ قوم کو یہ تو بتائیں کہ وہ سالہا سال سے امور کشمیر سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے کیا کچھ کر چکے ہیں۔ ان کی جانب سے پاکستان کی شاہ رگ یعنی کشمیر کی آزادی اور استصواب رائے سے متعلق سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کے بارے میں تو کبھی کوئی توانا آواز نہیں اٹھائی گئی اور اگر انہیں تحریک آزادی کشمیر کے لئے کسی بھی فورم میں نیک نیتی سے موثر آواز بلند کرنے کی توفیق نہیں ہوئی تھی تو وہ کشمیر کمیٹی کی سربراہی سے مستعفیٰ کیوں نہ ہوئے بہرحال وہ وطن عزیز کے تنگ آئے ہوئے عوام کے لئے ریلیف کا سامان بننے والے ایرانی گیس پراجیکٹ پر تنقید کرکے انتخابی سٹنٹ سے گریز کریں اور اگر الیکشن میں عوام الناس سے ووٹ لینا چاہتے ہیں تو انتخابی مہم مثبت انداز میں چلائیں۔ مولانا کی آگاہی کے لئے عرض ہے کہ پاکستان نے تاجکستان اور ازبکستان سے گیس خریدنے کی کبھی بات نہیں کی البتہ ترکمانستان سے مذاکرات چلتے رہے ہیں۔