الیکشن کمیشن اور نگران حکمرانوں کے مابین مثالی معاونت کی ضرورت

10 اپریل 2013

  قوم کیلئے انتخابات کا ایک دن کیلئے بھی التواءقابل قبول نہیں
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عارف نظامی نے نوائے وقت نیشن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ نگران حکومت کا ایک ہی مقصد ہے کہ آزادانہ و منصفانہ انتخابات نہ صرف کروائے جائیں بلکہ نظر بھی آئیں۔ الیکشن ملتوی کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں۔ الیکشن ضرور ہونگے اور وقت پر ہونگے۔ قبل ازیں اپنی اپنی نامزدگی اور حلف برداری کی تقریبات میں نگران وزیراعظم میرہزار خان کھوسو اور سب سے بڑے صوبے پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ نجم سیٹھی کہہ چکے ہیں کہ انتخابات کو التواءمیں ڈالنے کی کوشش کی گئی تو وہ اپنے گھر چلے جائینگے۔ پاکستان الیکشن کمیشن بھی بروقت اور شفاف انتخابات کیلئے فعال اور پرعزم ہے۔ سپریم کورٹ اور فوج بھی بروقت اور آزادانہ انتخابات کیلئے الیکشن کمیشن کو اپنا آئینی کردار ادا کرنے کا یقین دلا چکی ہے۔ آزادانہ‘ شفاف اور پرامن انتخابات کیلئے نگران حکومت اور الیکشن کمیشن کے درمیان مثالی کوآرڈی نیشن کی ضرورت ہے۔ نگران حکومت کا تو اولین مقصد ہی غیرجانبدارانہ اور پرامن انتخابات کا انعقاد ہے۔ انتخابی عمل بڑی خوش اسلوبی سے شیڈول کے مطابق جاری ہے مگر کچھ حلقوں کی طرف سے انتخابات کے التواءکے مطالبات بھی سامنے آرہے ہیں‘ جن پر الیکشن کمیشن اور نگران حکمرانوں نے سرے سے غور کرنے سے انکار کر دیا۔انتخابی شیڈول کے اجراءسے بھی قبل ایک کینیڈین شہری نے تین سال کیلئے عبوری سیٹ اپ لانے کا غوغا کیا تھا‘ انکی حکومتی و عوامی سطح پر کوئی پذیرائی نہیں ہوئی۔ کچھ حلقوں کی طرف سے جمہوری حکومت کی میعاد ایک سال بڑھانے کی تجاویز بھی پیش کی گئیں‘ انکو جمہوری حکومت نے ہی مسترد کر دیا تھا۔ انتخابات کیلئے صدر پاکستان کی طرف سے بڑی سوچ بچار کے بعد 11 مئی 2013ءتاریخ مقرر کی گئی ہو گی الیکشن کمیشن نے اسکے مطابق شیڈول جاری کیا۔ گزشتہ انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی اکثریتی پارٹی بن کر سامنے آئی‘ دوسرے نمبر پر پاکستان مسلم لیگ ن رہی‘ ان پارٹیوں کی طرف سے بروقت یعنی 11 مئی کو ہی انتخابات کے انعقاد پر زور دیا جا رہا ہے۔ دیگر پارٹیوں کی بہت بڑی اکثریت بھی شیڈول کے مطابق انتخابات کی حامی ہیں۔ قوم بھی یہی چاہتی ہے کہ کسی بھی حالت میں انتخابات ایک دن کیلئے بھی موخر نہ ہوں۔  الیکشن کمیشن کی بروقت اور شفاف انتخابات کیلئے فعالیت اور نگران حکومت کی حمایت اپنی جگہ لیکن بہت سے معاملات ابھی تک الجھے ہوئے نظر آتے ہیں۔ بروقت انتخابات کیلئے نگران حکمران دعوﺅں اور ارادوں کا اعادہ تو کر رہے ہیں لیکن الیکشن کمیشن کی طرح فعال نہیں ہیں۔ محض بیانات اور عزم و ارادے کے بیانات ہی انتخابی عمل بروقت اور شفاف انتخابات کیلئے کافی نہیں۔ عملی اقدامات بھی نظر آنے چاہئیں۔ بعض معاملات میں نگران حکمرانوں کی غیرجانبداری بھی سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔ دو روز قبل وزیر داخلہ ملک حبیب نے خود کو مسلم لیگ ن کا ووٹر قرار دیا۔ کسی سیاسی پارٹی سے وابستگی اور ہمدردی شجر ممنوعہ نہیں‘ لیکن جس منصب پر آپ بیٹھے ہیں‘ اس کا تقاضا ہے کہ کسی پارٹی سے وابستگی کا اظہار نہ کیا جائے۔ ایسی بے احتیاطی پر پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف نے ان سے مستعفی ہونے کا جائز مطالبہ کیا ہے۔  الیکشن کمیشن نے نگرانوں پر واضح کردیا تھا کہ وہ الیکشن کمیشن کی اجازت کے بغیر تقرر و تبادلے نہیں کر سکتے۔ الیکشن کمیشن کی اس ہدایت کی واضح خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ الیکشن کمیشن نے ڈپٹی گورنر سٹیٹ بنک کو 24 گھنٹے میں ہٹانے کا حکم دیا‘ اس پر حکومت نے عمل نہیں کرایا‘ یہ معاملہ ہائیکورٹ میں گیا جس نے دو روز قبل ان کو کام سے روکا جبکہ گزشتہ روز ڈپٹی گورنر کو کام کرنے کی اجازت دے دی‘ بہتر تھا کہ نگران حکومت الیکشن کمیشن کے حکم پر عمل کرتی۔ پنجاب میں بڑے پیمانے پر بیوروکریسی کی اکھاڑ پچھاڑ جاری ہے‘ یہ عمل دیگر تین صوبوں اور مرکز میں نظر نہیں آتا۔ نگران وزیراعظم میر ہزار خان کھوسو کے پرسنل سیکرٹری‘ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ‘ سیکرٹری کابینہ حتٰی کہ ملٹری سیکرٹری بھی وہی ہیں جو راجہ پرویز اشرف کے تھے۔ پنجاب کے علاوہ دیگر صوبوں میں بھی نگرانوں کا سٹاف بھی کم و بیش پہلے والا ہے۔ پنجاب پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے‘ آخر اس میں ہی ہر سرکاری ملازم کو بدلنے کی ضرورت کیوں پیش آگئی؟ الیکشن کمیشن نے پنجاب کے چیف سیکرٹری ناصر کھوسہ کو سندھ کا چیف سیکرٹری لگانے کی سفارش کی لیکن وزیراعظم کھوسو نے انہیں وفاقی سیکرٹری خزانہ لگا دیا۔ دیگر شواہد بھی موجود ہیں جن سے الیکشن کمیشن اور نگران حکومت کے مابین اس مفاہمت‘ اعتماد اور تعاون کا فقدان نظر آتا ہے جو بروقت اور شفاف انتخابات کی متقاضی ہے۔ اس میں زیادہ ذمہ دار نگران حکومتیں ہیں‘ جن کا ایجنڈا اور مینڈیٹ ہی انتخابات کے انعقاد میں الیکشن کمیشن کی معاونت ہے۔  الیکشن کمیشن اور نگران حکومت کو مل جل کر ابھی بہت کچھ کرنا ہے‘ پورے ملک میں انتخابات کیلئے فضا کو سازگار بنانا انکی اولین ذمہ داری ہے۔ یورپی یونین کے انتخابی مبصرین نے بلوچستان اور فاٹا میں امن و امان کی مخدوش صورتحال کے باعث ان علاقوں میں جانے سے انکار کردیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے بدامنی کے پیش نظر بلوچستان کے دس اضلاع میں فوج کی زیر نگرانی انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ الیکشن کمیشن اپنے اقدامات سے یورپی یونین کے مبصرین کو بھی آگاہ کرے‘ ان کو فول پروف سکیورٹی کا یقین دلائے‘ دیگر علاقوں میں جہاں بھی امن و امان کا مسئلہ ہے‘ وہاں فوج طلب کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ انتخابات کے دوران کسی بھی صورت ماحول پرامن ہونا چاہیے۔ملک کے بہت سے علاقوں میں خواتین کو انتخابات میں حصہ لینے سے روکا جاتا ہے‘ آج ہم 21ویں صدی میں زندگی گزار رہے ہیں‘ جس میں خواتین خلا تک جا پہنچی ہیں لیکن کچھ اسلامی تعلیمات سے نابلد لوگ خواتین کو انکے بنیادی حقوق سے محروم کر رہے ہیں۔ سپریم کورٹ نے اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کی سہولت فراہم کرنے کا حکم دیا تھا الیکشن کمیشن اس حوالے سے بہانہ سازی سے کام لے رہا ہے۔ اب جواز پیش کردیا کہ قانون موجود ہے نہ کمپیوٹر محفوظ‘ اس لئے بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کی سہولت نہیں دے سکتے۔ اپیلیں نمٹانے کے مرحلے کے بعد امیدواروں کی حتمی لسٹ شائع ہو جائیگی‘ اسکے بعد انتخابات میں 25 دن ہونگے‘ اگر آپ کے پاس محفوظ کمپیوٹر سسٹم نہیں ہے تو دیگر ذرائع سے ووٹ منگوائے جا سکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے تو سرے سے ہی ہتھیار ڈال دیئے۔ الیکشن کمیشن اور نگران حکومت بروقت اور شفاف انتخابات کیلئے جس طرح عزم و ارادے کا اظہار کرتے ہیں‘ اسی طرح انکی سمت بھی ایک ہونی چاہیے۔ اس کیلئے دونوں کے مابین مثالی کوآرڈی نیشن کی ضرورت ہے‘ بالخصوص نگران حکمرانوں کو کسی کے ایجنڈے کا حصہ نہیں بننا چاہیے کیونکہ قوم کیلئے انتخابات کا ایک دن کیلئے بھی التواءقابل قبول نہیں ہوگا ۔ اس کا واحد مقصد انتخابات کے انعقاد میں الیکشن کمیشن کی معاونت ہے‘ وہ خود کو اسی تک محدود رکھیں۔ الیکشن کمیشن بھی کسی معاملے میں غفلت کا شکار نہ ہو‘ خواتین اور بیرون ممالک پاکستانیوں کو ووٹ کی سہولت فراہم کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کرے۔