سیاسی جماعتوں کی مشکلات اور تعلیمی ترقی کی قابل قدر تجاویز

10 اپریل 2013

یوں لگتا ہے ان دنوں سیاسی جماعتوں بالخصوص مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کیلئے انتخابی امیدواروں کو ٹکٹ جاری کرنا شاید انتخابات جیتنے سے زیادہ مشکل مسئلہ بنا ہوا ہے اور سیاسی قائدین کو ”ایک انار سو بیمار“ والی صورتحال درپیش ہے مختلف علاقوں کے کارکن اپنی اپنی پسند کے امیدواروں کے حق میں مہم چلا رہے ہیں لاہور سے (ن) لیگ کے ماجد ظہور‘ شیخوپورہ سے عارف خان سندھیلہ‘ قصور سے خادم حسین قصوری اور دیگر اسی طرح تحریک انصاف کے لاہور میں حلیم خان گروپ اور محمود الرشید گروپ میں ٹکٹوں کے لئے کارکنوں کی جانب سے اپنی اپنی قیادتوں پر دبا¶ ڈالا جا رہا ہے تاہم ان دونوں کی جانب سے گروپ بندی کی تردید کی جائے گی اور بیان دیا جائے گا کہ وہ شیر و شکر سے بھی زیادہ گھلے ملے ہوئے ہیں۔ قصور سے (ن) لیگ کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ آئندہ انتخابات میں ٹکٹ ان لوگوں کو دیا جائے جو 12 اکتوبر 1999ءسے مسلسل (ن) لیگ سے وابستہ رہے مقامی سطح پر ایسے لوگوں میں خادم حسین قصوری کا نام لیا جا رہا ہے بعض کارکنوں نے ان خدشات کا اظہار کیا کہ قصور کے حلقہ این اے 140 اور 141پی پی 179, 178 سے ایسے لوگوں کو نوازا جا رہا ہے جو مشرف آمریت کے دست و بازو رہے ہیں۔ بہرحال ماجد ظہور‘ عارف خان سندھیلہ اور خادم حسین قصوری جیسے کئی کارکنوں کو مقامی کارکنوں کی جو حمایت حاصل ہے (ن) لیگ کی قیادت اس سے بخوبی آگاہ ہو گی ٹکٹ بہرحال کسی ایک کو ہی ملے گا جس کے حصول کے لئے خود امیدوار اور اس کے حامی کارکن جتنا زور لگائیں یہ ان کا حق ہے لیکن جب کسی ایک کو ٹکٹ مل جائے تو اسے خوش دلی سے قبول کرکے اس کی کامیابی کے لئے جدوجہد میں عملی شرکت ان کا فرض ہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ 2008ءکے انتخابات کی طرح پیپلز پارٹی اور ق لیگ کے ٹکٹوں کے سلسلے میں ہیجانی کیفیت دیکھنے میں نہیں آرہی جماعت اسلامی ایک منظم جماعت ہے ٹکٹوں کے حوالے سے وہاں کی آپا دھاپی دیکھنے میں نہیں آئی۔ اے این پی مخصوص صورتحال اور بعض خاص ایجنڈے کی ضرورت کے تحت اقتدار کے سنگھاسن تک پہنچا دی گئی اس کے وزراءاور ارکان اسمبلی رہنے والوں کو ہی دوبارہ انتخابی اکھاڑہ میں اتارا جائے گا متحدہ قومی موومنٹ کی جمہوریت قائد تحریک کے ہر حکم کے آگے سرنگوں ہونا ہے قائد کے حکم سے سرتابی غداری کے مترادف ہے اور غدار جس چیز کا حقدار ہے وہ کراچی کے لوگ دیواروں پر لکھا پڑھتے رہے ہیں اگر اسے ڈسپلن کا خوبصورت نام دے دیا جائے تو پھر یہ فوج کی طرح ہے جہاں جنرل (ر) اسلم بیگ کے بقول کسی لیفٹیننٹ جنرل کی بھی کیا مجال کہ چیف کے سامنے چوں کر سکے“ جمعیت علماءاسلام (ف) میں بھی کچھ اس قسم کا ڈسپلن ہے لیکن اس کی بنیاد عقیدت ہے اور کسی بھی سطح کا اختلاف کیونکہ عقیدت کی نفی ہے اس لئے عقیدت مند مولانا کے سامنے ”چوں“ کیا ”سی“ تک نہیں کرتے حافظ حسین احمد کا انجام سامنے ہے اور جب تک مولانا محمد خان شیرانی کو پارٹی میں سیکنڈ ان کمانڈ کی پوزیشن حاصل ہے حاظ حسین احمد بہار کی امید میں جب تک حوصلہ ہے شجر سے پیوستہ رہ سکتے ہیں۔ بہرحال اب تمام جماعتوں کے حتمی امیدواروں کا اعلان دنوں بعد گھنٹوں کی بات ہے کون سرفراز ہوتا ہے اور کون منفی ردعمل کا شکار ہوتا ہے۔ جلدسامنے آجائے گا۔
سید اعزاز حیدر جعفری جو مسلم ٹیچرز فیڈریشن پاکستان‘ یوگنڈا‘ علی گڑھ اور لندن کے چیئرمین ہیں نے اپنے تدریسی تجربات کی روشنی میں تعلیمی ترقی کے سلسلے میں بعض قابل توجہ تجاویز پیش کی ہیں نگران وزیراعلیٰ نجم سیٹھی بسنت کی بجائے ایسی مثبت تجاویز پر توجہ دیں تو ان کی نیک نامی ہو گی ان تجاویز میں نہ تو دین اسلام کا حوالہ ہے نہ ہی یہ نظریہ پاکستان کی بنیاد پر ہیں اس لئے ان میں کسی کے بدکنے کا پہلو نہیں ہے سید اعزاز حیدر تجویز کرتے ہیں کہ بہترین تعلیمی نتائج کے لئے غیر تدریسی فرائض اساتذہ کو سونپنے چاہئیں یعنی ہر کلاس کے حاضری رجسٹر‘ طلبا کی حاضری کی بالکل صبح رپورٹس‘ فیسوں کی وصولی‘ فنڈز اور سٹاکس کے رجسٹر‘ لائبریری‘ داخلے‘ نتائج‘ سپورٹس‘ خریداری‘ سکول انتظامیہ‘ سٹاف کی سروس بکس‘ اکا¶نٹس آفس کے بل‘ مانیٹرنگ رپورٹس‘ اساتذہ اور طلبا کی چھٹیوں کی درخواستیں وغیرہ کا کام ایسے کلرکوں سے لیا جائے جو کمپیوٹرز کی مہارت رکھتے ہوں اور جبکہ معاون نصابی سرگرمیاں‘ لیبارٹری پریکٹیکلز پرچہ جات کی تیاری و پڑتال‘ ہوم ورک بکس‘ مضمون وار ٹیسٹس‘ سپورٹس‘ اور سیکشنوںکی دیکھ بھال وغیرہ کے فرائض ہیڈ ماسٹرز‘ پرنسپلز سیکنڈ ہیڈ ماسٹر اور ڈپٹی پرنسپلز انجام دیں جہاں تک دفتر تعلیم کی جانب سے ذمہ داریوں سیلاب‘ ووٹروں کے اندراج‘ انتخابات کے لئے پولنگ‘ انتخابات اور مارکنگ کے لئے ایسے سرکاری سکولوں کے ریٹائرڈ اساتذہ اور ایسے پرائیویٹ سکولوں کے اساتذہ کے جن کا تعلیمی بورڈز سے الحاق ہو اور جو اساتذہ بڑھاپے کی پینشن‘ سوشل سکیورٹی اور این ٹی این کارڈز رکھتے ہوں ان سے یہ کام لیا جائے اس طرح اساتذہ سے اضافی بوجھ کا خاتمہ اور تدریسی اوقات میں اضافہ ممکن ہو گا اور وہ صرف تدریسی فرائض انجام دے سکیں گے۔ پانچویں اور آٹھویں کلاسوں کے لئے ابتدائی امتحانی بورڈز کی بھی ضرورت ہے تاکہ نویں اور دسویں کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔ ٹیکسٹ بک بورڈ کی جانب سے نصابی کتب کے ساتھ تدریسی معاونت کرنے والے آڈیو اور ویونزویل سی ڈیز‘ ماہانہ سلیبس کے مطابق ماڈل پیپرز بھی فراہم ہونے چاہئیں اساتذہ کو ممتاز سماجی‘ معاشی رقبہ دیا جانا چاہئے۔ یہ ایک استاد کے تدریسی تجربات کا نچوڑ ہے۔ اس لئے ان تجاویز پر ضرور توجہ دی جانی چاہئے۔ مبشر رضا کا سیکرٹری تعلیم ہونا نیک شگون ہے ان سے بہتر توقعات کی جا سکتی ہیں۔