سیاسی ڈیروں پر رونقیں

10 اپریل 2013

دو روز پیشتر راقم کو مون لائٹ سکول شاہ جہانگیر روڈ گجرات میں روزنامہ نوائے وقت کے چیف ایڈیٹر جناب مجید نظامی کی سالگرہ کی تقریب میں شرکت کے لئے جانا پڑا۔ راقم نے جناب مجید نظامی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نظریاتی صحافت کا پرچم بلند رکھنے کے ساتھ ساتھ نئی نسل کی نظریاتی بنیادوں پر ذہنی آبیاری کا بیڑا اٹھا رکھا ہے۔ مجید نظامی نے اپنے برادر گرامی حمید نظامی کی قوم ساز صحافتی وراثت کو بہت زیادہ وسعت دی ہے۔ حمید نظامی نے نوائے وقت کی 22 سال تک پرورش کی۔ مجید نظامی کو یہ ذمہ داری اٹھائے 50 سال سے زائد عرصہ گزر گیا ہے اور تین ہارٹ بائی پاسز کے باوجود اللہ تعالیٰ نے انہیں چاق و چوبند رکھا ہے۔ اس دوران انہوں نے اپنی نظریاتی صحافتی تحریک کے حوالے سے اپنی سرگرمیوں میں بہت اضافہ کیا ہے۔ جناب مجید نظامی دنیائے صحافت کا ایک روشن ستارہ ہیں جو تمام مکتبہ فکر کے لئے مشعل راہ ہیں ہم ان کی 50 سالہ صحافتی خدمات پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ ہماری اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ آپ کو صحت اور تندرستی عطا فرمائے۔ کاشف ادیب اور سکول کے طلبا ریحان اطہر، محمد اکرم طالبات شگفتہ نسیم اور زیان کاشف نے بھی مجید نظامی کی صحافتی خدمات کو سراہا اور کہا کہ پاکستان کے بعد نوائے وقت کا بے لاگ کردار ہماری تاریخ کا روشن باب ہے اور مجید نظامی کا دوسرا نام پاکستان ہے۔ اس تقریب کے بعد راقم نے گجرات شہر کا چکر لگایا تو پتہ چلا ہے کہ گجرات میں سیاسی ڈیروں پر رونقیں بحال ہو گئی ہیں۔ اب پانچ سال تک قوم کا خون چوسنے والے نت نئے ڈراموں اور نعروں سے عوام کے سامنے جا رہے ہیں اور عوام کو سبز باغ دکھا رہے ہیں۔ ڈسٹرکٹ بار گجرات کے سابق سیکرٹری صابر علی چیمہ کا کہنا تھا کہ انتخابی سیاست روز اول سے چند دل فریب نعروں کے گرد گھومتی ہے مگر آنے والی حکومت بھی انہیں عملی شکل نہیں دے سکے گی۔ راقم کی دورہ گجرات کے دوران مسلم لیگ (ق) کے سینئر مرکزی رہنما چودھری پرویز الٰہی سے بھی ملاقات ہوئی۔
ان کا کہنا تھا کہ گجرات کے حلقوں این اے 105 اور 104 میں پیپلز پارٹی اور نواز لیگ ہمارے خلاف الیکشن لڑ رہی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ ہمارے خلاف ایک دوسرے کے اتحادی ہیں۔ ہم اللہ کے فضل، عوام کی طاقت اور خدمت کی وجہ سے جیتیں گے (ن) اور پیپلز پارٹی کا اتحاد انشاءاللہ کسی کام نہیں آئے گا۔ گجرات کے عوامی حلقوں نے راقم کو بتایا کہ پیپلز پارٹی کے رہنما احمد مختار چودھری پرویز الٰہی کے مقابلے میں الیکشن لڑ رہے ہیں لیکن کامیابی کے زیادہ امکانات چودھری پرویز الٰہی کے ہیں۔ راقم کی گجرات کے ڈی پی او ڈار علی خٹک سے بھی ملاقات ہوئی‘ ان کا کہنا تھا کہ الیکشن مہم کے دوران ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے لائسنسی اور غیر لائسنسی اسلحہ کی نمائش پر پابندی ہو گی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا اور مقدمات درج کئے جائیں گے۔ ضلع گجرات میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا میری اولین ترجیح ہے۔ الیکشن کے حوالے سے گجرات کے ڈی سی او آصف بلال لودھی سے بھی راقم کی بات چیت ہوئی ان کا کہنا تھا کہ انتخابات کے دوران امن و امان کی صورتحال کنٹرول کرنے کے لئے خصوصی پلاننگ اور منصوبہ بندی کی جا رہی ہے اور کسی بھی شخص کو انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ گجرات کے افسران سے ملاقات کے بعد راقم پریس کلب جہلم گیا تو وہاں کے صحافیوں نے میرا والہانہ استقبال کیا۔ جہلم پریس کلب کے سرپرست اعلیٰ حاجی امتیاز خان سرپرست راجہ وقار اور صدر ڈاکٹر سہیل امتیاز خاں چیئرمین چودھری سہیل عزیز سینئر نائب صدر ریاض گوندل جنرل سیکرٹری دل نواز روزنامہ جذبہ جہلم کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر ڈاکٹر محمد خلیل پریس کلب کے بانی محمود مرزا جہلمی نے پریس کلب جہلم میں میٹ دی پریس کا اہتمام کر رکھا تھا۔ راقم نے میٹ دی پریس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نجم سیٹھی کو وزیر اعلیٰ پنجاب بنانا ہمارے لئے بڑے کریڈٹ اور اعزاز کی بات ہے، ہم امید کرتے ہیں کہ وہ پنجاب میں صاف اور شفاف الیکشن کروائیں گے، میرٹ پر کام کریں گے۔ اب صحافیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ چوروں، لٹیروں خصوصاً سیاستدانوں کی کرپشن کو بے نقاب کریں تاکہ کرپٹ لوگ دوبارہ نہ آ سکیں۔ اس سلسلے میں عوام کو شعور دینا ہو گا کہ وہ اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کریں۔ حال ہی میں الیکشن کمشن نے چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹری اور وفاقی حکومت کو یہ حکم جاری کیا ہے کہ صرف سیکرٹری ہی نہیں بلکہ پٹواری سے لے کر تمام خود مختار، نیم خود مختار اداروں کے سربراہان، چیف کمشنرز، آئی جی، سی سی پی او، ڈی پی او، تھانیدار تک تبدیل کر دئیے جائیں۔ یہ حکم غالباً اس خدشے کے پیش نظر دیا گیا ہے کہ بااثر نوکر شاہی انتخابی عمل پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔ اس شبہ کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سابق وفاقی اور صوبائی حکومتیں جاتے جاتے جہاں اور بہت سے کام کر گئیں ان میں سے ایک کام یہ کیا کہ اپنی مرضی کے افسران تعینات کر گئیں تاکہ انتخابات میں تعاون حاصل کیا جا سکے۔ ہم نہیں کہہ سکتے کہ الیکشن کمشن کو ایسا حکم جاری کرنے کا اختیار ہے یا نہیں لیکن ایک اشتباہ ہے کہ جن اعلیٰ افسران کا تبادلہ کیا جائے گا وہ کسی نہ کسی اہم منصب پر ہی جائیں گے اور وہاں بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ اب ایک وفاقی سیکرٹری کو تبدیل کرکے کہیں کلرک تو نہیں لگایا جا سکتا۔ ایک تھانیدار کو بدلا جائے گا تو اس کی جگہ دوسرا ہی آئے گا۔ اس کے بارے میں کیا ضمانت ہے کہ وہ اثرانداز نہیں ہو گا۔ خود نگران حکومتوں سے بھی سو فیصد غیر جانبداری کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ ان کی بھی اپنی پسند ناپسند ہو گی، کسی کی طرف رجحان ہو گا۔ ان کو کیسے غیر جانبدار بنایا جائے گا؟ جانبداری کے لئے سو ڈھنگ اختیار کئے جا سکتے ہیں۔ یوں بھی نگران وزیراعظم سے لے کر صوبوں میں نگران وزراءاعلیٰ تک جناب زرداری ہی کا انتخاب ہیں۔ پٹواری، تھانیدار یا دیگر افسران حکومت کا منہ دیکھ کر حرکت میں آتے ہیں۔ ان کی مثال ایک ایسے ڈنڈے کی طرح ہے جو اس کے اشارے پر چلتا ہے جس کے ہاتھ میں ہو ان تبادلوں سے شاید کچھ زیادہ فرق نہ پڑے۔ اصل ذمہ داری تو الیکشن کمشن کی ہے کہ وہ نہ صرف نگران حکومتوں پر بلکہ افسر شاہی پر بھی کڑی نظر رکھے کہ کوئی انتخابی عمل پر غلط طریقے سے تو اثرانداز نہیں ہو رہا۔