پرویز مشرف کی انتخابی مہم اور غداری کیس

10 اپریل 2013

غداری کیس : ریاست مشرف اور انکے شریک کاروں کیخلاف کارروائی کرے‘ سپریم کورٹ‘ اس کیس پر آئین کی بنیاد کھڑی ہے کیوں نہ ان کیخلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کی جائے۔ عدالتی حکم۔ ملک چھوڑ کر نہیں جاﺅں گا، مقدمات کا ڈٹ کر مقابلہ کروں گا۔ پرویز مشرف میرے بیٹے بیٹی یا خاندان کے کسی فرد نے کرپشن نہیں کی ۔ساہیوال سے انتخابی مہم کا آغاز کروںگا۔مجھے پاکستانی سیاست سے دور رکھنے کی سازشیں ہورہی ہیں مگر ملک کو درپیش مسائل حل کرنے کیلئے اپنا کردارادا کروںگا۔سابق صدر پرویزمشرف صاحب جب مکافات عمل کا شکار کر اور عدلیہ سے ٹکر لینے کے نتیجہ میں انہیں ملک سے فرار ہونا پڑا تو ساری زندگی صدر بنانے کے دعویٰ کرنیوالے بھی ایک ایک کرکے ان کو چھوڑتے چلے گئے جب وہ دوبارہ وطن واپس آئے ہیں تو ایک طرف یکے بعد دیگر ے عدالتوں میں ان کیخلاف مقدمات کھل رہے ہیں،انکے باہر جانے پر پابندی لگ چکی ہے۔ گزشتہ روز سپریم کورٹ میں آئین کی خلاف ورزی پر آرٹیکل 6 کے تحت غداری کے مقدمہ میں عدالت نے انہیں اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کر دیا ہے اور عدلیہ نے واضح کیا ہے کہ آئین توڑنا ایسا جرم ہے جس پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ وفاقی حکومت نے اس پر اب تک ایکشن کیوں نہیں لیا؟ اس صورتحال میں کہ عوام کی طرف سے انہیں وہ حمایت نہیں ملی جسکا انہیں زعم تھا انکے سارے پرانے حمایتی انہیں فراموش کرچکے ہیں۔اسکے باوجود ان کا یہ بیان خاصہ تعجب خیز ہے کہ وہ ملک کو مسائل سے نکالنے میں اپنا کردارادا کرینگے جبکہ ملک کو مسائل کے ان گرداب میں خود مشرف صاحب نے بھی پھنسایا ہے رہی بات کرپشن نہ کرنے کی تو یہ کروڑوں روپے کے اثاثے فارم ہاﺅس اور پُر تعیش زندگی کیا یہ سب ”عطیہ خداوندی “ہے۔ چک شہزا کے پُر تعیش محل سے نکل کر الیکشن مہم پر باہر آئیں تو انہیں پتہ چلے کہ عوام اپنے ” اس محسن“ کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیںاسکی ایک جھلک تو وہ کراچی میں دیکھ چکے ہیں۔ انکی سکیورٹی کیلئے یہی بہتر ہے کہ وہ مقدمات سے سپریم کورٹ میں نمٹیں اور عوام کی عدالت سے محفوظ ہی رہیں۔