سیاسی جماعتوں کے منشور اور فلاحی ریاست

10 اپریل 2013

ان دنوں مختلف سیاسی جماعتوں کے منشور اور ان جماعتوں کے رہنماﺅں کے جو بیانات شائع ہو رہے ہیں ان میں پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا، مزارعوں اور ہاریوں کو جاگیرداروں اور زمینداروں کے شکنجے سے آزاد کرانا، غربت، بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ، کی نوید سنائی جاتی ہے۔جمعیت العلماءاسلام کے امیر مولانا فضل الرحمٰن نے مینار پاکستان کے زیر سایہ اسلام زندہ باد کانفرنس سے اپنے خطاب میں کہا۔ ملک میں اسلامی فلاحی نظام کو لایا جائے گا۔ ملک کو فلاحی ریاست بنانا ہے۔ مزدوروں کو اس کا مقام دلائیں گے۔ مزدوروں کو غلام نہیں بننے دیں گے۔
یکم اپریل کو متحدہ قومی موومنٹ نے اپنے منشور کا اعلان کیا۔ اس میں کہا گیا کہ زمین کی حد مقرر کرکے اس حد سے زیادہ زمینوں کو بے زمین ہاریوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ ایم کیو ایم پاکستان کو قائداعظم محمد علی جناح اور بانیان پاکستان کے تصورات کے مطابق ایک فلاحی ریاست بنائے گی۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے بھی پاکستان کو فلاحی ریاست بنانے کا اعلان کیا۔جنرل (ر) پرویز مشرف کی آل پاکستان مسلم لیگ نے اپنے منشور میں لکھا۔ مہنگائی، بھوک، افلاس کا خاتمہ اور روزگار میں اضافہ، دہشت گردی اور انتہا پسندی کی روک تھام، عدل اور انصاف کے جلد حصول کے لئے عدالتی اصلاحات۔
مسلم لیک (ن) نے اپنے ہر منشور میں لکھا۔ غربت کے ساتھ جہاد کیا جائے گا۔ جس سے ایک عشرے کے بعد ہر پاکستانی اپنی بنیادی ضروریات روٹی، کپڑا، مکان، تعلیم اور صحت کو پورا کر سکے گا۔پیپلز پارٹی نے اپنے ہر منشور میں لکھا۔ استحصال، ظلم، بے انصافی، جبر، بھوک اور افلاس سے پاک معاشرہ تشکیل دیا جائے گا۔عوامی نیشنل پارٹی نے اپنے منشور میں جو بنیادی اصول بیان کئے وہ یہ ہیں۔ جمہوریت کا قیام، قومی نہ برابری کا خاتمہ، سامراجیت سے نجات، سماجی انصاف۔میں نے ان سیاسی جماعتوں کے منشور میں سے چیدہ چیدہ نکات لکھے ہیں جو برسر اقتدار یا شراکت اقتدار رہ چکی ہیں۔عوام خود فیصلہ کریں کہ کیا ان جماعتوں نے اپنے منشور پر عمل کیا اور کیا پاکستان کو صحیح معنوں میں فلاحی ریاست بنانے کی کوشش کی۔
جہاں تک جاگرداری، غربت کا خاتمہ اور پاکستان کو فلاحی ریاست بنانے کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں قائداعظم کے ارشادات ہمارے سامنے ہیں۔ انہوں نے 1943ءمیں دہلی میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں اپنے صدارتی خطاب میں فرمایا ”اس مقام پر میں زمینداروں اور سرمایہ داروں کو بھی متنبہ کرنا چاہتا ہوں۔ وہ ایک ایسے فتنہ انگیز ابلیسی نظام کی رو سے، جو انسان کو ایسا بدمست کردیتا ہے کہ وہ کسی معقول بات کے سننے کے لئے آمادہ نہیں ہوتا۔ عوام کے گاڑھے پسینے کی کمائی پر رنگ رلیاں مناتے ہیں۔ عوام کی محنت کو غصب کر لینے کا جذبہ ان کے رگ و پے میں سرایت کر چکا ہے۔ میں اکثر دیہات میں گیا ہوں۔ میں نے دیکھا ہے کہ لاکھوں خدا کے بندے ہیں جنھیں ایک وقت بھی پیٹ بھر کر روٹی نہیں ملتی۔ کیا اسی کا نام تہذیب ہے؟ کیا یہی پاکستان کا مقصود ہے؟ اگر ان سرمایہ داروں کے دماغ میں ہوش کی ذرا سی بھی رمق باقی ہے تو انہیں زمانے کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے ساتھ چلنا ہوگا۔ اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو ان کا خدا حافظ۔ ہم ان کی کوئی مدد نہیں کر سکیں گے۔
یکم مارچ 1945ءکو مسلم لیگ ورکرز سے کلکتہ میں خطاب کرتے ہوئے قائد نے فرمایا ”میں ایک بوڑھا آدمی ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے مجھے اتنا دے رکھا ہے کہ میں اپنی اس بڑھاپے کی زندگی کو نہایت آرام و سہولت سے گزار سکوں۔ مجھے کیا ضرورت پڑی ہے کہ میں دن رات بھاگے بھاگے پھروں اور اپنا خون پسینہ ایک کردوں۔ میں یہ تگ و تاز سرمایہ داروں کے لئے نہیں کررہا۔ میں یہ محنت شاقہ آپ غریبوں کے لئے کررہا ہوں۔ میں نے ملک میں درد انگیز مفلسی کے مناظر دیکھے ہیں۔ ہم کوشش کریں گے کہ پاکستان میں ہر فرد خوشحالی کی زندگی بسر کرسکے“ قائداعظم نے بے تیغ و سناں، چومکھی لڑائی لڑ کر ایک عظیم مملکت حاصل کرلی۔ سیاست دانوں نے اس مملکت کا کیا حال کر دیا ہے وہ آپ کے سامنے ہے۔
سیاسی جماعتوں اور سیاست دانوں سے انکار ممکن نہیں۔ سیاسی جماعتیں نہ صرف عوام کی سیاسی تربیت کریں بلکہ اپنا محاسبہ بھی کریں۔ سیاسی جماعتوں کو ہمیشہ جمہوریت کی علمبردار ہونا چاہئے اور ڈکٹیٹر شپ کا راستہ روکنا چاہیئے۔ اگر حکومت کسی وقت عوام کے خلاف کوئی پالیسی اختیار کرے یا عوام کی مرضی کے خلاف کوئی قانون سازی کرے تو سیاسی جماعتیں اس پر احتجاج کریں اور عوام کو ان پالیسیوں سے آگاہ کرتی رہیں۔اتوار 7اپریل کو مسلم لیگ (ق) نے اپنے منشور کا اعلان کردیا ہے۔ ق لیگ نے بھی اپنے منشور میں لکھا کہ ”ق لیگ کا مقصد جمہوری فلاحی ریاست اور آزادی اظہار کو یقینی بنانا ہے“
سوال اٹھتا ہے کہ مسلم لیگ ق کے مرکزی رہنما چوہدری پرویز الہی، جنرل پرویز مشرف کے زیر سایہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ رہے۔ اس دوران میں وہ کم از کم پنجاب ہی کو ”جمہوری فلاحی ریاست“ بنا دیتے۔