طویل لوڈشیڈنگ کیخلاف عوامی احتجاج

10 اپریل 2013

 بد ترین لوڈشیڈنگ پر مختلف شہروں میں مظاہرے توڑ پھوڑ۔ ٹیکسٹائل ملز کی ایک شفٹ کی بجلی بند ،واپڈا نے آج باقی شفٹوں کی بجلی بند کرنے کی دھمکی دیدی۔احتجاجی تحریک چلائیں گے۔چیئر مین اپٹما ۔رحیم یار خان میں مظاہرین کی واپڈا آفس میں توڑ پھوڑ ۔گوجرانوالہ میں جی ٹی روڈ بلاک کردی، لاہور میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 15گھنٹے ہوگیا۔کوئی دھمکی نہیں دی ، واپڈاترجمان کی وضاحت ۔بجلی کے طویل غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے تنگ آئے لوگوں نے ایک مرتبہ پھر سڑکوں پر نکل کر توڑ پھوڑ کرکے احتجاج شروع کردیا ہے اسکے باوجود نگران حکومت اور واپڈا حکام کی طرف سے اس بارے میں کوئی نرم پالیسی سامنے نہیں آرہی۔عوام الناس بجلی بل پورے ادا کر رہے ہیں اسکے باوجود وہ بجلی سے محروم ہیں ۔لوڈشیڈنگ کے اس عذاب کا بڑا نشانہ بد قسمتی سے صوبہ پنجاب بنا ہوا ہے جہاں شہری علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 15گھنٹے اور دیہی علاقوں میں 20 گھنٹے تک ہے۔اوپر سے پنجاب میں ٹیکسٹائل ملز کی ایک شفٹ کی بجلی بھی واپڈا نے بند کردی ہے جس سے صنعتی عمل بری طرح متاثر ہورہا ہے جس کیخلاف ایپٹما نے احتجاجی تحریک کی دھمکی بھی دی ہے۔ بجلی کی بندش کے باعث پانی کی قلت نے بھی شہریوں کو پریشان کررکھا ہے اور تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق عوام کی طرف سے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے اور توڑ پھوڑ کے واقعات سامنے آئے ہیں۔وفاقی وزیر پانی و بجلی نے اعلان کیا ہے کہ1500 میگا واٹ بجلی سسٹم میں شامل کی گئی ہے اگر ایسا ہوا ہے تو پھر اسکا فائدہ عوام کو بھی ملناچاہئے ابھی تک عوام کو کوئی ریلیف نہیں ملا۔واپڈا حکام اور حکومت کا فرض ہے کہ وہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے ناکہ انکے صبر کا امتحان لے۔