نہیں نہیں ---!

10 اپریل 2013

 یہ بات غالباً 2009ءکی ہے جب انکل خالد احمد ہمارے گھر تشریف لائے اور ابو کے بتانے پر کہ میری یہ بیٹی بھی لکھنے کا شوق رکھتی ہے۔ انہوں نے بڑی خوشی کا اظہار کیا اور ساتھ ہی نہایت اپنائیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے چائے کے ساتھ اپنا کچھ لکھا ہُوا سُنانے کا کہہ دیا۔ کچھ دیر بعد ہی میں چائے کے بڑے ٹرے کیساتھ انکے سامنے والی نشست پر موجود تھی، انہیں اپنی ایک تحریر سنائی جو ایک روزنامہ کے خواتین میگزین میں شائع ہو چکی تھی۔ اس پر انہوں نے بڑی مسرت کا اظہار کیا اور ساتھ ہی مجھے ایک انمول نصیحت کی کہ ”آپکی تحریر کے آخر میں تبلیغ ہے وہ مت کرو صرف اپنے دل کی بات لکھو۔“
اسکے بعد انکی شفقت تھی کہ وہ میری ایک تحریر ماہنامہ ”بیاض“ میں شائع کرنے کیلئے لے گئے اور جاتے ہوئے انکل نے بڑے معصوم طریقے سے مسکراتے ہوئے کہا کہ بیٹا آپ کا لکھا ہوا مجھے اچھا لگا اور پھر انتہائی شرارتی انداز میں مجھ سے پوچھنے لگے کہ ”بیٹا آپ کو کبھی سمجھ آیا ہے کہ آپکے ابو لکھتے ’کیا‘ ہیں؟“ انہوں نے ’کیا‘ پر اتنا زور دیا کہ بے اختیار میں ہنس پڑی اور ابو بھی اس گفتگو سے محظوظ ہوتے رہے! ابو کی اور انکل کی معصوم خوبصورت چھیڑ خانی چلتی رہی، جس میں اس دن مجھے بھی شامل رہنے کا شرف حاصل ہوا اور اس دن ان دونوں کے ساتھ ساتھ میں نے بھی کتنے کپ چائے پی لی وہ بھی ایک حیران کن امر تھا۔ جاتے ہوئے انکل نے مجھے ایک اور نصیحت کی کہ ”لکھتی رہنا کبھی لکھنا چھوڑنا مت، انشاءاللہ آپ بہت آگے جاﺅ گی“ اس سلسلہ میں انہوں نے مجھے کچھ مشکل الفاظ اور ان کے فرق بھی لکھ کر دیے اور ساتھ تاکید کی کہ ان کا مطلب اور فرق کسی سے مت پوچھنا بلکہ اس وقت کا انتظار کرنا جب آپ کو خود ان لکھے ہوئے الفاظ کے مطلب سمجھ آئیں اور یقیناً آپ بہت جلد خود سمجھنے کے قابل ہو جاﺅ گی۔“
میں نے ایسا ہی کیا اسکے متعلق کسی سے ذکر نہ کیا اور وہ کاغذ جس پر انہوں نے میرے لئے سطور لکھیں میری ڈائری میں محفوظ ہے اور بے تاب ہے کہ کب اس کو بغور سمجھا جائے۔ انکل خالد احمد اور ابو کے درمیان محبت بھری لفظوں کی، جملوں کی جنگ ادبی بیٹھک میں بیٹھے ہر فرد کو محظوظ کرتی۔ ابو اور انکل کو لیلیٰ مجنوں، ہیر رانجھا اور نہ معلوم کن کن القابات سے پکارا جاتا اور انہیں ازراہِ تفنن ایک دوسرے کی محبوبہ بھی کہا جاتا تھا، ابو اکثر ان پر چوٹ کیا کرتے کہ .... ع
”کون کہتا ہے میرا محبوب گنجا ہے“
جس پر محفل کشتِ زعفران بن جایا کرتی اور ابو اکثر بھری محفل میں انکل کو تنگ کرنے کیلئے کہا کرتے کہ میں اپنی محبوبہ سے کچھ ادھار لینے کی کوشش کرنے لگا ہوں اور وہ منظر قابل دید ہوتا جب ابھی ابو اپنی نشست سے اٹھتے ہی تھے کہ انکل خالد احمد بآواز بلند ” نہیں نہیں “ کہتے ہوئے اپنے ”سگریٹ جیب میں رکھتے دکھائی دیتے!
انکل اکثر صبح اُٹھ کر ابو کا کالم دیکھتے تو فوراً صبح ہی فون کر دیتے حالانکہ انہیں پتا ہوتا تھا کہ ابو ابھی سو رہے ہوں گے لیکن انکا مقصد یہی ہوتا تھا کہ ابو سے بات نہ ہو، بس ان تک پیغام پہنچا دیں۔ فون اکثر اوقات میں اٹھایا کرتی اور روز ہی جملہ سُننے کو ملتا کہ ”بیٹا ابو کو سلام دینا اور پوچھنا کہ آج انہوں نے لکھا ”کیا“ ہے؟ اور ’کیا“ پر ہمیشہ اتنا زور ہوتا کہ ہنسنے پر مجبور کر دیتا --- میرا ہمیشہ یہی جواب ہوتا کہ جی انکل! جیسے ہی اٹھتے ہیں میں پوچھتی ہوں، جس پر دوسری طرف سے قہقہہ آتا اور رابطہ منقطع ہو جاتا۔ ابو کے اٹھنے پر انہیں سب کے فون کی تفصیلات دیتے ہوئے انکل خالد احمد کا ذکر ہوتا تو وہ بھی نیند ہی نیند میں کھلکھلا اٹھتے! (جو آجکل مرجھائے مرجھائے ہیں، اللہ تعالیٰ ابو کو ہمت دے اور صبر جمیل عطا فرمائے) ۔ اکثر انکل کا کالم پڑھ کر ابو ایک ہی میسج ان کے فون پر کرواتے کہ ”خالد احمد صاحب آج کا کالم بہت اچھا ہے بس یہی سمجھ نہیں آئی کہ لکھا کیوں ہے“
انکی طبیعت کی خرابی کے دنوں میں ابو جب محترم مجید نظامی کے ساتھ تیماری داری کیلئے انکے گھر جوہر ٹاﺅن گئے تو انہیں ہنسانے کی جوش دلانے کی کوشش کرتے رہے۔ جب مردِ مجید جناب مجید نظامی صاحب واپس آنے لگے تو ابو نے درخواست کی کہ انہیں ابھی خالد احمد صاحب کے پاس ہی رہنے دیا جائے کہ یہ خالد احمد کے جلد از جلد صحت یاب ہونے کیلئے بہت ضروری ہے۔ یہ الگ بات تھی کہ محترم مجید نظامی کی موجودگی کا احترام کرتے ہوئے انکل خالد احمد منہ ہی منہ میں ابو کو ”محبت بھرے کلمات“ سے نواز رہے تھے! انہوں نے ساری زندگی انتہائی معزز اور خوددار طریقے سے گزاری، انہوں نے خوب زندگی گزاری کہ خوب تر انسان تھے ع ....رب مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا
یہاں وہی پرانا مگر حقیقت سے بہت قریب جملہ کہ ان کے چلے جانے سے پیدا ہونے والا خلا کبھی پورا نہیں ہو سکے گا! اللہ تعالیٰ انہیں جوار رحمت میں جگہ دے اور انکے لواحقین، دوست احباب کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ہم سب کو جو ان کے ساتھ محبت اور احترام کے رشتے سے منسلک تھے ہمت دے کہ ہم آگے بڑھیں انکی نصیحتوں پر عمل کرتے ہوئے ان کی روح کو مطمئن کر سکیں! آخر میں بس اتنا ہی کہوں گی ....
ہے عارضی یہ ساتھ معلوم تھا ہمیں
صدا ساتھ رہنے کا تو وعدہ تھا
ہمیشہ ساتھ نہ رہیں گے یہ جانتے تھے ہم
مگر اتنی جلدی چھوڑ جائیں گے یہ اندازہ نہ تھا