جو نہیں جانتے وفا کیا ہے

10 اپریل 2013

اہل نفسیات کہتے ہیں۔ خیالی پلاﺅ انسان کی ذہنی صحت درست رکھتے ہیں۔ اس لئے خیالی پلاﺅ پکانا نادانوں کا کھیل نہیں ہے۔ پرانی کہانیوں میں شیخ چلی کا ایک کردار ہوا کرتا تھا۔ یہ کردار خیال کی چال چلتا تھا۔ اور جو چیز اس کی لا حاصل تمنا میں شامل ہوتی تھی اور جسے حقیقت میں پالینا اس کے بس سے باہر ہوتا تھا۔ اس خواہش کی تکمیل وہ تصور اور خیال میں پوری کر کے خوش ہو لیا کرتا تھا۔ خیالی پلاﺅ کا ایک فائدہ یہ بھی ہے ، ایسے پلاﺅ پکانے والا بے ضرر ہوتا ہے ۔ جسے اپنے خیال کے چکر سے ہی فرصت نہ ہو۔ اس سے ضرر کا ڈر کیسا؟ اس خیالی پلاﺅ پکانے والے کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے۔
قارئین ہمارا اشارہ سمجھ گئے ہوں گے۔ ہاں یقیناً ہمارے زیر تحریر اپنے خالی خان ہیں۔ جو برسوں سے خیالی پلاﺅ اور بریانیاں پکا رہے ہیں۔ وہ بزعم خویش اس خوش فہمی سے دوچار ہیں۔ جیسے انہوں نے 1992تک ورلڈ کپ جیت لیا تھا۔ ایسے ہی وہ الیکشن 2013ءبھی جیت لیں گے اور ایک فاتح کے طور پر ایوان اقتدار میں داخل ہو کر وزیراعظم کی نشست سنبھال لیں گے۔ خواب دیکھنے اور خیالوں کے مرغزاروں میں چہل قدمی کرنا کوئی عیب نہیں ۔ ہاں تکلیف تب یقیناً پہنچتی ہے ، جب آنکھ کھلتی ہے تو انسان اپنے بستر پر پڑا خواب کی رنگینی قائم رکھنے کے لئے دوبارہ سونے کی کوشش کرتا ہے ۔ لیکن پھر نیند بھی نہیں آتی۔
تو ذکر خالی بلکہ خیالی خان کا ہورہا ہے ۔ جنہوں نے نہ جانے کس کے کہنے پر خود کو سونامی خان کہنا شروع کردیا تھا۔ اور اقتدار تک پہنچنے والی خیالی جدوجہد کو بھی سونامی سے موسوم کردیا۔ حالانکہ سوچا جائے تو عقل کی دیوی ذرا سی بھی مہربان ہوتو یہ باور کرنا چنداں مشکل نہیں ۔ سونامی تو تباہی کا استعارہ ہے ۔ اور جس نے تباہی کی علامت کو ہی اپنے منشور کا عنوان بنالیا ہو۔ اس کے لئے تو دعا ہی کی جاسکتی ہے یا پھر اس کے بے چارگی پر رحم کھایا جاسکتا ہے ۔ انسان تجربے کرتا ہے ۔ تجربے اس کی تربیت کرتے ہیں۔ ماضی کے حالات سے مستقبل کو سنوارا جا سکتا ہے لیکن جسے خود اپنے سودوزیاں کی خبر نہ ہو اس کے حال پر رونا کیسا؟
مجرد ایک ہسپتال بنا لینے سے جہانِ تازہ کی تعمیر تو ہونے سے رہی۔ یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے ۔ ہمارے خان بابا کرکٹ کے ماہر و مشاق ہیں۔ انہوں نے کھیل کے میدان میں قوم کا مان اور وطن کی آبرو رکھی۔ لیکن اس کے عوض انہیں قوم اور وطن نے کیا نہیں دیا۔ ان کی ایک آواز پر جھولیاں بھر کر چندہ دیا اور ان کے خواب کو حقیقت کا روپ دیا جو آج شوکت خانم میموریل ہسپتال کی شکل میں موجود ہے ۔ چھوٹے چھوٹے پراجیکٹ چلانا اور بات ہے ۔ جہاں بانی اور ملک پر حکمرانی اور چیز ہے ۔ ہمارے خیالی خان کو اس بات کا ادراک ہی نہیں ۔ یہ قوم جسے چندہ دیتی ہے اسے ووٹ نہیں دیتی۔ اگر ایسا ہوتا بڑے بڑے چندے خور ملک کے سربراہ ہوتے۔
خیالی خان پچھلے کئی برس سے خارزار سیاست میں تلوے سہلا رہے ہیں۔ مگر ان کے لئے اپنی ایک سیٹ لینا بھی ممکن نہیں ہوسکا۔ ایسے میں وہ پورے ملک سے الیکشن جیتنے کی جو ضد کر رہے ہیں وہ دیوانے کے خواب اور چاند سے کھیلنے کی خواہش کے سوا کچھ نہیں ۔ کسی کی اچانک آشیر باد سے وہ چھکے نہیں لگا سکتے۔ جن سے ہمارے خان بابا کبھی میچ جیتا کرتے تھے۔ یہ میدان سیاست ہے جہاں مدمقابل کا قد کاٹھ دیکھنا پڑتا ہے ۔ آزمائے ہوﺅں کو آزمانے کی کوشش سے بڑا بودا پن کوئی نہیں ہو سکتا۔ جن پر زمانہ انگلیاں اٹھاتا تھکتا نہ ہو۔ ان کی ہم رکابی سے ملک کا مقدر سنورانے کی خواہش نہ پوری ہونے والی تمنا ہے ۔
ابھی تو میدان سجا نہیں ۔ جوتوں میں دال پہلے بٹنی شروع ہو گئی ہے ۔ وفا پامال کرنے والے وہ مجنوں جو اپنے برسوں پرانے گھر چھوڑ کر خیالی خان کے آشیانے میں آئے تھے۔ وہ ایک ٹکٹ نہ ملنے پر راہیں جدا کر بیٹھے ہیں۔ سردار آصف احمد علی اور انعام اللہ خان نیازی ہمارے خان بابا کی بے نیازی کے باعث ہاتھ مل رہے ہیں۔ اب ان کے پاس آگے جانے کی طاقت ہے نہ پیچھے مڑنے کا یارا ہے ۔ دراڑیں پڑ چکی ہیں۔ بیل منڈھے چڑھنے سے پہلے ہی خشک ہو گئی ہے ۔ جس شخص سے اپنے گھر والے خاص طور پر بہنیں ہی ناخوش ہوں اس کے لئے پورے ملک کے عوام کو خوش رکھنا کتنا مشکل ہوگا۔ یہ خان بابا کے لئے لمحہ فکریہ ہے ۔
پہلے ٹکٹ نہ ملنے پر اہل پارٹی ناراض تھے۔ اب تمنائیں پوری نہ ہونے پر ٹکٹ والے ٹکٹ واپس کرنے پر تلے بیٹھے ہیں۔ 11مئی ہنوز دور ہے ۔ ایسا نہ ہو پھر وہی تانگے کی سواریاں رہ جائیں اور الیکشن کے روز تانگہ کچہری سے خالی آجائے۔ خان بابا کے پاس ابھی سوچنے کا وقت ہے ۔ وہ اپنی اور اپنے ساتھیوں کی ضمانتیں ضبط ہونے سے بچائیں۔ ٹکٹ نہ ملنے پر ناراض اور بات نہ ماننے پر ٹکٹ واپس کرنے کی دھمکیاں دینے والے آج کے وہ کوفی ہیں، جن سے وفا کی امید عبث ہے ۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو نہیں جانتے وفا کیا ہے۔ ان بے چاروں کی وفا تو مسلم لیگ ں کی ایک پیار بھری نگاہ داﺅ پر لگا سکتی ہے ۔