پنجاب اصل انتخابی دنگل کا مرکز

10 اپریل 2013

 فرخ سعید خواجہ ........ ضلع لاہور
انتخابی دنگل کے لئے اکھاڑہ تیار ہے۔ ملک بھر سے 8 کروڑ 57 لاکھ ووٹر قومی اسمبلی کی 272 جنرل نشستوں سمیت پنجاب ، سندھ، خیبر پی کے اور بلوچستان کی صوبائی اسمبلیوں کی 577 جنرل نشستوں پر اپنے نمائندے منتخب کریں گے جیسا کہ سب جانتے ہیں آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ پنجاب انتخابی دنگل کا اصل مرکز ہوگا۔ قومی اسمبلی کی 272 میں سے 148 نشستیں پنجاب کی ہیں اور باقی 124 نشستیں باقی تینوں صوبوں کی ہیں۔ پنجاب کے ووٹروں کی تعداد بھی ملک کے کل رجسٹرڈ ووٹروں سے لگ بھگ آدھی ہے۔ الیکشن کمیشن کی جاری کردہ فہرستوں کے مطابق صوبہ پنجاب کے ووٹروں کی تعداد 4 کروڑ 90 لاکھ 5ہزار 641 ہے۔ جہاں تک پنجاب کے 36 اضلاع کا تعلق ہے ، صوبائی دارالحکومت لاہور کاضلع اس لحاظ سے دیگر اضلاع پر فوقیت رکھتا ہے کہ لگ بھگ سوا کروڑ آبادی کے اس ضلع میں کل رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد 43 لاکھ 71 ہزار 272 ہے جو کسی بھی پنجاب کے دیگر ضلع کے ووٹروں میں سب سے زیادہ ہے۔ ضلع لاہور کے یہ ووٹر لاہور سے 13ممبران قومی اسمبلی اور25 ممبران صوبائی اسمبلی منتخب کریں گے۔
اس سے پہلے کہ لاہور کے ان 38 قومی و صوبائی اسمبلیوں کے حلقوں کا انتخابی جائزہ لیا جائے بے جا نہ ہوگا کہ لاہور سے جو سیاسی ہیوی ویٹ میدان اترے ہیں ان کا مختصر ذکر کیا جائے۔ مسلم لیگ (ن)، تحریک انصاف، جماعت اسلامی، پاکستان مسلم لیگ فنکشنل، مسلم لیگ ہمخیال، استقلال پارٹی کے سربراہان اور سیکرٹری جنرلوں سمیت سابق وفاقی و صوبائی وزیر، سابق ممبران قومی و صوبائی اسمبلی لاہور کے مختلف قومی و صوبائی حلقوں سے میدان میں کود چکے ہیں۔ آئیے ان میں نمایاں شخصیت سے ملتے ہیں۔ نوازشریف مسلم لیگ (ن) کے صدر ہیں، دو مرتبہ 1990 اور 1997ءمیں ملک کے وزیراعظم اور دو مرتبہ 1985اور1988ءمیں وزیراعلیٰ پنجاب رہے، ایک مرتبہ 1993ءمیں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف رہے۔ یہ افسوسناک حقیقت ہے کہ 1997, 1993, 1990, 1988, 1985 میں وجود آنے والی اسمبلیوں میں سے کوئی ایک بھی اپنی مقررہ پانچ سالہ مدت پوری نہیں کرسکی۔
الیکشن 2013ءمیں نوازشریف اپنی جماعت کی قیادت کررہے ہیں اور لاہور سے قومی اسمبلی کے دو حلقوں این اے 119 اور این اے 120 سے امیدوار ہیں۔ این اے 119 سے الیکشن 2008ءمیں ان کے بھتیجے اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے صاحبزادہ حمزہ شہباز شریف بلامقابلہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ 18 اپریل کو کاغذات نامزدگی واپس لئے جانے کی آخری تاریخ گزرنے پر ہی معلوم ہوسکے گا کہ نوازشریف صرف لاہور کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 120 سے الیکشن لڑتے ہیں یا این اے 119 سے بھی خود ہی میدان میں رہیں گے۔ ان کے بھتیجے اور مسلم لیگ ن لاہور ڈویژن کے کنونیئر حمزہ شہباز شریف این اے 119 کے ذیلی صوبائی اسمبلی کے حلقے پی پی 142 سے بھی امیدوار ہیں۔ اس امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا کہ وہ صرف صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑیں اور این اے 119 ، این اے 120 میں نوازشریف کی انتخابی مہم چلائیں۔ تاہم قارئین کی دلچسپی کے لئے یہ اطلاع دی جاتی ہے کہ نوازشریف کی صاحبزادی مریم نوازشریف این اے 120 میں اپنے والد کے مرکزی انتخابی دفتر کو خود چلانے کا پروگرام بنا چکی ہیں اور انتخابی دفتر کے لئے جگہ ڈھونڈ لی گئی ہے۔ این اے 119اور 120 سے پیپلزپارٹی کا کوئی بھاری بھرکم امیدوار سامنے نہیں لایا گیا بلکہ دو کارکنوں این اے 119 میں سہیل ملک پیپلز ٹریڈرز سیل والے اور قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 120میں نو آموز زبیرکاردار کو امیدوار بنایا گیا ہے۔ البتہ جماعت اسلامی نے این اے 120 میں اپنے تین مرتبہ رکن قومی اسمبلی اور ایک مرتبہ رکن پنجاب اسمبلی رہنے والے حافظ سلمان بٹ کو میدان میں اتارا ہے۔ مسلم لیگ فنکشنل کے سیکرٹری جنرل شیخ انور سعید بھی اس حلقہ سے امیدوار ہیں وہ ذیلی صوبائی اسمبلی کے حلقہ سے مسلم لیگ ن کی ٹکٹ پر 1993ءمیں رکن پنجاب اسمبلی رہ چکے ہیں دیگر جماعتوں کے امیدواروں سمیت آزاد امیدوار بھی میدان میں ہیں۔
آئیے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 122 کی طرف آتے ہیں۔ یہاں سے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان امیدوار ہیں۔ این اے 122 کے ذیلی حلقوں پی پی 148 سے ان کی جماعت کے صوبائی صدر اعجاز چودھری اور پی پی 147 سے صدر لاہور عبدالعلیم خان امیدوار ہیں۔ گویا پاکستان تحریک انصاف کی کریم میدان میں ہے۔ یہاں عمران خان کا مقابلہ سابق ایم این اے مسلم لیگ (ن) کے سردار ایاز صادق سے ہوگا۔ وہ 2008ءاور2002ءکے انتخابات میں یہاں سے رکن قومی اسمبلی رہ چکے ہیں بلکہ الیکشن 2002ءمیں ان کا عمران خان سے اس حلقہ انتخاب میں مقابلہ ہوا تھا جس میں انہوں نے عمران خان سے لگ بھگ دوگنے ووٹ حاصل کئے تھے۔ یہ امر دلچسپ ہے کہ سردار ایاز صادق نے اپنی سیاست کا آغاز تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے کیا تھا اور 1997ءمیں صوبائی اسمبلی کا الیکشن تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے لڑا اور مسلم لیگ (ن) کے امیدوار حاجی عبدالرزاق سے ہار گئے۔ 1999ءمیں نوازشریف حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد وہ مسلم لیگ ن میں شامل ہوگئے۔ این اے 122 میں عمران خان اور سردار ایاز صادق کے علاوہ جماعت اسلامی کے اہم رہنما امیرالعظیم اور جمعیت علماءاسلام (س) کے رہنما عاصم مخدوم بھی امیدوار ہیں۔ 1997ءاور الیکشن 2008ءمیں وزیراعلیٰ منتخب ہونے والے میاں شہباز شریف 1993ءمیں قائد حزب اختلاف پنجاب اسمبلی اور 1988 ءمیں رکن قومی اسمبلی رہے ہیں لاہور کے دیہاتی علاقوں پر مشتمل حلقہ انتخاب این اے 129 اور صوبائی حلقوں پی پی 159، پی پی 161 سے مسلم لیگ ن کے امیدوار ہیں۔
شہباز شریف کے مقابلے میں پاکستان تحریک انصاف لاہور کے جنرل سیکرٹری عبدالرشید بھٹی یا منشا سندھو کے آنے کی ہوا تھی لیکن عبدالرشید بھٹی نے نہ صرف پارٹی عہدہ چھوڑ دیا بلکہ تحریک انصاف ہی چھوڑ دی ہے۔ اس سے تحریک انصاف کو یہاں خاصا نقصان ہوا ہے۔ جماعت اسلامی نے این اے 129 پر کوئی امیدوار نہیں دیا ہے۔ پیپلزپارٹی اس حلقہ انتخاب میں اپنے 2008ءمیں کامیاب ہونے والے رکن قومی اسمبلی طارق شبیر میو کو لائی ہے۔ توقع ہے کہ وہ شہباز شریف سے جیتنے کے لئے سر توڑ کوششیں کریں گے۔ این اے 126 بھی لاہور کا ایک اہم حلقہ ہے یہاں سے پاکستان تحریک انصاف اپنے مرکزی نائب صدر میاں محمودالرشید کو میدان میں لائی ہے جو کہ 1988ءاور 1990ءمیں آئی جے آئی کی ٹکٹ پر جماعت اسلامی کی طرف سے رکن پنجاب اسمبلی رہ چکے ہیں۔ تاہم یہ حلقہ انتخاب مسلم لیگ (ن) کا سیاسی گڑھ ہے۔ اسحاق ڈار 1997ءمیں یہاں سے رکن قومی اسمبلی رہے ہیں جبکہ 1993ءمیں مسلم لیگ (ن) کے طارق بانڈے اور 1990ءمیں آئی جے آئی کی ٹکٹ پر جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ یہاں سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ لیاقت بلوچ 1985ءمیں بھی اس حلقے سے رکن قومی اسمبلی رہ چکے ہیں۔ اس الیکشن میں بھی این اے 126 سے لیاقت بلوچ جماعت اسلامی کی ٹکٹ پر حصہ لے رہے ہیں ۔ استقلال پارٹی کے سربراہ سید منظور علی گیلانی بھی این اے 126 کے قابل ذکر امیدوار ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی طرف سے حلقہ انتخاب سے ابھی کوئی امیدوار سامنے نہیں آیا تاہم سہیل ضیاءبٹ سابق ایم پی اے، عمر سہیل ضیاءبٹ سابق رکن قومی اسمبلی، خواجہ عمران نذیر سابق ایم پی اے میں سے کوئی امیدوار کی حیثیت سے سامنے آسکتا ہے۔ کہا جاسکتا ہے کہ لاہور کے ان حلقوں میں انتخابی مقابلے خاصے دلچسپ ہوں گے۔