وفاقی دارالحکومت میں انتخابی معرکے

10 اپریل 2013

 نواز رضا ........ ضلع : راولپنڈی
11 مئی 2013 ءکو منعقد ہونے والے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات میں امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کا پہلا مرحلہ مکمل ہو گیا ہے۔ بعض ریٹرننگ افسران نے آئین کے آرٹیکل 62 ااور 63 کے تحت امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جس ”بے رحمانہ“ انداز میں جانچ پڑتال کی بڑے بڑے سیاستدان اس کی زد میں آ گئے۔ فی الحال وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے 2 انتخابی حلقوں اور ضلع راولپنڈی کے 7 انتخابی حلقوں میں کئی بڑے سیاستدان انتخابی عمل سے آ¶ٹ ہو گئے ہیں۔ این اے 48 سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار انجم عقیل خان کے مقابلے میں 3 درجن سے زائد امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں تاہم ان میں جماعت اسلامی کے میاں محمد اسلم‘ تحریک انصاف کے جاوید ہاشمی‘ پاکستان پیپلز پارٹی کے فیصل سخی بٹ اور آل پاکستان مسلم لیگ کے صدر جنرل پرویز مشرف کے نام قابل ذکر ہیں۔ اس نشست پر مسلم لیگ (ن)‘ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے ٹکٹ کے حصول کے لئے بہت بڑی تعداد میں امیدواروں نے درخواستیں جمع کرائی۔ این اے 48 کیلئے مسلم لیگی کارکنوں نے پارٹی قیادت کو سب سے زیادہ درخواستیں دیں۔ پارلیمانی بورڈ میں سر پھٹول کی نوبت تو نہ آئی لیکن مسلم لیگی رہنما سید ظفر علی شاہ مسلم لیگی قیادت کے سامنے پھٹ پڑے لیکن مسلم لیگی قیادت نے ا ین اے 48 سے انجم عقیل خان کو دوبارہ پارٹی ٹکٹ دینے کا گرین سگنل دے دیا ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے 2008 ءکے انتخابات میں انجم عقیل خان 35 ہزار ووٹوں کی اکثریت سے کامیابی حاصل کر چکے ہیں جبکہ 2002 ءکے انتخابات میں میاں محمد اسلم اسی نشست سے متحدہ مجلس عمل کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں یہ وہ نشست ہے جس پر جماعت اسلامی کی قیادت نے نظریں جما رکھی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) اور جماعت اسلامی کی سیاسی ٹیموں کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں جماعت اسلامی سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے عوض جن 25 نشستوں پر کلیم کر رہی ہے ان میں این اے 48 قابل ذکر ہے۔ جماعت اسلامی کی سیاسی ٹیم کا دعویٰ ہے کہ مسلم لیگ (ن) جماعت اسلامی کو یہ نشست دینے پر تیار ہے لیکن مسلم لیگی ذرائع کا کہنا ہے کہ جب مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف نے مسلم لیگ (ن) فیڈرل کیپیٹل کے وفد سے ملاقات کے دوران جب انجم عقیل خان سے استفسار کیا کہ ”اگر ہم یہ نشست سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہونے کی صورت میں دے دیں تو آپ کا کیا ردعمل ہو گا“ جس پر انجم عقیل خان نے کہا کہ وہ پارٹی قیادت کے فیصلے کے سامنے سر تسلیم کر دیں گے لیکن جب راجہ محمد ظفر الحق نے میاں نواز شریف کی موجودگی میں انجم عقیل خان سے ان کی 2008 ءکی لیڈ کے بارے میں استفسار کیا تو انجم عقیل خان نے بتایا کہ ان کی 35 ہزار سے زائد کی لیڈ تھی جس پر میاں نواز شریف نے ان سے کہا کہ ”انجم عقیل خان کی 35 ہزار کی لیڈ والی نشست جماعت اسلامی کو نہیں دی جا سکتی“ ویسے بھی جماعت اسلامی کی قیادت نے واضح کر دیا ہے کہ این اے 48 پر سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہونے کے باوجود این اے 49 پر جماعت اسلامی کے امیدوار زبیر فاروق انتخاب لڑیں گے جو پچھلے 3 سال سے انتخابی مہم پر ہیں۔ انہوں نے جماعت اسلامی کا امیدوار بنائے جانے کے موقع پر ہی واضح کر دیا تھا کہ ان کی نشست پر سیٹ ایڈجسٹمنٹ نہیں ہو سکتی۔ اگر مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت نے جماعت اسلامی کو این اے 48 سے نشست نہ دی تو اسلام آباد کی دونوں نشستیں اوپن کئے جانے کا امکان ہے۔ آل پاکستان مسلم لیگ کے صدر جنرل پرویز مشرف کے این اے 48 کے انتخابی معرکے میں کودنے کا تحریک انصاف کے صدر مخدوم جاوید ہاشمی نے نوٹس لیا ہے۔ انہوں نے بھی جنرل مشرف کا مقابلہ کرنے کے لئے کاغذات نامزدگی داخل کرا دیئے ہیں۔ قبل اس کے کہ دونوں کے درمیان ”ٹاکرہ“ ہوتا۔ جنرل مشرف نے ”پسپائی“ اختیار کرتے ہوئے این اے 48 سے انتخاب نہ لڑنے کا اعلان کر دیا۔ قبل اس کے کہ وہ اپنے کاغذات نامزدگی واپس لیتے ریٹرننگ آفیسر نے ان پر لگائے گئے آئین شکنی اور دیگر الزامات میں کاغذات نامزدگی نامنظور کر دیئے ہیں۔ بہرحال پرویز مشرف اپنے کاغذات نامزدگی نامنظور کئے جانے کے خلاف الیکشن ٹریبونل سے رجوع کریں گے۔ تاہم جنرل پرویز مشرف کے این اے 48 سے انتخاب نہ لڑنے کے اعلان پر مخدوم جاوید ہاشمی کو یہ کہنے کا موقع مل گیا ہے کہ ان کے میدان میں اترنے کے اعلان نے جنرل مشرف کو ”پسپائی“ پر مجبور کر دیا ہے۔ اس نشست سے تحریک انصاف کے ٹکٹ کے لئے حسن ایوب‘ ڈاکٹر شہزاد وسیم‘ ڈاکٹر اسرار شاہ بھی کوشاں تھے لیکن مخدوم جاوید ہاشمی کے انتخابی اکھاڑے میں اترنے سے ان کو ٹکٹ ملنے کے امکانات معدوم ہو گئے ہیں۔ قومی اسمبلی کے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی واپس لینے کی آخری تاریخ تک صورتحال واضح ہو جائے گی۔ کون سے امیدوار میدان میں رہ گئے ہیں۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کا دوسرا اہم حلقہ این اے 49 ہے۔ 2002 ءکے انتخابات سے قبل اسلام آباد کا ایک ہی حلقہ تھا۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی سیاست میں 3 کردار حاجی نواز کھوکھر‘ نیئر حسین بخاری اور سید ظفر علی شاہ غیرمعمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان تینوں سیاسی کرداروں نے پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا ہے۔ سید ظفر علی شاہ پیپلز پارٹی راولپنڈی سٹی اور حاجی نواز کھوکھر پیپلز پارٹی ضلع راولپنڈی کے جنرل سیکرٹری رہے ہیں۔ اسلام آباد کی نشست طویل عرصہ تک پیپلز پارٹی کے پاس رہی لیکن 1985 ءکے غیر جماعتی انتخابات میں حاجی نواز کھوکھر اور سید ظفر علی شاہ ایک دوسرے کے حریف تھے۔ حاجی نواز کھوکھر نے پہلا انتخابی معرکہ کانٹے دار مقابلے کے بعد سر کر لیا۔ 1988 ءمیں اسلامی جمہوری اتحاد نے حاجی نواز کھوکھر کو ٹکٹ نہ دیا ان کے آزاد امیدوار کی حیثیت سے آئی جے آئی کے امیدوار کے مقابلے میں ووٹ زیادہ تھے۔ حاجی نواز کھوکھر نے 1985 ءمیں قومی اسمبلی کا رکن منتخب ہونے کے بعد مسلم لیگ جائن کر لی۔ اس وقت محمد خان جونیجو مسلم لیگ کے صدر تھے لیکن جب وہ مسلم لیگ دو حصوں (نواز‘ جونیجو گروپوں) میں منقسم ہوئی تو انہوں نے اپنا وزن میاں نواز شریف کے پلڑے میں ڈالا۔ مسلم لیگ (ن) نے ان ہی کے گھر سے جنم لیا وہ 90 ءمیں آئی جے آئی اور 93 ءمیں مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ لیکن بہت جلد ان کے مسلم لیگ (ن) سے راستے جدا ہو گئے۔ سید ظفر علی شاہ بھی 1997 ءمیں مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔ 2002 ءمیں اسلام آباد کو دو حلقوں میں تقسیم کر دیا گیا تو این اے 49 جو کہ 85 فیصد دیہی اور 15 فیصد شہری آبادی پر مشتمل ہے 2002 ءکے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے رہنما سید نیئر حسین بخاری کامیاب ہوئے۔ 2002 ءکے انتخابات میں حاجی نواز کھوکھر اپنے صاحبزادے مصطفیٰ نواز کھوکھر کو میدان سیاست میں لے کر آئے۔ مصطفیٰ نواز نے آزاد امیدوار کی حیثیت سے 39 ہزار‘ ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر 16 ہزار اور نیئر حسین بخاری نے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر 43 ہزار ووٹ حاصل کئے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے 2008 ءکے انتخابات میں 43 ہزار ووٹ لے کر نیئر حسین بخاری (پیپلز پارٹی) اور مصطفیٰ نواز کھوکھر (مسلم لیگ ق) کو شکست دے دی۔ بہرحال ڈاکٹر طارق فضل چودھری اور نیئر حسین بخاری کے درمیان کانٹے دار مقابلہ ہوا۔ ڈاکٹر طارق فضل 600 ووٹوں کی اکثریت سے کامیاب ہوگئے۔ تاہم مسلم لیگ (ق) کے ٹکٹ پر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے اپنا ووٹ بنک 34 ہزار برقرار رکھا۔ صدر آصف علی زرداری نے سید نیئر حسین بخاری کو انتخابی معرکے سے الگ کرنے کے لئے چیئرمین سینیٹ بنا دیا۔ حاجی نواز کھوکھر کی سیاسی حکمت کامیاب ہوئی۔ انہوں نے اپنے صاحبزادے مصطفیٰ نواز کھوکھر کیلئے پیپلز پارٹی کا ٹکٹ حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کر لی۔ ڈاکٹر طارق فضل چودھری کو اس نشست پر نواز کھوکھر اور پیپلز پارٹی کے ووٹ بینک کا مقابلہ کرنا پڑے گا۔ این اے 49 میں ایک فیکٹر جماعت اسلامی کا بھی ہے۔ زبیر فاروق جماعت اسلامی کے ٹکٹ پر انتخاب لڑیں گے۔ پچھلے 3 سال کے انتخابی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اسی طرح اس نشست سے تحریک انصاف کے الیاس مہربان اور راجہ خرم نواز امیدوار ہیں۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے عام انتخابات سے کئی ماہ قبل الیاس مہربان کو پہلا پارٹی ٹکٹ دینے کا اعلان کیا تھا اب انہیں اپنے فیصلے پر قائم رہنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف بدھ کو پارٹی ٹکٹوں کا اعلان کرنے والی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) تو ڈاکٹر طارق فضل چودھری کو گرین سگنل دے چکی ہے۔ تحریک انصاف بھی آج اپنے امیدوار کا فیصلہ کر دے گی۔ این اے 49 کا انتخابی معرکہ حیران کن نتائج کا حامل ہو گا۔