ن لیگ کا اصل جوڑ تحریک انصاف سے پڑے گا

10 اپریل 2013

محمد یوسف علی خان چغتائی ........ضلع: میانوالی
ضلع میانوالی تاریخی حوالے سے اہم مقام رکھتا ہے 1901ءمیں ضلع بننے سے پہلے یہ ضلع بنوں (صوبہ سرحد) میں شامل تھا۔ اس وقت ضلع میانوالی تین تحصیلوں میانوالی، عیسیٰ خیل اور پپلاں پر مشتمل ہے۔ معدنیات سے مالا مال ہے۔ صرف اسکندر آباد داﺅد خیل کے مقام پر سکندر مرزا کے دور میں تین فیکٹریاں لگائی گئی۔ یہاں کے لوگوں کا سب سے بڑا ذریعہ معاش زراعت اور زمینداری ہے۔ ضلع میانوالی کو صوبہ کے پی کے اضلاع لکی مروت۔ کوہاٹ، کرک اور ڈیرہ اسماعیل خان کے سرحدیں لگتی ہیں۔ ضلع میانوالی سب سے زیادہ مشہور مقامات کالا باغ۔ چشمہ بیراج، نمل جھیل کے علاقے اور سیر گاہیں ہیں۔
الیکشن آفس میانوالی کے صحیح اعداد شمار کے مطابق ضلع میانوالی کے کل ووٹرز کی تعداد 764742 ہے۔ جن میں 417892 مرد ووٹرز اور 346850 خواتین ووٹرز ہیں۔ ضلع بھر کے کل پولنگ اسٹیشن کی تعداد 604 ہے۔
ضلع میانوالی دو قومی اسمبلی کے حوالے این اے 71 میانوالی I اور این اے 72 میانوالی ii جبکہ صوبائی اسمبلی کے چار حلقے پی پی 43، پی پی 44، پی پی 45 اور پی پی 46 پر مشتمل ہے۔
ضلع میانوالی کا حلقہ این اے 71 میانوالی i کے زنانہ مردانہ کل ووٹ 387033 ہے۔ یہاں مرد زنانہ کل پولنگ اسٹیشن 297 ہیں اور یہ حلقہ 28 یونین کونسلوں پر مشتمل ہے۔ اس حلقہ این اے 71 میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، سابق صوبائی وزیر عبدالرحمٰ ن خان سیلی، پیپلزپارٹی کے شوکت پرویز خان، مسلم لیگ ( ن ) کے عبید اللہ خان اور جماعت اسلامی کے عبدالوہاب خان امیدواران ہیں۔ لیکن اس حلقہ میں اصل مقابلہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور مسلم لیگ ( ن ) عبید اللہ خان کے درمیان ہے۔ اس حلقہ میں نوابزادگان آف کالا باغ۔ خوانین عیسیٰ خیل اور سابق ایم این اے عائلہ ملک اپنے مضبوط دھڑے اور ووٹ بنک رکھتے ہیں جو اکثریت کے ساتھ عمران خان کی حمایت اور ساتھ دے رہے ہیں۔
2008ءکے انتخابات میں تحریک انصاف کا بائیکاٹ تھا۔ اس حلقہ این اے 71 میانوالی i میں مسلم لیگ ن کا کوئی باضابطہ امیدوار نہ تھا۔ یہاں دو آزاد امیدواران نوابزادہ ملک عماد خان آف کالا باغ اور عبیداللہ خان کے درمیان مقابلہ ہوا۔ جو آزاد امیدوار نوابزادہ ملک عماد خان آف کالا باغ اور عبیداللہ خان کے درمیان مقابلہ ہوا۔ جو آزاد امیدوار نوابزادہ ملک عماد نے قریباً دس ہزار ووٹوں کی برتری سے جیت لیا اور نوابزادہ ملک عماد نے کامیابی کے بعد پیپلزپارٹی میں شامل ہوئے اور وفاقی وزیر مملکت بنائے گئے اب 2013ءکے انتخابات میں نوابزادگان کالا باغ اور نواب آف اسسٹنٹ نوابزادہ ملک وحید خان۔ نوابزادہ ملک امیر محمد خان اور اس فیملی کے سرکردہ راہنما عائلہ ملک سابق ایم این اے نے اس حلقہ این اے 71 میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی حمایت بلکہ انتخابی مہم چلائی ہوئی ہے اور ساتھ تحریک انصاف نے سابق ایم ایل اے عائلہ ملک کو ایم این اے کی مخصوص نشست کے لئے کاغذات منظور کر لئے ہیں۔ اور سکرونٹی میں بھی کلیر قرار دے دیا گیا ہے۔ اس لئے اس حلقہ این اے 71 میں عمران خان بہت مضبوط امیدوار ہیں حلقہ میں مختلف شخصیات اور لوگوں اور خاص طور پر نوجوانوں کی زیادہ حمایت اور جذباتی لگاﺅ نظر آ رہا ہے۔ مقابلے میں امیدوار عبید اللہ خان بھی اپنی انتخابی اور بے پناہ وسائل رکھنے کی وجہ سے بھرپور انتخابی مہم چلائے ہوئے ہے۔
میانوالی کے دوسرے حلقے این اے 72 کے کل ووٹرز 3,77,709 ہے اور کل پولنگ اسٹیشن 307 بنائے گئے ہیں۔ ضلع میانوالی کا دوسرا قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 72 میانوالی شہر۔ موسیٰ خیل واں بھچراں اور تحصیل پپلاں پر مشتمل ہے۔ اس حلقہ سے مسلم لیگ ( ن ) کے امیدوار حمیر حیات خان روکھڑی ن لیگ، امجد علی خان سابق تحصیل ناظم اور سابق ایم این اے انعام اللہ خان نیازی کے درمیان مقابلہ متوقع ہے۔ یہاں تحریک انصاف کے دو مد مقابل امیدواران انعام اللہ نیازی اور امجد علی خان کے درمیان ٹکٹ کے حصول میں کشمکش جاری ہے۔
اس حلقہ این اے 72 میں 2008ءکے انتخابات میں تحریک انصاف کا بائیکاٹ تھا۔ اس لئے اس حلقہ میں ( ن ) لیگ کے انعام اللہ نیازی ق لیگ کے ڈاکٹر شیر افگن اور آزاد امیدوار حمیر حیات خان روکھڑی کے درمیان کانٹے دار مقابلہ ہوا۔ اس الیکشن میں آزاد امیدوار حمیر حیات خان روکھڑی دو اڑھائی ہزار ووٹوں کی برتری سے کامیاب ہوئے اور کامیابی کے بعد مسلم لیگ ن میں شامل ہوں گے۔ اس مرتبہ بھی ن لیگ کی قیادت نے اس حلقہ این اے 72 سے انہیں ٹکٹ دیا ہے۔
ضلع میانوالی چار صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں پہلا حلقہ پی پی 43 تحصیل عیسیٰ خیل کالا باغ پر مشتمل ہے۔ اس حلقہ میں خوانین عیسیٰ خیل کے نمائندہ عبدالرحمٰ ن خان سیلی سابق ایم پی اے آزاد امیدوار ہیں۔ عبدالرحمٰ ن سیلی نی لیگ خواتین ونگ پنجاب کی صوبائی جنرل سیکرٹری بیگم ذکیہ شاہنواز اور سابق ایم پی اے عبدالرحمٰ ن سیلی کے بھائی عبدالحفیظ خان آزاد حیثیت میں کامیاب ہوئے اور کامیابی کے فوراً بعد ( ن ) لیگ میں شامل ہوئے۔
ضلع میانوالی کا دوسرا صوبائی اسملی کا حلقہ پی پی 44 داﺅد خیل پائی خیل اور چکڑالہ وغیرہ پر مشتمل ہے۔ اس حلقہ میں ن لیگ کے عادل عبداللہ روکھڑی سابق ایم پی اے اور تحریک انصاف میانوالی کے ضلعی صدر ڈاکٹر صلاح الدین نیازی، رضاءالمصطفیٰ خان پائی خیل آزاد امیدوار اور کچھ غیر معروف لوگ امیدوار ہیں۔ اس حلقہ میں 2008ءکے انتخابات میں آزاد امیدوار عامرحیات خان روکھڑی کامیاب ہوئے۔ بعد ازاں مسلم لیگ ( ن ) میں شامل ہوئے۔ 2012ءمیں فوت ہوگئے اور 2012ءکے ضمنی الیکشن میں عامر حیات روکھڑی مرحوم کا بیٹا عادل عبداللہ خان روکھڑی ن لیگ کے ٹکٹ پر شادی خیل گروپ کے امیدوار طارق کنڈ کو شکست دی۔ اب پھر ن لیگ نے ان کو ٹکٹ دیا ہے۔ ان کا مقابلہ تحریک انصاف کے ڈاکٹر صلاح الدین خان سے ہے۔
حلقہ پی پی 45 ضلع کا بہترین شہری آبادی والا حلقہ ہے۔ یہ حلقہ میانوالی شہر واں بھچراں اور موسٰی خیل پر مشتمل ہے۔ اس حلقہ میں تحریک انصاف کے امیدوار ملک احمد خان بھچر‘ مسلم لیگ ( ن ) کے علی حیدر نور خان‘ آزاد امیدوار ریٹائرڈ آئی جی پولیس پنجاب حبیب اللہ خان نیازی اور پیپلزپارٹی کے شوکت پرویز خان امیدوار ہیں۔ یہاں ملک احمد خان بھچر تحریک انصاف‘ علی حیدر نور خان ن لیگ اور حبیب اللہ خان نیازی آزاد امیدوار ان کے درمیان کانٹے دار مقابلہ جاری ہے۔ 2008ءکے انتخابات میں ایم ایم اے کے امیدوار علی حیدر نور خان کامیاب ہوئے اور ن لیگ پنجاب حکومت کا ساتھ دیتے رہے۔
ضلع میانوالی آخری صوبائی اسمبلی کا حلقہ پی پی 46 تحصیل پپلاں پر مشتمل ہے۔ اس حلقہ میں مسلم لیگ ( ن ) کے امیدوار ملک محمد فیروز جوئیہ سابق ایم پی اے تحریک انصاف کے امیدوار محمد سبطین خان سابق ایم پی اے‘ جے یو آئی کے ضلعی صدر سعید احمد‘ پیپلزپارٹی کی رخسانہ بنیاد‘ ایم کیو ایم کے آصف صدیقی امیدواران میں شامل ہیں۔ اس حلقہ میں تحریک انصاف کے سبطین خان‘ ن لیگ ملک فیروز جوئیہ اور جے یو آئی کے سعید احمد کے درمیان مقابلہ کی فضاءبن چکی ہے۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ ضلع میانوالی کے چاروں صوبائی حلقوں میں تحریک انصاف مسلم لیگ ( ن ) کے کچھ امیدواران کو باضابطہ ٹکٹوں کے اجراءکے وقت امیدواران کی انتخابی سیاسی اور علاقائی پوزیشنوں کے پیش نظر ڈرامائی تبدیلیاں متوقع ہیں کیونکہ حلقہ پی پی 43 میں تحریک انصاف کا امیدوار خاصا کمزور ہے۔ اسی طرح ہی صورت حال پی پی 44 میں بھی ہے۔ ابھی تک کسی امیدوار کی انتخابی پوزیشن واضح نہ ہے۔