اتوار ‘ 28؍ ذی الحج 1439 ھ ‘ 9؍ ستمبر 2018ء

Sep 09, 2018

ہائی کورٹ نے پنجاب یونیورسٹی گرائونڈ استعمال کرنے پر تعمیراتی کمپنیوں کو کرایہ ادا کرنے کاحکم دے دیا

شکر ہے لاہور کے ان تباہ حال باغات اور گرائونڈز کی بھی سنی گئی جنہیں پہلے میٹرو بس اس کے بعد اورنج ٹرین کی تعمیر کی بھینٹ چڑھایا گیا۔ ایک وقت تھا جب سیاسی جماعتوں کے جلسہ عام کی بدولت پارک اور کھیلوں کے گرائونڈ کسی بیوہ کی مانگ کی طرح اجڑجاتے۔ اس کے علاوہ اس وقت لاہور میں چوپائے بھی چوروں اور ڈاکوئوں کی طرح آزاد پھرتے تھے۔ اکثر پارکوں اور گرائونڈز میں بھینسیں اور گائیں موج مستی کرتے جا بجا قدرتی کھاد بکھیرتی اور ہری ہری ساری گھاس اور پودے تک چٹ کر جاتی تھیں۔ پھر شادی بیاہ والے بھی ان کھیلوں کے میدانوں اور باغات کے دشمن تھے جس کا جی چاہتا شامیانے تان کر دیگیں پکاتا خوب کچرا پھیلاتا اور سبزے کو تاراج کرتا۔ اب عدالتی احکامات اور انتظامیہ کی طرف سے پابندی کے بعد لاہور میں ان باغات اور کھیل کے میدانوں کی شکل ذرا بنی سنوری تھی کہ سڑکوں کی توسیع میٹرو بس اورنج ٹرین کے نام پر جہاں ہزاروں درختوں کا قتل عام ہوا وہاں ایسے کئی کھیل کے میدان اور پارک بھی ان منصوبوں کی بھینٹ چڑھ گئے۔

اب عدالت نے یونیورسٹی گرائونڈ کو تعمیراتی کاموں کے لئے استعمال کرنے والی کمپنیوں سے ان مقامات کے کرائے کی وصولی کا جو حکم دیا ہے وہ سونے پر سہاگہ ہے۔ اگر یہ حکم تعمیراتی کاموں کے سلسلے میں اجڑنے والے تمام پارکوں اور گرائونڈز پر لاگو کیا جائے تو اس رقم سے ان پارکوں اور میدانوں کی سابقہ شکل اور رونقیں بھی بحال ہو سکتی ہیں۔

٭…٭…٭

وزیراعظم نے ماجد خان کو پی سی بی کا چیف ایگزیکٹو بنانے کی تجویز مسترد کر دی

وزیراعظم کا یہ اقدام واقعی قابل تحسین ہے کیونکہ اس طرح وہ اقربا پروری کے الزام سے بھی بچ گئے اور ایک بری رسم کو بھی ختم کرنے کا آغاز کیا ہے ۔ماجد خان میں ساری خوبیاں موجود ہیں مگر خرابی بس ایک ہی ہے کہ وہ عمران خان کے کزن ہیں ۔ ان کی تعیناتی سے پی سی بی میں حالات بہتر ہو سکتے تھے ۔ پی سی بی ان کی مہارتوں اور تجربے سے بہت فائدہ اٹھا سکتی تھی ۔ مگر اس طرح وزیراعظم کے فیصلے پر اقربا پروری اور ماجد خان پر میرٹ پر آنے کے باوجود سفارشی ہونے کا جو الزام لگتا وہ کبھی مٹ نہیں سکتا تھا ۔

اقربا پروری اور سفارش کی وجہ سے آج ہمارے معاشرے کی جو حالت ہے وہ سب کے سامنے ہے کوئی اینٹ اٹھا کر دیکھ لیں نیچے سے کرپشن اور سفارش پھنکارے مارتی برآمد ہوگی اب نئی حکومت نے جو تبدیلی کی ہوا چلائی ہے اگر یہ برقرر رہتی ہے باقی سب وزیر اور مشیر بھی اس پرعمل کرتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ اس کی ٹھنڈک اس کا خوشگوار احساس لوگوں کے دل اور دماغ میں جگہ نہ بنا سکے ۔ اب سمجھ نہیں آتی کہ اس فیصلے پر وزیراعظم کو مبارک باد دی جائے یا ماجد خان سے اظہار افسوس کیا جائے امید ہے وہ بھی کھلے دل سے اپنے کزن کے اس بڑے فیصلے کی حمایت کریں گے ۔

چکوال میں تیل کا نیا ذخیرہ دریافت

یہ ہمارے ملک کی خوش قسمتی ہے کہ یہاں آئے روز کہیں نہ کہیں سے کچھ نہ کچھ دریافت ہوتا رہتا ہے۔ کبھی بلوچستان سے سونے اور کاپر کے کبھی سندھ سے تیل اور کوئلے کے کبھی پنجاب سے تانبے کے وسیع ذخائر کی دریافت کاایسا غلغلہ بلند ہوتا ہے کہ عوام سمجھنے لگتے ہیں کہ اب تنگی ترشی کے دن تھوڑے رہ گئے ہیں ۔ان ذخائر کی بدولت بہت جلد ملک میں ہن کی بارش ہوگی اور ہم سب دیکھتے ہی دیکھتے دولت میں کھیل رہے ہوں گے مگرکئی برس گزرنے کے بعد ان میں سے کسی ذخیرے نے ابھی تک ہن اگلنا شروع نہیں کیا۔

اگر کیا بھی تو وہ شایدحکمرانوں کی تجوریوں یا ملکی و غیر ملکی بنک اکائونٹس میں منتقل ہوگیا ۔ عوام صرف خواب دیکھتے رہ گئے اب پھر چکوال میں تیل کے ذخائر کی خبر سن کر سندھ اور بلوچستان میں دریافت ہونے والے ایسے متعدد تیل و گیس کے ذخائر کے زخم ہر ے ہوگئے جن کی خوشخبری پہلے سنائی گئی تھی،خدا کرے اب کی بار یہ ذخیرہ حقیقت میں ذخیرہ ہو اور جلدی ہی اس کی وجہ سے ملک کے غریب عوام کی حالت سدھر جائے اور وہ ان معدنی وسائل اور ذخائر سے بہرہ مند ہو سکیں ۔ ویسے عوام کو چکوال میں تیل کا یہ نو دریافت شدہ ذخیرہ مبارک ہو۔

٭…٭…٭

چائے میں پتی کیوںزیادہ ڈالی ، خاتون کا ملازمہ پر تشدد ، ویڈیو شیریں مزاری تک پہنچ گئی

امید ہے اب وفاقی وزیر انسانی حقوق اس کا سختی سے صرف نوٹس ہی نہیں لیں گی بلکہ اس ظالم مالکن کو قرار واقعی سزا بھی دلوائیں گی ۔ جسے ایک معصوم ملازمہ پر تشدد کرتے ہوئے خوف خدا بھی نہیں آیا۔کیا اس ظالم خاتون کے اپنے بچے نہیں یا وہ انہیں بھی کسی ناگن کی طرح خود ہی ہڑپ کر گئی ہے۔

محترمہ شیریں مزاری ایک انتھک شخصیت ہیں۔ ان کے ذمہ اسی لئے ایک ایسی وزارت لگائی گئی ہے جس کا کام سب سے زیادہ ہے۔ہمارے ملک میں معصوم بچوں سے دکانوں پر مشقت اور ان کے گھریلو ملازمت پر سخت پابندی ہے مگر اتنی ہی سختی سے ملک بھر میں کروڑوں بچے سکول جانے کی بجائے گھروں ، کارخانوں ، دکانوں پر کام کرتے ہوئے اس قانون کا منہ چڑا رہے ہوتے ہیں ۔ان بچوں کو بات بات پر کڑی سزا دی جاتی ہیں یہ معصوم کسی سے فریاد بھی نہیں کر سکتے۔

اب اگر وفاقی وزیر انسانی حقوق ان بچوں سے جبری مشقت کے خاتمے کیلئے آ ہنی ہاتھ استعمال کرتی ہیں تو لاکھوں بچوں کی دعائیں ان کو مل سکتی ہیں ۔گھریلو ملازمتیں کرنے والے بچے اور بچیوں کی حالت واقعی بہت خراب ہے۔ جبر و تشدد، زیادتی اور قتل کی تلوار ان کے سروں پر ہمیشہ لٹکتی ہے ۔ ان کی قسمت میں مار جوٹھا بچا کچھا کھانا اور اترن ہی ہوتی ہے ۔ ان بچوں کو حقیقی بچوں جیسی زندگی بسر کرنے کا حق ہے جس کی ذمہ دار ی صرف ماں باپ ہی نہیں حکومت پر بھی عائد ہوتی ہے۔

٭…٭…٭

مزیدخبریں