چین کے وزیر خارجہ کا پاکستان کا سرکاری دورہ

Sep 09, 2018

چینی وزیر خارجہ وانگ ژی پاکستان کے تین روزہ دورے پر گزشتہ روز اسلام آباد پہنچ گئے ۔ ان کے وفد میں چینی کابینہ کے تین سینئر رکن بھی شامل ہیں۔ دورے کے شیڈول کے مطابق انکی صدر مملکت عارف علوی، وزیراعظم عمران خاں‘ سپیکر قومی اسمبلی اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے جبکہ ہم منصب شاہ محمود قریشی سے بھی انکے تفصیلی مذاکرات ہوئے ہیں۔

25جولائی کے انتخابات کے بعد عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف کی نئی حکومت کے ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد یہ کسی بھی اعلیٰ چینی شخصیت کا پہلا دورہ پاکستان ہے۔ چینی وزیر خارجہ اپوزیشن جماعتوں کی قیادت سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔ ملاقاتوں میں پاک چین تعلقات سی پیک، خطے کی سکیورٹی کی صورت حال بین الاقوامی امور اور افغان امن عمل پر بات چیت ہورہی ہے ۔یہ دورہ بے یقینی کی ایسی فضا میں ہو رہا ہے جو امریکی وزیر خارجہ پومپیو اپنے تازہ دورے کے دوران پیدا کر گئے ہیں۔امریکی وزیر خارجہ نے جمعرات کو بظاہر دہشت گردی اور افغان امن عمل پر بات چیت کیلئے خطے کا دورہ کیا لیکن پاکستان میں جہاں انہیں زیادہ رکنا اور تفصیلی مذاکرات کرنا چاہئیں تھے، محض چند گھنٹے رک کر نئی دہلی روانہ ہو گئے جہاں ان دنوں خطے کے بارے میں امریکی پالیسیاں طے ہوتی اور منصوبے بنتے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ کابل، اسلام آباد اور نئی دہلی جہاں جہاںرکے پاکستان کے بارے میں انکے منہ سے کوئی کلمہ خیر نہیں نکلا۔ اس ناسازگار فضا میں دوست ملک چین کے وزیر خارجہ کا وفد کے ہمراہ دورہ پاکستان کیلئے بڑا باعث اطمینان ہوگا اور اسے یقین ہوگا کہ وہ تنہا نہیں اور یہ کہ چین کسی بھی حالت میں پاکستان کو مایوس نہیں کرے گا۔ اس اہم دورے کے مقاصد کا خلاصہ ایک فقرہ میں یوں بھی بیان کیا جا سکتا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ ڈومور کے تقاضے لے کر آئے تو چینی وزیر خارجہ یکجہتی کے اعادہ کیلئے اور دست تعاون بڑھانے آئے۔ افغان جنگ کے خاتمے اور سی پیک پر کام کا آغاز ہوتے ہی پاکستان کے بارے میں امریکہ اور بھارت کے رویے حد درجہ معاندانہ ہو گئے۔ افغان عمل میں بھارت کو کردار دینا پاکستان کی قربانیوں پر پانی پھیرنے اور خدمات سے انکار کے مترادف ہے۔ وزیر خارجہ چین اور ان کے سینئر ہمراہی بھی اپنے اس دورے اور ملاقاتوں میں خود یہ جان لیں گے کہ امریکہ اور بھارت گٹھ جوڑ کے باعث خطے میں کتنے خطرات جنم لے چکے ہیں، جن کی وجہ سے علاقے کا امن اور سی پیک ایسے گیم چینجر ترقیاتی منصوبے خطرے میں پڑ گئے ہیں۔ امریکہ کی پیدا کی گئی صورتحال میں پاک چین دوستی کا مزید مستحکم ہونا اگرچہ بدرجۂ اولیٰ ضروری ہے لیکن روس کو بھی ان خدشات سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔!

مزیدخبریں