میانمار کے سفیر کی طلبی، روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کیخلاف شدید احتجاج; آن سانگ سوچی اور آشن وراتھو کے خلاف عالمی عدالت میں درخواست دائر

09 ستمبر 2017 (22:19)

 میانمار کے شمال مغرب میں فوج اور انتہا پسند بودھ بھگشوﺅں نے روہنگیا مسلمانوں کے مزید 8 سے زائد دیہات نذر آتش کردئیے جہاں مسلمانوں کی بڑی تعداد نے پناہ لے رکھی تھی۔ دوسری طرف امریکی محکمہ خارجہ کے ایک سینئر اہلکار پیٹرک مرفی کا کہنا ہے کہ میانمار راکھائن میں سیکورٹی فورسز پر حملوں کا جواب دینے کیلئے ذمہ داری کا مظاہرہ کرے۔ انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کا احترام کرے۔ علاوہ ازیں امریکہ میں کئی مقامات پر روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کے خلاف بھی احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ پاکستان کے کئی شہروں میں بھی مظالم کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ مظاہرین نے راکھائن میں فوری طور پر انسانی امداد کی بحالی اور صحافیوں کو داخلے کی اجازت دینے کا بھی مطالبہ کیا۔ مزید دیہات کو نذر آتش کئے جانے کے بعد بنگلہ دیش میں روہنگیا مہاجرین کی آمد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ حالیہ آتشزدگی اور حملوں کے واقعات راتھیڈونگ میں پیش آئے۔ایک ذریعہ نے بتایا کہ ملک کے اندر بے گھر ہونے والے آئی ڈی پیز کا کیمپ بھی شعلوں کی نذر کردیا گیا تھا جہاں 300سے 400 مسلمان رہائش پذیر تھے۔دریں اثناءاقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے ترجمان جوزف تریپورا نے تازہ اعدادوشمار میں کہا ہے کہ 15 روز کے دوران میانمار کی راکھائن سٹیٹ سے فرار ہو کر 3 لاکھ روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش پہنچ چکے ہیں۔ اے ایف پی کے مطابق یہ تعداد مزید بڑھ گئی ہے۔ جوزف تریپورا کا کہنا ہے کہ 25 اگست سے 2 لاکھ 90 ہزار روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش پہنچے تھے۔ ادھر مسلم کش فسادات کے 16 روز بعد پہلی مرتبہ میانمار حکومت نے مظلوم روہنگیا مسلمانوں کو ریلیف کیمپ فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ میانمار کے حکومت نواز میڈیا نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ راکھائن میں حکومت روہنگیا مسلمان آئی ڈی پیز کیلئے 3 ریلیف کیمپ قائم کرے گی۔ یہ کیمپ راکھائن کے شمال، جنوب اور وسطی منگڈاوا میں قائم کئے جائیں گے۔ دوسری جانب بنگلہ دیش میں جان بچا کر شدید زخمی حالت میں آنیوالے روہنگیا مسلمانوں کے علاج معالجے میں مصروف چٹاگانگ میڈیکل کالج ہسپتال میں جگہ کم پڑ گئی۔ ہسپتال کے سرجن ڈاکٹر غلام نبی کا کہنا ہے کہ ان انتہائی غریب مریضوں کے پاس ادویات کیلئے پیسے نہیں۔ اس وقت شدید زخمی 70 افراد کا علاج جاری ہے۔ بنگلہ دیش کی فوج نے انباہ کیا ہے کہ شدت پسند میانمار میں مسلمانوں پر ہونیوالے تشدد کو بنیاد بنا کر دہشت گردوں کی بھرتی کر سکتے ہیں۔ پولیس افسر منور اسلام کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے ہم نے کئی اقدامات بھی کیے ہیں تاکہ ایسی صورت حال سے بچا جا سکے۔ دریں اثناءپاکستان نے روہنگیامسلمانوں کے خلاف تشدد پر میانمار کے سفیر ون مائنٹ کو دفترخارجہ طلب کرکے احتجاج کیا ہے ۔ سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے سفیر سے ملاقات کی اور پاکستانی حکومت وعوام کی طرف سے سخت احتجاج ریکارڈ کرایا ۔ خارجہ سیکرٹری نے میانمار کی ریاست رخائن میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف پر تشدد کارروائیاں روکنے کیلئے موثر اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ روہنگیا مسلمانوں کو زندہ رہنے اور بلا خوف و خطر زندگی گزارنے کے حقوق دیئے جائیں انہوںنے مطالبہ کیا کہ مسلمانوں کے خلاف حالیہ تشدد کے واقعات کی فوری تحقیقات کرکے ان جرائم میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔ مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے، انہوںنے تنازعے کی ضرورت پر زور دیا ان سفارشات میں تشدد روکنے کیلئے فوری اور پائیدار اقدامات اٹھانے ،امن قائم کرنے ،مفاہمت کے عمل کو تیز کرنے ،شہریت کے مسئلے کو حل کرنے اور انسانی حقوق کے اداروں کو علاقے تک رسائی دینے پر زور دیا گیا ہے۔ سفیر نے کہا کہ وہ پاکستانی حکومت وعوام کے خدشات سے اپنی حکومت کو آگاہ کریں گے۔ بی بی سی کے مطابق انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے میانمار کی فوج کی طرف سے بنگلہ دیش کے ساتھ سرحد پر بارودی سرنگیں بچھائے جانے کی تصدیق کی ہے۔ تنظیم نے عینی شاہدین اور اپنے ماہرین نے حوالے سے کہا ہے کہ بارودی سرنگوں کے پھٹنے سے گذشتہ ایک ہفتے کے دوران کم از کم ایک شہری ہلاک اور دو بچوں سمیت تین افراد شدید زخمی ہو گئے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی کرائسس ریسپانس ڈائریکٹر تیرانہ حسن کا کہنا ہے کہ اپنی جانیں بچا کر بھاگنے والے نہتے افراد کے خلاف اس انتہائی گھناﺅنی حرکت کو فوری طور پر بند کیا جانا چاہیے۔ بنگلہ دیش کے حکام نے بھی میانمار فوج کی طرف سے سرحد پر بارودی سرنگیں بچھانے کے اقدام پر احتجاج کیا ہے۔ علاوہ ازیں پاکستان ریلوے ایمپلائز یونین سی بی اے کے زیراہتمام پریم یونین سی بی اے کے زیراہتمام ہیڈ کوارٹر میں روہنگیا مسلمانوں پر بربریت، ظلم و ستم اور نسل کشی کے خلاف ریلوے مزدور سراپا احتجاج بن گئے۔ ریلوے ہیڈ کوارٹر کے سینکڑوں ملازمین نے برانچوں سے نکل کر ریلی کی صورت میں علامہ اقبال روڈ پر آکر دھرنا دیا اور اس موقع پر پریم یونین کے مرکزی سینئر نائب صدر شیخ محمد انور، ہیڈ کوارٹر ڈویژن کے صدر صوفی رمضان باوا، ڈپٹی سیکرٹری جنرل فیاض شہزاد، مرکزی جوائنٹ سیکرٹری طارق نیاز، چودھری ظفر، رشید باجوہ اور رفیق اعوان نے خطاب کیا اور میانمار کے وزیراعظم کے پتلے نذر آتش کیا گیا۔ بچیانہ سے نمائندہ نوائے وقت کے مطابق صدر بچیانہ پریس کلب رجسٹرڈ الحاج میاں محمد رفیق طاہر نے کہا کہ برما میں مسلمانوں کی نسل کشی کی جو مذموم اور سفاک مہم میانمار حکمرانوں کی سر پرستی میں چل رہی ہے لیکن عالمی طاقتوں،او آئی سی،یو این او، انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی میڈیا کی خاموشی بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ وہ گذشتہ روز بچیانہ پریس کلب سے نکالی جانے والی ریلی سے خطاب کررہے تھے ۔ریلی سے سید مقدس زیدی، نذر میراں اور رہنما تحریک منہاج القرآن اکرم خان نیازی، صدر انجمن تاجران بچیانہ ملک محمد اشرف نے بھی خطاب کیا۔ الہ آباد /ٹھینگ موڑ سے نمائندہ نوائے وقت کے مطابق نجی کالجز کے پرنسپلز اور سماجی رہنماﺅں نے کہا ہے کہ میانمار کے مسلمانوں کے قتلِ عام پر اقوامِ متحدہ کی غیر فعالیت شرمناک ہے ،کسی بھی قوم کی نسل کشی روکنا بطورِ خاص اقوامِ متحدہ کی ذمہ داری ہے۔ جاوید برکی ،نصر خیالی ،خالد شاہ ،عمران نوید ،ڈاکٹر عبدالمجید صائم ،حاجی منیر احمد ،حاجی علی شیر کمبوہ ودیگر نے ریلی میں شریک مظاہرین سے خطاب کیا۔ مرید کے سے نامہ نگار کے مطابق مسلمانوں پر مظالم کے خلاف سنی تحریک، جماعت اہل سنت و نجی سکول کے طلبہ و طالبات نے احتجاجی ریلی نکالی۔ قیادت نوید قادری، ابرار قادری و دیگر کر رہے تھے۔
علاوہ ازیں ترک صدر رجب طیب اردگان نے کہا کہ وہ رخائن میں درپیش انسانی المیہ کا خاتمہ کرنے کے لیے کئی طرفہ ڈپلومیسی پر عمل پیرا ہیں۔ غیرملکی میڈیا کے مطابق ترک صدر اردگان نے اتاترک ہوائی اڈے پر قازقستان میں منعقدہ اسلامی تعاون تنظیم کے پہلے سائنس و ٹیکنالوجی اجلاس میں شرکت کی غرض سے روانگی سے قبل اخباری نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کا سدباب کرنے کے زیر مقصد ان کی مختلف سطح پر کوششیں جاری ہیں۔ اس حوالے سے میں نے 20 سے زائد عالمی سربراہان سے ٹیلیفونک گفتگو کی۔ انہوں نے بتایا کہ اس کے علاوہ میری اہلیہ، برخودار اور ترک وزراءنے بنگلہ دیش میں پناہ گزین مسلمانوں کے کیمپوں کا دورہ کیا۔ ہم اس مسئلے کے حل کی تلاش میں ہیں تو اس کے ساتھ ساتھ متاثرین کو انسانی امداد کی ترسیل بھی کی جا رہی ہے۔ اللہ کریم کا شکر ہے کہ ہمارے ملک کی مدد سے مثبت نتائج سامنے آنے لگے ہیں۔
آن سانگ سوچی اور آشن وراتھو کے خلاف عالمی عدالت میں درخواست دائر

پاکستانی وکیل بیرسٹر اقبال جعفری نے میانمار کی حکمران جماعت کی سربراہ آن سانگ سوچی اور مذہبی پیشوا آشن وراتھو کے خلاف عالمی فوجداری عدالت انصاف میں مقدمہ دائر کردیا ہے۔بیرسٹراقبال جعفری نے درخواست میں کہا آن سانگ سوچی اور آشن وراتھو مسلمانوں کے قتل عام میں ملوث ہیں اور پرتشدد واقعات کے باعث لاکھوں روہنگیا مسلمان جبری طور پر ہجرت کرنے پر مجبور ہیں اور اس دوران سینکڑوں مسلمان یا تو قتل ہوچکے ہیں یا دریاﺅں کے راستے ہجرت کرتے ہوئے ڈوب کر جاں بحق ہوگئے ہیں۔ عالمی عدالت انصاف تحقیقات کرکے آن سان سوچی اور آشن وراتھو کے خلاف تحقیقات کرائے۔