کراچی میں ہاکس بے پر 12 افراد ڈوب گئے, 4 خواتین بھی شامل, 11 لاشیں نکال لی گئیں

09 ستمبر 2017 (21:36)


کراچی(صباح نیوز) ہاکس بے میں پکنک کے لئے آئے 12 افراد سمندر کی لہروں کی نذر ہوگئے جن میں سے 11 کی لاشیں نکال لی گئیں،شہر قائد میں گرمی کی شدت میں اضافے سے تنگ آکر شہری ساحل سمندر کا رخ کرتے ہیں لیکن اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر کئی منچلے سمندر کی موجوں کے مزے لوٹتے آگے بڑھ جاتے ہیں اور جان کی بازی بھی ہار جاتے ہیں۔ اور اب تک مختلف واقعات میں سیکڑوں افراد ڈوب کر اپنی زندگی کی بازی ہارچکے ہیں۔کراچی کے ساحل ہاکس بے پر بھی نارتھ کراچی اور ناظم آباد سے تعلق رکھنے والے ایک ہی خاندان کے افراد پکنگ منانے آئے تھے کہ سمندر میں نہاتے ہوئے 12 افراد ڈوب گئے جن میں سے 11 کی لاشیں نکال لی گئی ہیں جب کہ ایک کی تلاش جاری ہے، ڈوبنے والے افراد میں 4 خواتین بھی شامل ہیں۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ سمندر میں نہانے کے دوران 3 افراد ڈوب گئے تھے جنہیں بچانے کے لئے دیگر افراد بھی سمندرکی حدود کے اندر چلے گئے اور 12 افراد سمندر کی تیز لہروں کی لپیٹ میں آگئے۔ایس پی کیماڑی نے ڈوبنے والے 11 افراد کی لاشیں نکالنے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ 8 افراد کی لاشیں سول اسپتال منتقل کی جا چکی ہیں۔ ایس پی کیماڑی کا کہنا تھا کہ سمندر میں لہریں بہت تیز تھیں اور متاثرہ فیملی کو پولیس اور ریسکیو ٹیموں نے آگے جانے سے منع کیا تھا لیکن اس کے باوجود انہوں نے ہماری بات ان سنی کر دی تھی۔چیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے ہاکس پر نہاتے ہوئے ڈوب کر جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین سے افسوس اور ہمدردری کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کے حادثات کو روکنے کے لئے اداروں اور عوام کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔دوسری وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے سیکرٹری داخلہ سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ انہوں نے سیکرٹری داخلہ سے استفسار کیا کہ کیا سمندر میں نہانے پر دفعہ 144 نافذ تھی، کیا ساحل سمندر پر رہنمائی کے لئے سائن بورڈ لگے ہوئے تھے اور عملہ تعینات تھا، واقعہ کیسے پیش آیا اس کی تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے۔وزیراعلی سندھ نے انسانی جانوں کے ضیاع پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے سے مجھے بہت صدمہ پہنچا ہے اور لواحقین کے غم میں برابر کا شریک ہوں