ورلڈ الیون کی پاکستان آمد تیاریاں مکمل

09 ستمبر 2017

چودھری محمد اشرف
پاکستانی شائقین کرکٹ کو ان دن کا بے صبری سے انتظار ہے جب پاکستان کے میدان بین الاقوامی کھیلوں سے ایک مرتبہ پھر آباد ہوں گے اور شائقین کرکٹ اپنے اور دنیا کے ہیروز کو ان میدان میں ایکشن میں دیکھ سکیں گے۔ سری لنکن ٹیم پر لاہور میں ہونے والے حملے کے بعد پاکستان سے بین الاقوامی کھیلوں کے دروازے بند ہو گئے تھے۔ کسی حد تک کھیلوں کی تنظیموں نے اپنی مدد آپ کے تحت غیر ملکی ٹیموں اور کھلاڑیوں کو لانے کی کامیاب کوشش بھی جاری رکھی تاہم پاکستان میں مکمل کھیلوں کی بحالی اسی طور پر ممکن ہو سکے گی جب غیر ملکی ٹیمیں بغیر کسی خوف و خطر پاکستان آ کر کھیلیں گی۔ کرکٹ ایک ایسا کھیل ہے جس کی رونقین اگر بحال ہو گئیں تو دنیا میں اس بات کا پیغام تیزی سے جائے گا کہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین شہریار خان بھی اپنے تین سال دور میں غیر ملکی ٹیموں کو پاکستان لانے کی کوشش میں رہے، ان کے دور میں کینیا اور زمبابوے کی ٹیمیں ضرور پاکستان آئیں جبکہ اس کے علاوہ پاکستان سپر لیگ کے دوسرے ایڈشن کا فائنل میچ لاہور میں کرانے سے بھی غیر ملکی کھلاڑیوں اور انکے کے بورڈ کے حوصلے بڑھے ہونگے۔ پی سی بی کے نئے چیئرمین نجم سیٹھی کا بھی ماضی میں بڑا کردار رہا ہے اور مستقبل میں بھی وہ پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی کے لیے کوشاں ہیں۔ ورلڈ الیون کے دورہ پاکستان کا شیڈول گذشتہ دو تین سال سے ملتوی ہوتا جا رہا تھا لیکن اب عالمی شہرت یافتہ کھلاڑیوں پر مشتمل ورلڈ الیون اگلے ماہ ستمبر میں پاکستان کے دورہ پر آ رہی ہے۔ 6 دن کے دورہ پاکستان میں مہمان ٹیم پاکستان کے ساتھ تین ٹی ٹونٹی میچز کی سیریز کھیلے گی۔ آئی سی سی کی جانب سے ان میچز کو انٹرنیشنل میچز کا درجہ دیا گیا ہے۔ پی سی بی چیئرمین نجم سیٹھی نے پریس کانفرنس کے ذریعے ورلڈ الیون کے 14 رکنی سکواڈ کا اعلان کیا۔ ان کا طرز بیان ایسا تھا کہ خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے کہ انہیں کتنی بڑی کامیابی مل گئی ہے۔ ان کی آواز میں ایک تکبرانا انداز بھی تھا کہ ہم نے کر دکھایا جس کا پوری قوم کو انتظار تھا۔ ان کے دور کے آغاز میں ہی ورلڈ الیون کے بعد سری لنکا اور ویسٹ انڈیز کی ٹیمیں پاکستان کے دورہ پر آ رہی ہیں ایسے میں ان کا یہ اندار کوئی غیر متوقع نہیں ہے۔ اپنی پریس کانفرنس میں میڈیا سے سپورٹ مانگتے ہیں لیکن میڈیا کے افراد جب ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ نہ کسی میسج کا جواب دیتے ہیں اور نہ ہی کوئی فون کال رسیو کرتے ہیں۔ کرکٹ حلقوں کا خیال ہے کہ ورلڈ الیون کے دورہ پاکستان کے بعد تو ان کا مزاج اور بھی مختلف ہو جائے گا۔ بہر کیف نجم سیٹھی چیئرمین پی سی بی کو غیر ملکی ٹیموں کی آمد کا سلسلہ شروع کرانے اور غیر ملکی سٹار کھلاڑیوں کی شکل میں ورلڈ الیون کو دورہ پاکستان کے لیے راضی کرنے پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔ ورلڈ الیون، سری لنکا اور ویسٹ انڈیز کی سیریز لاہور میں ہی کرائے جانے کی وجہ سے کراچی کے کرکٹ حلقوں پر تحفظات جنم لے رہے ہیں۔ کراچی بھی ایک پر امن شہر میں تبدیل ہو چکا ہے، لہذا پی سی بی حکام کو چاہیے کہ وہ غیر ملکی ٹیموں کے حکام کے ساتھ مذاکرات کر کے کراچی کے سنٹر کو بھی جلد سے جلد بین الاقوامی کرکٹ کے ساتھ آباد کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ پاکستان سپر لیگ کے تیسرے ایڈیشن کا انتظار کیے بغیر غیر ملکی اے ٹیموں اور انڈر 19 ٹیموں کے ساتھ کراچی میں سیریز کھیلی جائیں تو بھی مستقبل میں کراچی کے وینو کو آباد کیا جا سکتا ہے۔ ورلڈ الیون کا 14 رکنی سکواڈ 11 ستمبر کو پاکستان کے چھ روزہ دورہ پر آئے گا جو تین ٹی ٹونٹی میچز کھیلے گا۔ یہ میچز 12 ، 13 اور 15 ستمبر کو قذافی سٹیڈیم لاہور میں کھیلے جائیں گے جبکہ 15 ستمبر کی رات یا 16 ستمبر کی صبح کو غیر ملکی کھلاڑی واپس دبئی روانہ ہو جائیں گے۔ پاکستان کے سیکورٹی ادارے جن میں پاک فوج، رینجرز، ایلیٹ فورس وغیرہ شامل ہیں، مہمان کھلاڑیوں کو فول پروف سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں جو پاکستان میں بین الاقوامی کھیلوں کے واپسی کے لیے خوش آئند ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے اہم سیریز کی تیاریوں کا آغاز کر دیا ہے۔ امید ہے کہ ورلڈ الیون کا دورہ پاکستان، ملک میں بین الاقوامی کھیلوں کی بحالی کے لیے بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوگا۔ ورلڈ الیون کی پاکستان آمد کا جہاں چیئرمین پی سی بی کو کریڈٹ جاتا ہے وہیں پر انگلینڈ کرکٹ بورڈ کے سابق سربراہ جائلز کلارک کے کردار کو سراہنا ضروری ہے۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی جانب سے جائلز کلارک کو پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کے لیے بنائی جانے والی آئی سی سی ٹاسک برائے کرکٹ بحال پاکستان کا بھی سربراہ بنا رکھا ہے۔ آئی سی سی کی جانب سے بھی ورلڈ الیون کے دورہ پاکستان کو سراہا گیا ہے۔ ورلڈ الیون سکواڈ کے کھلاڑیوں کے نام پی سی بی کی جانب سے 36 گھنٹے پہلے ہی من پسند افراد کو دے دیئے گئے تھے۔ تاہم چیئرمین نجم سیٹھی نے ہنگامی پریس کانفرس رکھ کر رسمی کارروائی مکمل کی۔ نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ ورلڈ الیون کے اعلان سے ثابت ہو گیا ہے کہ دنیا کے سٹار کھلاڑی پاکستان کھیلنے کے لیے آ رہے ہیں جن میں پانچ کھلاڑی جنوبی افریقہ سے، تین آسٹریلیا سے، دو ویسٹ انڈیز سے جبکہ سری لنکا، نیوزی لینڈ، بنگلہ دیش اور انگلینڈ سے ایک ایک کھلاڑی ورلڈ الیون کا حصہ ہے۔ ورلڈ الیون سکواڈ میں ڈوپلیسی (کپتان) دیگر کھلاڑیوں میں ہاشم آملہ، سیموئل بدری، جارج بیلی، پال کالنگ ووڈ، بین کٹنگ، گرانٹ ایلیٹ، تمیم اقبال، ڈیوڈ ملر، مورنی مورکل، ٹم پائن، تھسارا پریرا، عمران طاہر اور ڈیرن سیمی شامل ہیں۔ زمبابوے سے تعلق رکھنے والے اینڈی فلاور مہمان ٹیم کے کوچ ہونگے۔ مہمان ٹیم کی آمد کے حوالے سے پاکستان فوج کے ادارے آئی ایس پی آر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ غیر ملکی کھلاڑیوں کو فول پروف سیکورٹی فراہم کرینگے جبکہ حکومتی اور دیگر اداروں کی جانب سے بھی اس بات پر خوشی کا اظہار کیا گیا ہے کہ ورلڈ الیون پاکستان کے دورہ پر آ رہی ہے۔ ورلڈ الیون کے کپتان ڈیوپلیسی کی جانب سے جاری کیا گیا پیغام بھی پڑھ کر سنایا گیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ مجھے ایک ایسی ٹیم کا کپتان بنایا گیا ہے جس میں دنیا کے مشہور کھلاڑی شامل ہیں۔ میری نظریں اپنے پہلے دورہ پاکستان پر اور پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی میں مدد کرنے پر مرکوز ہیں۔ ڈیو پلیسی نے کہا کہ مجھے اور میری ٹیم کے تمام اراکین کو سکیورٹی ماہرین کے فیصلے پر مکمل اعتماد ہے اور مجھے پورا یقین ہے کہ اس سیریز میں حصہ لینے والے تمام افراد کی سکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اسی طرح پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کا پیغام بھی سنایا گیا جس میں انہوں نے ورلڈ الیون کے دورہ کو پاکستان کرکٹ کے لیے خوش آئند قرار دیا ہے۔