باصلاحیت کھلاڑی شرجیل خان سپاٹ فکسنگ کی بھینٹ چڑھ گیا

09 ستمبر 2017

حافظ محمد عمران
شرجیل خان کا شمار ان بدقسمت کھلاڑیوں میں ہوتا ہے جو کم وقت میں زیادہ دولت کمانے کے چکر میں بہترین کرکٹ کیرئیر سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ وہ جتنی تیزی سے اوپر آئے اس سے زیادہ تیزی کے ساتھ نیچے گئے۔ پاکستان سپر لیگ سپاٹ فکسنگ سکینڈل میں انہیں کرکٹ بورڈ کے قائم کردہ ٹربیونل نے پانچ سال کی سزا سنا دی ہے۔ ابتدائی تیس ماہ کی مکمل پابندی ہے اسکے بعد وہ کھیل کے میدانوں میں واپس آ سکتے ہیں تاہم اس عرصے میں وہ کرکٹ بورڈ کی سخت نگرانی میں رہیں گے۔ اس کیس میں فاسٹ باؤلر محمد عرفان، آل راؤنڈر محمد نواز کو بھی اعتراف جرم کرنے پر پابندی و جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ پی ایس ایل فکسنگ کیس میں آئی سی سی اینٹی کرپشن یونٹ کے سربراہ رونی فلینگن بھی گواہ کی حیثیت میں پیش ہوئے تھے۔ اب خالد لطیف، شاہ زیب حسن اور ناصر جمشید کے مستقبل کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔ اب تک کی کارروائی کو دیکھتے ہوئے ان کرکٹرز پر بھی پابندی کے واضح امکانات نظر آتے ہیں۔ سابق کرکٹرز نے شرجیل خان پر پابندی کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ ایک طرف نوجوان کرکٹرز کا لٹکا رہا ہے تو دوسری طرف مشکوک ماضی کے حامل کھلاڑیوں کو ہیرو بنا کر پیش بھی کر رہا ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چئیرمین خلاف محمود کا کہنا ہے کہ پی ایس ایل سپاٹ فکسنگ کیس میں شرجیل خان کو دی جانیوالی سزا مناسب نہ ہی بہت سخت ہے نہ ہی نرمی برتی گئی ہے البتہ یہ کہا جائے کہ اس سزا سے مستقبل میں کرکٹ کرپشن کا راستہ رک جائیگا تو یہ مشکل ہے۔ کرکٹ بورڈ نے زیرو ٹالرینس کا مظاہرہ تو کیا ہے قوانین کے مطابق سزا سنائی گئی ہے لیکن ہمیں اس سے بھی سخت رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ تیس ماہ تک کی مکمل پابندی اور تیس ماہ وہ نگرانی میں رہیں گے کچھ وقت گزر چکا ہے وہ دوبارہ کھیل کے میدانوں میں نظر آ سکتے ہیں۔ سزا زیادہ سخت ہونی چاہیے تھی یا نہیں یہ الگ بحث ہے البتہ کیا کا فیصلہ ہونا خوش آئند ہے۔ ہمیں کرکٹ میں کرپشن کو کم کرنے کے لیے ٹھوس اور جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ جب حکمران اور سرکاری افسران کرپشن کے سمندر میں نظر آتے ہیں تو کرکٹ اس کرپشن میں پاک جزیرہ کیسے ہو سکتا ہے۔ کرپشن روکنے والا اداری بھی متنازعہ ہے ہمیں سکول کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر اس معاملے میں شعور و آگاہی کی ضرورت ہے۔ ملک کی نمائندگی کی اہمیت کا سبق پڑھانا اور پڑھاتے رہنا بہت ضروری ہے۔ کرکٹرز کے معاوضوں میں خاطر خواہ اضافہ ہونا چاہیے گو کہ اب بھی بہت اچھے پیسے ملتے ہیں لیکن ہمارے کرکٹرز اپنا موازنہ بھارت آسٹریلیا اور دیگر امیر ممالک کر کرکٹرز سے کرتے ہیں تو ہمارے کھلاڑیوں کو اتنے پیسے ملنے چاہییں کہ وہ لالچ میں نہ آئیں۔ پرائیویٹ سیکٹر کو بھی اس معاملے میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔سب سے اہم بات ان افراد کے گرد شکنجہ سخت ہونا چاہیے جو کھلاڑیوں کو ایسے کاموں میں الجھانے کا باعث بنتے ہیں اس کیس میں بھی جس سٹہ باز یا مشکوک شخص کا نام سامنے آیا ہے اسکو کون پکڑے گا۔ پس پردہ رہ کر کھلاڑیوں کو اکسانے والوں کے خلاف سب سے سخت کارروائی کی ضرورت ہے۔