باکسنگ میں ملک کا نام روشن کرنا چاہتا ہوں: محمد طارق

09 ستمبر 2017

سپورٹس رپورٹر
باکسنگ کا شمار پاکستان کے ان کھیلوں میں ہوتا ہے جس میں قومی باکسرز نے عالمی سطح پر ملک کا نام روشن کر رکھا ہے۔ پاکستان باکسنگ فیڈریشن اس کھیل کی ترقی کے لیے جہاں کوشاں ہے وہیں پر نوجوان کھلاڑی بھی اپنی محنت کے ذریعے ملک کا نام روشن کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ عام طور پر قومی سطح کے مقابلوں میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے باکسرز سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ عالمی سطح کے مقابلوں میں بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرینگے۔ گذشتہ دنوں لاہور کے باغ جناح کے سرکاری مکان میں رہنے والے نوجوان باکسر محمد طارق سے ملاقات ہوئی۔ تو ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہر کھیل کا ٹیلنٹ موجود ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے نوجوان کھلاڑیوں کو کھیل کے مواقع بھی فراہم کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان باکسنگ فیڈریشن کے نئے صدر خالد محمود سے بہت ساری توقعات وابستہ ہے کہ وہ اس کھیل کو اوپر لے کر جائیں گے کیونکہ چند سالوں سے ہماری فیڈریشن کی حیثیت متنازعہ بنی ہوئی تھی لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے باکسنگ کا شوق محمد علی کلے کو دیکھ کر ہوا، قومی سطح کے مقابلوں میں حصہ لیتا ہوں اور جہاں میری کارکردگی تسلی بخش ہے۔ اگر مجھے بین الاقوامی معیار کی تربیت کا موقع فراہم کیا جائے تو قوم کو مایوس نہیں کرونگا۔ محمد طارق کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پہلے پروفیشنل باکسر محمد وسیم کی طرح میں بھی پاکستان کا نام پروفیشنل باکسنگ میں روشن کرنا چاہتا ہوں۔ محمد طارق کا کہنا تھا کہ مجھے اس کھیل میں گھر والوں کی مکمل سپورٹ حاصل ہے۔ خاص طور پر میرے والد مبارک علی جنہوں نے ہمیشہ مقابلے کے موقع پر میری حوصلہ افزائی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ لاہور اچھرہ میں واقع عابد باکسنگ کلب میں تربیت حاصل کرتا ہوں جہاں پر میرے استاد عابد رفیق باکسر مجھ پر بڑی محنت کر رہے ہیں۔ انشااﷲ اپنی محنت سے ان کی توقعات پر پورا اترنے کی کوشش کرونگا۔ ابھرتے ہوئے نوجوان باکسر کا کہنا تھا کہ رواں سال اکتوبر میں آل پاکستان باکسنگ چیمپیئن شپ منعقد ہو رہی ہے جس کو ہدف بنا کر تیاری کر رہا ہوں۔ اس چیمپیئن شپ کے ذریعے بھی اپنا لوہا منوانے کی کوشش کرونگا اور چیمپیئن شپ کا بہترین باکسر کا اعزاز حاصل کرنے کی کوشش کرونگا۔ میراے اہداف میں شامل ہے کہ قومی کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی مقابلوں میں ملک کا نام روشن کرنا ہے۔ روزانہ چھ گھنٹے پریکٹس کو دیتا ہوں جس میں سے تین گھنٹے صبح اور تین گھنٹے شام کو پریکٹس کرتا ہوں۔ اپنی تعلیم بھی جاری رکھے ہوئے ہوں۔ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کا طالب علم ہوں جہاں باکسنگ کی بنیاد پر میرا داخلہ ہوا تھا۔ کھیل کے ساتھ تعلیم حاصل کر رہا ہوں۔ میرا تعلق ایک غریب گھرانے سے ہے اپنے والدین کی توقعات پر پورا اترنا چاہتا ہوں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ کھیلوں کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرئے۔ پنجاب میں صوبائی حکومت کھیلوں کے فروغ کے لیے اچھے اقدامات اٹھا رہی ہے تاہم اس کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی معیار کا انفراسٹرکچر بھی بنایا جائے تاکہ کھلاڑیوں کو اچھی اور بین الاقوامی معیار کی تربیت حاصل کرنے کے لیے بیرون ملک نہ جانا پڑے۔ نوجوان باکسر محمد طارق کا کہنا تھا کہ 2013ء میں باکسنگ کا آغاز کیا تھا چار سالوں میں قومی سطح کے مقابلوں میں پانچ گولڈ، چار سلور میڈلز کے ساتھ بے شمار سرٹیفیکٹس حاصل کر چکا ہوں۔ مجھے باکسنگ کا جون کی حد تک شوق ہے اپنے شوق کو پورا کرنے کے لیے محنت جاری رکھوں گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان باکسنگ فیڈریشن کے ساتھ ساتھ پنجاب باکسنگ ایسوسی ایشن کے عہدیدار نئے ٹیلنٹ کی تلاش کے لیے بہت زیادہ کام کر رہے ہیں جو اس کھیل کے روشن مستقبل کے لیے خوش آئند ہے۔