بھارتی فوجی سربراہ کا بیان باہمی تعاون کے جذبہ کیخلاف ہے‘ چین

09 ستمبر 2017

بیجنگ (صباح نیوز) بھارتی فوجی سربراہ جنرل بپن راوت کے چین اور پاکستان کی جانب سے دوطرفہ حملہ کرنے کی وارننگ کے سلسلے میں بیان پر چین نے سخت اعتراض کیا ہے۔چینی حکومت کےترجمان جینگ شوانگ نے ایک بیان میں کہا کہ ہندوستانی فوجی سربراہ کا بیان آپسی تعاون کے اس جذبہ کے خلاف ہے جس کے لئے چین کے صدر شی جن پنگ اور ہندوستانی وزیراعظم نریندرمودی نے برکس کانفرنس کے موقع پرملاقات کی تھی۔انہوں نے کہا کہ صرف دو دن پہلے جن پنگ نے نریندر مودی سے کہا تھا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کی ترقی کیلئے خطرہ نہیں بلکہ مواقع ہیں۔علاوہ ازیں چینی ذرائع ابلاغ نے بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت کے اس بیان پر سخت تنقید کی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بھارت کو چین اور پاکستان کے ساتھ بیک وقت جنگ کے لئے تیار رہنا چاہیے۔چینی ذرائع ابلاغ نے اپنے ردعمل میں لکھا ہے کہ بھارتی فوج کے سربراہ کا منہ اس قدر بڑا ہے کہ وہ چین اور بھارت کے درمیان جنگ کی فضا پیدا کر سکتے ہیں۔ چینی اخبار گلوبل ٹائمز نے اپنے اداریئے میں لکھا ہے کہ برکس سربراہ اجلاس کے موقع ہر جاری کئے گئے بھارتی آرمی چیف کے بیان نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں حالیہ بہتری کے برعکس پیغام دیا ہے۔اخبار نے مزید کہا ہے کہ بھارت چین اور پاکستان کے ساتھ ایک ہی وقت میں دشمنی رکھنے کی اہلیت نہیں رکھتا۔ بھارتی جرنیلوں کو خطے کی موجودہ صورتحال بارے بنیادی آگاہی حاصل کرنی چاہیے۔ کیا بھارت چین اور پاکستان کے ساتھ بیک وقت دشمنی کے نتائج برداشت کرسکتا ہے۔ چینی عوام بھارت کے ساتھ سرحدی تنازعات جلد حل ہونے کی توقع نہیں رکھتے اور وہ بھارت کے ساتھ سرحدی تنازعات کے حل کی کوششوں کی بجائے صورتحال کو جوں کا توں رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں اس پس منظر میں بھارتی آرمی چیف کا بیان حقیقت میں ایک غلط پیغام ہے۔چینی اخبار نے سوال کیا ہے کہ کیا بھارتی آرمی چیف ایسا بیان دینے کا اختیار بھی رکھتے ہیں اور کیا بھارتی حکومت ان کے اس موقف سے متفق ہے۔ چینی حکومت کے ترجمان اخبار نے مزید کہا ہے کہ بھارتی آرمی چیف کے بیان سے غرور کا اظہار ہوتا ہے۔ انہوں نے یہ بیان دیتے وقت بین الاقوامی ضوابط کو یکسر پس پشت ڈال دیا اور سوچنے کی بات یہ ہے کہ بھارتی جنرل میں ایسا بیان جاری کرنے کے لئے درکار اعتماد کہاں سے آیا اور اس معاملے کی پشت پر کون ہے۔اخبار کے مطابق اس صورتحال میں بھارت کے دو چہرے واضح طور پر دیکھے جاسکتے ہیں، وہ ایک طرف برکس کے فورم پر چین سے تعاون کی بات کر رہا ہے تو دوسری طرف چین کے ساتھ جنگ کی باتیں بھی کر رہا ہے۔ اخبار نے آخر میں یہ سوال پوچھا ہے کہ چین کےلئے مخمصہ یہ ہے کہ برکس والے بھارت کو گلے لگائے یا جنرل بپن راوت والے بھارت کو سبق سکھائے،واضح رہے کہ ہندوستانی فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت نے کہاکہ چین کے ساتھ مستقبل میں ٹکرا کے اندیشہ کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا اور پاکستان بھی اس موقع پر فائدہ اٹھا سکتا ہے اس لئے ہندوستان کو ایک ساتھ دو محاذوں پراپنا دم خم دکھانے کیلئے تیار رہنا ہوگا۔