نجی شعبے کے قرضوں میں 6 فیصد سے زائد اضافہ

09 ستمبر 2017

کراچی (کامرس رپورٹر) اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے جمعہ 30 جون 2017ءکو ختم ہونے والی سہ ماہی کے لیے بینکاری شعبے کا سہ ماہی کارکردگی جائزہ (QPR) جاری کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سہ ماہی کی اہم پیش رفت نجی شعبے کے قرضوں میں ہونے والی وسیع البنیاد اور بلند نمو ہے جو اس کے اثاثوں کی اساس میں 8.3 فیصد اضافے کا اہم سبب ہے۔ نجی شعبے کے خام قرضوں (ملکی) میں 6.1 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ گذشتہ برس کی اسی مدت میں 4.0 فیصد نمو ہوئی تھی۔ اجناس کی خریداری کے لیے قرضوں کی موسمی ضروریات کے علاوہ مختلف شعبوں نے اپنی فنانسنگ کی ضروریات کو پورا کیا جس میں کیمیکل/دواسازی، توانائی کی پیداوار و ترسیل، زرعی کاروبار، غذا اور غذائی مصنوعات، تعمیرات، ٹرانسپورٹ اور ذخیرہ کاری وغیرہ شامل ہیں۔کاروں کی فنانسنگ میں مسلسل اضافہ صارفی قرضوں کو بڑھانے کا سبب بنا۔ قرضوں میں اضافے کو سازگار معاشی حالات سے منسوب کیا جا سکتا ہے جیسے زری نرمی، جو کہ قرضوں کی لاگت میں کمی کا باعث بنی ہے اور حقیقی معیشت سے مثبت فیڈ بیک ، خاص طور پربڑے پیمانے کی اشیا سازی (LSM) میں سرگرمیوں کے تسلسل سے۔ بینکاری شعبے کے اثاثہ جاتی معیار میں مزید بہتری آئی ہے کیونکہ خام غیر فعال قرضوں (NPLs) کا تناسب آخر جون 2017ءتک کم ہو کر 9.3 فیصد پر آ گیا ہے جو مارچ 2017ءمیں 9.9 فیصد تھا (اور آخر جون 2016ءمیں 11.1 فیصد پر)۔ سرمایہ کاریوں میں 5.6 فیصد اضافہ ہوا ہے اورسب سے زیادہ پر کشش حکومتی تمسکات (papers) رہے۔ سرمایہ کاری کے رجحان میں تبدیلی آئی ہے کیونکہ بینکوں نے زیادہ تر قلیل مدتی ایم ٹی بیز میں سرمایہ کاری کی ہے۔ حکومتی سیکوریٹیز کی سرمایہ کاری میں مسلسل اضافے سے بینکاری نظام کی پہلے سے اطمینان بخش سیالیت کی صورت حال کو مزید تقویت ملی ہے۔ شعبہ بینکاری کی امانتوں (Deposits) کی بنیاد میں6.5 فیصد اضافہ ہوا جوکہ 2016ءکی دوسری سہ ماہی کے 6.8 فیصد اضافے سے تھوڑا سا کم تھا۔ امانتوں کی نمو میں کمی کی بنیادی وجہ مالی اداروں کی امانتوں میں ہونے والی کمی تھی، جس کی نوعیت عارضی تھی۔ دوسری جانب صارفین کی امانتیں جو کہ فنڈنگ کا قدرے مستحکم ذریعہ ہوتی ہیں اور مجموعی امانتی بنیاد میں ان کا حصہ 96.5 فیصد ہے، ان میں 7.7 فیصد اضافہ ہوا جوکہ گذشتہ برس کے اسی عرصے کی 6.0 فیصد کی اضافے کی شرح سے زیادہ ہے۔ شعبہ بینکاری نے اثاثوں پر منافع کی 1.8 فیصد اور ایکویٹی پر منافع کی21.9 فیصد کی مستحکم شرح سے 150.4 ارب روپے (قبل از ٹیکس) کا منافع کمایا ہے۔ یہ امر حوصلہ افزا ہے کہ 2017ءکی دوسری سہ ماہی میں قرضوں پر آمدنی کی مد میں سودی آمدنی(Year-to-date) میں 1.0 فیصد (بموازنہ گذشتہ برس کے اسی عرصے کے دوران 8.6 فیصد کمی) اضافہ ہوا۔ شعبہ بینکاری کی شرح کفایت سرمایہ 15.6 فیصد ہے جو 10.65 فیصد کی کم از کم درکار سطح سے خاصی زیادہ ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بازار کی اضافی مالکاری کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بینکوں کے پاس خاطر خواہ رقم موجود ہے۔