نوازشریف پانامہ پر ٹی او آر کی تجویز نہ مان کر نشان عبرت بن گئے:خورشید شاہ

09 ستمبر 2017

سکھر ( ایجنسیاں) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کو میرے مشوروں سے ہمیشہ کامیابی ملی لیکن پانامہ کے معاملے کے لئے ٹی او آر بنانے کی تجویز نہ مان کر نشان عبرت بن گئے ۔میڈیا سے گفتگو کرتے اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ ہم ملک میں جمہوریتکی بالادستی چاہتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ جمہوریت کو ڈی ریل ہونے سے بچانے اور اس کی راہ میں رکاوٹیں دور کرنے کے لئے نواز شریف کو سچے دل سے مفید مشورے دیئے جنہیں مان کر انہوں نے ہمیشہ کامیابی حاصل کی لیکن افسوس کی بات ہے کہ پانامہ لیکس کے معاملے کے لئے ٹی او آر بنانے کی میری تجویز کو رد کر دیا گیا نہ صرف وہ نتیجتاً نشان عبرت بن گئے بلکہ جمہوریت کو بھی خطرے میں ڈال گئے کیونکہ ان کی نااہلی کے بعد (ن) لیگ کی جانب سے قومی اداروں پر شدید تنقید کی جا رہی ہے جو جمہوریت کی بالادستی کے اصولوں کی مکمل خلاف ورزی ہے ۔ خورشید شاہ نے کہا کہ آئی جی سندھ کا معاملہ گورننس کا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ سندھ میں ہر معاملے کو سیاست کی نذر کر دیا جاتا ہے اور اب یہ معاملہ بھی سیاست کی نذر ہو چکا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ادارے اپنے دائرے کار میں رہ کر ذمہ داری نبھائیں تو اس سے ریاست مضبوط ہو گی اور یہی ہمارا مشن ہے ۔ انہوں نے کہا عدالت ہدایت تو دے سکتی ہے ڈکٹیٹ نہیں کر سکتی۔ اگرعدالت نے انتظامی اختیارات کو استعمال کرنا شروع کر دیا تو خرابی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ترک وزیر اعظم اور ان کی اہلیہ نے بنگلہ دیش کا دورہ کر کے روہنگیا کے مسلمانوں کو حوصلہ و دلاسہ دیا جو انتہائی خوش آئند ہے اور ہمیں امید ہے کہ ہماری حکومت بھی روہنگیا کے مظلوم مسلمانوں کی ہر ممکن مدد کرے گی ۔آئی جی سندھ کا مسئلہ گورننس کا ہے۔ آج اے ڈی خواجہ ہے تو کل کوئی او آئی جی ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں گریڈ18کا افسر سیکرٹری کے عہدے پر ہے۔ سندھ میں ہر معاملے کو سیاست کی نذر کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کو میانمار کی صورتحال پر اپنا وفد بنگلہ دیش بھیجنا چاہئے۔ خورشید شاہ نے کہا مردم شماری میں چھوٹے چھوٹے ٹیکنیکل مسائل ہیں۔ مردم شماری پر17ارب خرچ ہوئے معاملے کو ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔