پی اے سی ذیلی کمیٹی نے این آئی سی ایل اراضی خریداری رپورٹ طلب کر لی

09 ستمبر 2017

اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کو بتایا گیا کہ و زارت داخلہ نے 2008-09 میں وزارت داخلہ میں ممنوعہ بور اسلحہ لائسنس کی فیس کے لیے وصول کی گی رقم کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنوینر کمیٹی شفقت محمود کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں وزارت داخلہ اور وزارت تجارت کے مالی سال 2010-11 کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔ ۔ سیکرٹری تجارت محمد یونس ڈاگا نے کمیٹی کو بتا یا کہ بیرون ملک اراضی کی خریداری میں بھی بدعنوانی ہوئی ہے جو اراضی 2008-09 میں خریدی گئی اس کی مالیت آج بھی اس سے کہیں کم ہے۔ کمیٹی نے این آئی سی ا یل کو تفصیلی رپورٹ فراہم کرنے کی ہدایت کردی اور اس معاملے کو ون پوائنٹ ایجنڈا کے طور پر میٹی کے اگلے اجلاس میں زیر بحث لایا جائے گا آڈٹ حکام نے کمیٹی کو بتا یا گیا کہ نیشنل انشورنس کمپنی لمیٹڈ نے پیپرا قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اربوں روپے کی اراضی کی خریداری اور خلاف قواعد ملازمتوں پر بھرتیوں سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا ٹیکہ لگا دیا ، اراضی اندرون اور بیرون ملک خریدی گئیں ۔کمیٹی نے اس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نیب اور این آئی سی ایل سے تفصیلات طلب کر لیں ۔ کمیٹی نے کہا کہ این آئی سی ایل میں بھی ای او بی آئی کی طرح بے ضابطگیاں ہورہی ہیں ،اس معاملے کو ون پوائنٹ ایجنڈا کے طور پر کمیٹی کے اگلے اجلاس میں زیر بحث لایا جائے گا۔ آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ وزارت داخلہ نے 2008-09 میں ممنوعہ بور کے 28527 اسلحہ لائسنس جاری کئے جس کی مالیت 21کروڑ 39لاکھ سے زائد تھی۔ غیر ممنوعہ بور کے بھی 60ہزار سے زائد اسلحہ لائسنس جاری کئے گئے جس میں 30کروڑ سے زائد رقم وصول کی، ریکارڈ کی تصدیق بھی نہیں کروائی گئی۔ وزارت داخلہ نے جواب دیا جو سیکشن آفیسر اس میں ملوث تھا اسے گرفتار کیا گیا ہے۔ 9کروڑ روپے کا ریکارڈ دستیاب نہیں ہے جس کی خورد برد میں سیکشن آفیسر ملوث پایا گیا۔ سیکرٹریوزارت داخلہ ارشد مرزا نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ یہ بدعنوانی کا معاملہ ہے،کمیٹی وقت فراہم کرے اس پر مزید محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔ کمیٹی نے وزارت کی کارکردگی پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزارت اپنے ماتحت اداروں کی نگرانی کیوں نہیں کرتی۔کمیٹی نے سول آرمڈ فورسز کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا کمیٹی نے ساتھ یہ بھی کہا کہ مالی قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ کمیٹی نے وزارت خزانہ کو شہداءکے اہل خانہ کے لئے وقت پر اعلان شدہ فنڈز کا اجراءکرنے کی ہدایت کی۔ کمیٹی نے وزارت داخلہ کو بھی ہدایت کی کہ نیکٹا کے ادارے کو فعال کیا جائے کیونکہ دہشت گردی کے خلاف نیکٹا کا اہم کردار ہے۔ کمیٹی اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ فرنٹیئر کانسٹیبلری کے محکمے میں ملٹی نیشنل کمینیوں سے سکیورٹی کی مد میں پیشگی فیس لے کر بینک اکاﺅنٹ بنا دیا جاتا ہے اور منافع اس پر حاصل کیا جاتا ہے۔ جس پر فرنٹیئر کانسٹیبلری حکام نے کہا کہ منافع ملٹی نیشنل کمپنیوں کو ہی جاتا ہے۔ آڈٹ حکام نے کہا کہ ہمیں اکاﺅنٹ کے منافع کا چھ ماہ کا ریکارڈ نہیں دیا گیا کمیٹی نے وزارت کو ہدایت کی کہ یہ ایک جاری عمل ہے اس حوالے سے قواعد مرتب کئے جائیں۔