ملک میں پیاز کا بحران شدید ہونے کا خدشہ

09 ستمبر 2017

کراچی(کامرس رپورٹر)پیاز کی قلت کے سبب قیمتوں کا بحران شدت اختیار کرگیا ہے۔عید کی تعطیلات کے فوری بعد کراچی سبزی منڈی میں پیاز کی تھوک قیمت 4200 روپے فی من تک پہنچ گئی تھی جس کے بعد خوردہ سطح پر پیاز 100سے 120روپے کلو قیمت پر فروخت کی گئی تاہم قیمتوں میں غیرمعمولی اضافے کے بعد گزشتہ 2 روز کے دوران اسٹاک شدہ پیاز دیگر شہروں کو سپلائی کرنے کے بجائے کراچی سبزی منڈی میں لائی گئی جس کی وجہ سے تھوک قیمت کم ہوکر 2500روپے فی من کی سطح پر آ گئی ہے اور خوردہ سطح پر پیاز 80 روپے فی کلو قیمت پر فروخت کی جارہی ہے۔بیوپاریوں کے مطابق پیاز کی قیمتوں میں استحکام عارضی ہے کیونکہ بلوچستان کی فصل آئندہ 2 ماہ تک پیاز کی طلب پوری کرنے کے لیے ناکافی ہے، بارشوں کی وجہ سے بلوچستان کی پیداوار اوسط پیداوار سے 40 فیصد تک کم رہی ہے جس کی وجہ سے سندھ کی پیاز مارکیٹ میں آنے سے قبل ہی قلت کا سامنا ہے، بیوپاریوں اور درآمد کنندگان نے پیاز کی قیمتوں کا بحران حل کرنے کے لیے فوری طور پر پیاز کی درآمد کی اجازت کا مطالبہ کیا ہے۔درآمد کنندگان نے قرنطینہ حکام سے رابطہ کرکے فی الفور پیاز کی درآمد کے پرمٹ جاری کرنے کی درخواست کی ہے جس پر قرنطینہ ڈپارٹمنٹ نے صورتحال کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے تاہم تاجروں کا کہنا ہے کہ پیاز کے زمینداروں کو فائدہ پہنچانے کے لیے صارفین کے مفاد کو نظر انداز کیا جا رہا ہے اور درآمدی پرمٹ جاری کرنے میں تاخیری حربے استعمال کیے جارہے ہیں جس کی وجہ سے قیمتوں کا بحران شدت اختیار کر رہا ہے۔پیاز کے بیوپاریوں کے مطابق بلوچستان میں پیدا ہونے والی زیادہ تر پیاز کا اسٹاک اب ختم ہوچکا ہے، بارشوں کی وجہ سے پیاز کے اسٹاک اور فصل کو نقصان پہنچا ہے اور اب سندھ کی فصل آنے میں ڈیڑھ سے 2 ماہ کا عرصہ باقی ہے، اس دوران پیاز کی طلب پوری کرنے کے لیے درآمد کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا، سندھ میں بھی پیاز کی فصل کو بارشوں سے نقصان پہنچا ہے اور ابتدائی اندازوں کے مطابق پیاز کی 20فیصد پیداوار متاثر ہوئی ہے جو اکتوبر کے مہینے میں بازار میں آئے گی۔ادھر درآمد کنندگان نے تجویز پیش کی ہے کہ پیاز جیسے بنیادی کچن آئٹم کی طلب پوری کرنے لیے فوری طور پر درآمد کی اجازت دی جائے جو ترکی، مصر یا چین سے درآمد کی جاسکتی ہے، مقامی طلب پوری کرنے اور سندھ کی نئی فصل بازار میں آنے تک درآمدی پیاز سے طلب پوری کی جاسکتی ہے ۔جس سے پیاز کی قیمتوں کو استحکام ملے گا۔ درآمد کنندگان کے مطابق پیاز درآمد نہ کی گئی تو بازار میں مقامی پیاز نایاب ہوجائے گی اور قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگا، دوسری جانب درآمدی پیاز مارکیٹ میں آنے سے خوردہ قیمت 50سے 60روپے تک مستحکم رکھی جاسکے گی۔