کمپنی ایکٹ 2017‘ او آئی سی سی آئی کے خدشات دور کرنے کی یقین دہانی

09 ستمبر 2017

کراچی (کامرس رپورٹر) اوورسیزانوسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری(OICCI)کے ایک وفد نے اوآئی سی سی آئی کے سیکریٹری جنرل عبدالعلیم کی سربراہی میں ایس ای سی پی کے قائم مقام چیئرمین ظفر عبداللہ سے ملاقات کی۔اس موقع پر ایس ای سی پی کے کمشنر طاہر محمود بھی موجودتھے۔ ملاقات کے دوران اوآئی سی سی آئی کے سیکریٹری جنرل عبدالعلیم نے اہم اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ایس ای سی پی کی قیادت کے فعال کردار کو سراہتے ہوئے اوآئی سی سی آئی ممبران کی جانب سے کمپنی ایکٹ2017کے حوالے سے دس اہم خدشات کو پیش کیاجو براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاروں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ اوآئی سی سی آئی نے پاکستان کے کاروباری ماحول کے حوالے سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے تصور کوبہتر بنانے کیلئے مسلسل، شفاف اور متوقع طویل مدّتی 

پالیسیوں کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ اس موقع پر ایس ای سی پی کے قائم مقام چیئر مین ظفر عبداللہ نے نئے متعارف کرائے گئے کمپنی ایکٹ 2017کے کچھ حصوں کو فوری نافذ کرنے پر اپنے خدشات اورعملی دشواریوں کونمایاں کرنے پر او آئی سی سی آئی کو سراہا۔ایس ای سی پی سے ملاقات کے دوران سیکشن 208کے تحت متعلقہ پارٹی کی ٹرانزیکشن کی وسیع گنجائش، سیکشن 452کے تحت بینیفیشل اونر شپ کی گلوبل رجسٹریشن جس کو او آئی سی سی آئی غیر ملکی سرمایہ کاروں کو اپنی طرف راغب کرنے کیلئے امتیازی اور انتہائی منفی تصور کرتی ہے۔،سیکشن244کے تحت تین سال تک ان کلیمڈ(Unclaimed) رہنے والے حصص اور ڈیویڈنڈ کو حکومت کی تحویل میں دے دینا جو کہ حصص یافتہ گان کے ساتھ انتہائی غیر مناسب ہے اور خطے کے ترقی پذیر ممالک کے مطابق نہیں ہے، جیسے کلیدی معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ او آئی سی سی آئی نے سیکشن155,166(ڈائریکٹر شپ کی تعداد/آزاد ڈائریکٹرکے انتخاب)، سیکشن172(معطلی کے احکامات)، سیکشن180(ڈائریکٹرز اور آفیسرز کے قرضہ جات کی تفصیل) اور سیکشن153(مخصوص افراد کا ڈائریکٹر بننے کیلئے عدم استحقاق) جیسے سیکشنز پر اپنے خدشات سے ایس ای سی پی کو آگاہ کیا۔ ایس ای پی کے چیئرمین ظفر عبداللہ اور کمشنر طاہر محمود نے او آئی سی سی آئی کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات کو حل کرنے کیلئے اپنی مکمل حمایت کا اظہار کیا اور یقین دلایا کہ ایس ای سی پی کے دائرہ کارکے اندر آنے والے کچھ مسائل کو قانون کے مطابق جلد ہی حل کیا جائے گا۔جبکہ دیگر معلامات کو بھی ریگولیٹرزکی رضامندی سے قانون سازی کے ذریعے جلدحل کیا جائے گا۔ اس دوران کمپنیز ایکٹ 2017کی دفعات کے مطابق کاروباری اداروں کی کچھ واضح عملی شقوں کی تعمیل کیلئے ٹائم لائنز کو ختم کرکے سہولت فراہم کی جائے گی۔اس موقع پر اوآئی سی سی آئی کے سیکریٹری جنرل عبدالعلیم نے کہا کہ ایس ای سی پی نے ہمیشہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے خدشات کو اہمیت دی ہے اور آج کی ملاقات ایس ای سی پی کی کوششوں کی ایک اور مثال ہے جس سے ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی حکومتی کوششوں کو مدد ملے گی۔