اے این ایف دینہ نے راولپنڈی سے ملزم پکڑا مگر متعلقہ تھانہ کو اطلاع کیوں نہ دی؟ عدالت

09 ستمبر 2017

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت) سپریم کورٹ نے ناکافی شواہد کی بنیاد پر منشیات برآمدگی کیس کے ملزم کو بری کر دیاہے۔کیس کی سماعت جسٹس دوست محمد خان کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیسکی سماعت کی تو اے این ایف کے پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتاےا کہ ملزم وقار اعظم سے اے این ایف نے راولپنڈی میں فیض آباد کے علاقہ میں 3 کلو چرس برآمد کی تھی،ملزم سوزوکی گاڑی میں سوار تھا او چرس گاڑی کے بمپرکے نیچے چھپائی گئی تھی۔ جسٹس دوست محمد خان نے کہا کہ دینہ اے این ایف نے 120 کلو میٹر کا سفر کر کے ملزم کو راولپنڈی سے گرفتار کیا، اے این ایف نے راولپنڈی کے متعلقہ تھانے کو کاروائی کی اطلاع کیوں نہیں کی؟تھانوں کی مخصوص حدود ہوتی ہیں اگر ایک تھانہ دوسرے کی حدود میں مداخلت کریگا تو مسائل پیدا ہونگے، ملزم کو پکڑنے کے بعد بھی متعلقہ تھانے میں اطلاع نہیں کی گئی، اے این ایف پولیس اگر کوشش کرتی تو کیریر اور جسکا مال تھا ان دونوں کو رنگے ہاتھوں پکڑ سکتی تھی۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہونا تو یہ چاہیے کہ ڈی جی اے این ایف عدالت میں موجود ہوں اور سوالات کے جواب دیں۔جسٹس دوست محمد خان نے کہا کہ یونیورسٹیوں اور کالجوں کے نوجوانوں کو منشیات کا عادی بنایا جا رہا ہے، اے این ایف نے یونیورسٹیوں میں منشیات کی روک تھام کیلیے کیا اقدامات کیے، دہشتگرد عناصر 65 فیصد فنڈنگ منشیات کے کاروبار سے حاصل کرتے ہیں ،دنیا بھر کی 75 فیصد منشیات افغانستان میں کاشت ہو رہی ہیں جو خطرے کی گھنٹی ہے۔