جرائم سے نمٹنے کےلئے پولیس نظام میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہے:آئی جی

09 ستمبر 2017

بہاولپور (نامہ نگار) آئی جی پنجاب کیپٹن(ر) عارف نواز خان نے کہا ہے کہ 21ویں صدی کے لااینڈآرڈر اور جرائم سے متعلقہ چیلنجز سے احسن اور بھرپور طریقہ سے نبردآزما ہونے کے لئے پولیس کے لئے جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہے اور جب تک پولیس کے واچ اینڈ وارڈ اور انویسٹی گیشن نظام کو جدید سائنسی خطوط پر استوار نہیں کیا جاتا معاشرہ کو جرائم سے پاک کرنے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ پنجاب پولیس کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے تھانوں کی سطح پر انفارمیشن ٹیکنالوجی کی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔وہ آج ڈسٹرکٹ پولیس لائن میں پولیس دربار سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر ریجنل پولیس آفیسر رفعت مختار راجہ، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسربہاول پور ڈاکٹر محمد اختر عباس، ڈی پی او بہاول نگر کیپٹن(ر) لیاقت علی ملک، ڈی پی او رحیم یار خاں ذیشان اصغر، پولیس فورس کے افسران اور جوان موجود تھے۔انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب کیپٹن(ر) عارف نواز خان نے کہا ہے کہ پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے لحاظ سے پنجاب پولیس ملک بھر میں نمبرون ہے۔ اس کی صلاحیتوں میں مزید اضافہ کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے پولیس فورس کے رسک الاﺅنس کو بحال کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ یکم اکتوبر کی تنخواہ میں بقایا جات ادا کر دیئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس افسران وجوانوں کی فلاح وبہبود کے لئے موثر انداز میں کام کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پولیس جوانوں کے ڈیلی الاﺅنس2005ءکی بجائے سال 2017ءکے مطابق کر دیئے گئے ہیں۔آئی جی پنجاب نے کہا کہ پولیس فورس لوگوں کی جان ومال کی حفاظت کے لئے دن رات کام کر رہی ہے لیکن اس کے باوجود عوام کی نظر میں پولیس کا امیج بہتر نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ رویوں میں تبدیلی لائی جائے اور اخلاقیات کوسرفہرست رکھا جائے۔انہوں نے کہا کہ تھانوں میں آنے والے سائلین سے خوش اخلاقی سے پیش آیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ لاہور میں موجود کمپلینٹ سیل 8787پر 58000شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 25فیصد مکمل اور25فیصد جزوی جھوٹی پائی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ جھوٹی درخواستوں سے نہ صرف معصوم لوگ پریشانی سے دوچار ہوتے ہیں بلکہ پولیس کا قیمتی وقت بھی ضائع ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ امر انتہائی افسوسناک ہے کہ معاشرہ میں بے گناہ ، معصوم شہریوں کو بلاوجہ جھوٹے مقدمات میں پھنسانے کے لئے یہ طریقہ اپنایا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ انہیں فخر ہے کہ بہترین پولیس فورس کی کمان ان کے پاس ہے۔ وہ اس میں مزید بہتری لانے اور پولیس فورس کے افسران وملازمین کی فلاح وبہبود کے کاموں میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کریں گے۔انہوں نے توقع ظاہر کی کہ پولیس فورس اسی جوش وجذبہ سے کام جاری رکھے گی۔قبل ازیں ریجنل پولیس آفیسر رفعت مختار راجہ نے سپاسنامہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے جان ومال اور آبرو کی حفاظت پولیس فورس کی اولین ذمہ داری ہے۔بعدازاں آر پی او رفعت مختار راجہ اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر بہاول پور ڈاکٹر اختر عباس نے آئی جی پنجاب پولیس کو یادگار کے طور پر سوینئر اور البم پیش کیا۔اس موقع پر اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے پولیس افسران اور جوانوں میں تعریفی اسناد اور کیش پرائز بھی دیئے گئے۔ انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب کیپٹن(ر) عارف نوازخان ڈسٹرکٹ پولیس لائن میںپہنچے تو پولیس کے چاق وچوبند دستے نے انہیں سلامی پیش کی۔ آئی جی پنجاب یادگار شہدائے پولیس گئے جہاں انہوں نے پھول چڑھائے اور فاتحہ خوانی کی۔ جب کہ انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب کیپٹن(ر) عارف نواز خان نے آج یہاں ماڈل پولیس سٹیشن بغداد الجدید میں شہریوں کی سہولت کے لئے قائم کردہ ”پولیس سہولت سینٹر“ کا معائنہ کیا۔اس موقع پر ریجنل پولیس آفیسر رفعت مختار راجہ اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر بہاول پور ڈاکٹر اختر عباس نے انہیں پولیس سہولت سنٹر کے بارے میں بریفنگ دی۔