ملک بھر میں پانی کے 80 فیصد نمونے مضرصحت نکلے

09 ستمبر 2017

اسلام آباد (نوائے وقت نیوز) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس ٹیکنالوجی میں انکشاف ہوا ہے کہ ملک بھر سے پانی کے لئے گئے80فیصد نمونے مضر صحت پائے گئے۔ حتی ٰ کہ پارلیمنٹ ہاﺅس اور لاجز کے 6 فلٹریشن پلانٹس میں سے3 کا پانی صحیح نہیں ،کوئٹہ میں پانی کی شدید قلت ہونے والی ہے اسلئے وہاں سے زراعت ختم کی جارہی ہے، شہروں کی نسبت دیہی علاقوں میں مضر صحت پانی زیادہ ہے۔ قائمہ کمیٹی نے شفاف پینے کے پانی ملاوٹ سے پاک اشیا خورد نوش و دودھ کی فراہمی کیلئے چاروں چیف سیکرٹریز کو آئندہ اجلاس میں طلب کر لیا۔ کمیٹی نے پی ایس کیو سی اے اور پی سی آر ڈبلیو آر کو اپنی اپنی کارکردگی موثر بنانے کیلئے اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی ۔کمیٹی نے ملک میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز کا بجٹ بڑھانے اور حکومت سے وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کا الگ وزیر لگانے کی سفارش کر دی ۔جمعہ کو کمیٹی کا اجلاس چیئر مین سینیٹر عثمان سیف اللہ خان کی زیر صدارت ہوا جس میں ارکان کمیٹی سینیٹرز سردار فتح محمد محمد حسنی ، لیفٹیننٹ جنرل (ر)عبدالقیوم اور میاں محمد عتیق شیخ کے علاوہ وزارت سائنس ٹیکنالوجی اور اسے ماتحت اداروں کے اعلی حکام نے شرکت کی ۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں قومی ادارہ برائے اوشنو گرافی کے بورڈ آف گورنر کیلئے سینیٹر مرتضی وہاب کی نامزدگی کی منظوری دی گئی ۔ ڈائریکٹر جنرل پاکستان سٹینڈر زکوالٹی کنڑول اتھارٹی محمد خالد صدیق نے قائمہ کمیٹی کو ادارے کی کارکردگی بارے تفصیل سے آگاہ کیا۔ سینیٹر میاں عتیق شیخ نے کہا کہ ٹی وائٹنر جانوروں کیلئے بھی مضر صحت ہے جو انسانوں کو پلایا جارہا ہے ۔ رکن کمیٹی لیفٹیننٹ جنرل(ر)عبدالقیوم نے کہا کہ ٹی وائٹنر بین الاقوامی معیار کے مطابق تیار کریں ناقص اشیا کی فراہمی کی وجہ سے جگر گردے اور معدے کی بیماریوں میں اضافہ ہو رہاہے ۔ پولٹری کی خوراک میں مضر صحت اجزا شامل ہیں جو دیگر ممالک میں بین ہیں ۔ تحقیق کے ادارے کارکردگی کو بہتر کیں اور ایسے اقدامات اٹھائیں جن کی بدولت عوام کو شفاف پینے کا پانی اور مضر صحت اشیاءکی فراہمی کو کنڑول کرنے میں مدد ملے۔