سندھ میں نیب قوانین کی منسوخی کا دوبارہ جائزہ لیا جائے: زرداری

09 ستمبر 2017

کراچی (سٹاف رپورٹ+ نوائے وقت رپورٹ) سابق صدر آصف علی زرداری نے سندھ میں نیب کے خاتمے سے متعلق قانون پر بیان میں کہا ہے کہ سندھ حکومت احتساب آرڈیننس کے خاتمے سے متعلق بل کا از سرنو جائزہ لے صوبے میں احتساب سے متعلق دوسرے صوبوں جیسا قانون لایا جائے پی پی فیڈریشن کی جماعت ہے سندھ حکومت قوانین کا جائزہ لیکر نئی قانون سازی کر سکتی ہے پی پی نے ہمیشہ وفاق کو مضبوط بنایا سندھ میں نیب آرڈیننس کی منسوخی سے تنازعات نے جنم لیا۔
سکھر(آئی این پی)قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ اداروں کو اپنی حدود میں رہ کر کام کرنا ہوگا، اگر عدالتیں حکومتی اختیارات استعمال کرنا شروع کرینگی تو ریاست مظبوط نہیں رہے گی، آئی جی سندھ کا معاملہ اختیارات کا نہیں بلکہ گورننگ کا مسئلہ ہے، عدالتیں صرف ہدایات دے سکتی ہیں ڈکٹیٹ نہیں کر سکتی ہیں۔ وہ محکمہ این ایچ اے کی ٹیکنیکل ٹیم کے ہمراہ سکھر روہڑی برج منصوبے کی فیزیبلٹی بنانے کے حوالے سے منصوبے کا جائزہ لینے کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ خورشید احمد شاہ کا کہنا تھا کہ ہم نے ہمیشہ جمہوریت کی مضبوطی کے لیئے کام کیا اداروں کو بھی اپنی حدود میں رہ کر کام کرنا ہوگا، اگر ادارے اختیارات سے تجاوز کرینگے تو ریاست کمزور ہوگی، عدالتوں کا کام ہدایات دینا ہے ڈکٹینٹ کرنا نہیں جیسے مسائل سندھ میں اسی طرز کے مسائل پنجاب میں بھی موجود ہیں لیکن عدالتوں کے فیصلے ایک جیسے نظر نہیں آتے، عدالتی فیصلے پورے ملک میں یکساں نظر آنے چاہئیں، انہوں نے کہا کہ برما میں ہونے والے مسلمانوں کی نسل کشی پر سب سے پہلے میں نے سکھر سے بات کی تھی ترکی کا وفد بنگلا دیش پہنچا ہے، پاکستان کو بھی خاموشی توڑ کر اپنا وفد بنگلہ دیش بھیجنا چاہئے۔ خورشید شاہ نے کہا کہ نواز شریف کو میرے مشوروں سے ہمیشہ کامیابی ملی۔ پانامہ پر ٹی او آر کی تجویز نہ مان کر وہ نشان عبرت بن گئے۔ علاوہ ازیں سید خورشید احمد شاہ کو سکھر میں مصروفیات کے دوران بھوک نے کیا ستایا، شاہ صاحب ٹھیلے پر کچوریاں کھانے پہنچ گئے۔ خورشید شاہ کو دیکھ کر کئی لوگ بھی کچوری فرخت کرنے والے کے ٹھیلے کے گرد جمع ہوگئے۔ اپوزیشن لیڈر نے مہمانوں کو بھی کچوریاں کھلائیں۔ خورشید شاہ نے کچوری بیچنے والے کو ہزار روپے بھی دیئے۔