سینئر نائب امیر جمعیت اہلحدیث مولانا ابوتراب، بیٹے محافظ سمیت اغوا

09 ستمبر 2017

کوئٹہ (صباح نیوز) کوئٹہ میں نامعلوم مسلح ملزم مرکزی جمعیت اہل حدیث کے سینئر نائب امیر مولانا ابو تراب، ان کے بیٹے اور محافظ کو اغوا کرکے لے گئے۔ پولیس کے مطابق مولانا ابو تراب اپنے بیٹے اور محافظ کے ہمراہ ایئرپورٹ روڈ پر جا رہے تھے کہ انہیں نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو روکا اور گاڑی سے اتار کر ساتھ لے گئے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ مولانا ابو تراب کی گاڑی ایئرپورٹ روڈ سے مل گئی۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن کا آغاز کردیا تاہم اب تک اس حوالے سے کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ علاوہ ازیں مرکزی جمعیت اہل حدیث کے جاری بیان میں مرکزی جمعیت اہلحدیث کے امیر مولانا ساجد میر نے مولانا اور ان کے رفقہ کی فوری بازیابی اور اغواکاروں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا۔ مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کے سینئر نائب امیر اور رکن اسلامی نظریاتی کونسل مولانا علی محمد ابوتراب کا غوا قابل مذمت اور باعث تشویش ہے۔ فوری بازیاب کرایا جائے۔ اغوا کاروں کو گرفتار کیا جائے۔ سنیٹر پروفیسر ساجد میر نے واقعہ کی مذمت اور گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا ابوتراب جماعت کا سرمایہ اور امن پسند اور محب وطن رہنما ہیں۔ دن دہاڑے کوئٹہ کے حساس علاقہ سے ان کو اغوا کرنے کا واقعہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ کارکنوں کو اس موقع پر پرامن رہنے کی تلقین تاہم حکومت اور متعلق اداروں کو خبردار کرتے ہیں کہ انہیں فوری بازیاب نہ کیا گیا تو ملک گیر سطح پر احتجاج کریں گے۔ سنیٹر ساجد میر نے حکومت بلوچستان اور وہاں کی فورسز سے مطالبہ کیا ہے کہ غیرمتنازعہ شخصیت کو فوری بازیاب کرایا جائے۔ خیال رہے حالیہ کچھ برسوں میں بلوچستان میں دہشت گردی، فرقہ وارانہ اور دیگر جرائم کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے جس میں سیکڑوں افراد جاں بحق ہوئے ہیں، اس حوالے سے صوبائی حکومت متعدد مرتبہ یہ دعوی کرچکی ہے کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی را افغانستان کی خفیہ ایجنسی این ڈی ایس کے ساتھ مل کر پاکستان کو غیر مستحکم بنانے کی سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت بلوچستان سمیت دیگر صوبوں میں ترقیاتی کام جاری ہیں، اس منصوبے کے حوالے سے دعوی کیا جارہا ہے کہ یہ خطے اور خاص طور پر پاکستان میں معاشی تبدیلی کا باعث ہوگا۔