آج امریکہ پر انحصار کم کرنے کے علاوہ چین کے اعتماد میں کمی نہ آنے دینے کی بھی ضرورت ہے

09 ستمبر 2017

وزیراعظم اور وزیر خارجہ کا قومی خارجہ پالیسی کے درست سمت کی جانب تعین کا عندیہ اور ڈومور کے امریکی تقاضے کا اعادہ


وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیاءو افغانستان کیلئے ٹرمپ انتظامیہ کی نئی پالیسی ناکامی سے دوچار ہوگی‘ افغان جنگ پاکستان لانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ گزشتہ روز اسلام آباد میں سفیروں کی تین روزہ کانفرنس کے اختتامی سیشن میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کی خارجہ پالیسی عصری تقاضوں‘ جیوپولیٹیکل صورتحال اور ملک کے وسیع تر مفاد میں ازسرنو تشکیل دی جا رہی ہے۔ انہوں نے سفیروں کو ہدایت کی کہ پاکستان کا موقف زیادہ واضح انداز میں دنیا کے سامنے لایا جائے۔ انہوں نے پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہمسایہ ملک بھارت پر زور دیا کہ وہ اپنی دہشت گردانہ کارروائیاں بند کرے۔ اختتامی سیشن کے بعد وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ پر پاکستان کا انحصار اب کم ہوگیا ہے۔ پاکستان وہ واحد ملک ہے جو دہشت گردی کیخلاف جنگ جیت رہا ہے۔ ہم اپنے ملک کو قربانی کا بکرا نہیں بننے دینگے۔ انہوں نے کہا کہ خطہ میں رونما ہونیوالی تبدیلیوں کے پیش نظر پاکستان کو بھی اپنی سمت کا تعین کرنا پڑیگا۔ انکے بقول دہشت گردی کی جنگ میں ہم نے کھویا ہی کھویا ہے‘ پایا کچھ نہیں۔ اب ہمیں بھی نئی اور درست سمت کا تعین کرنا ہوگا۔ انہوں نے واشنگٹن انتظامیہ کو دوٹوک الفاظ میں کہا کہ واشنگٹن کو خطے کی حقیقی صورتحال کا ادراک نہیں۔ امریکہ سے ہمارے تعلقات ختم نہیں ہو رہے البتہ اب ہمارا امریکہ پر انحصار کم ہو گیا ہے۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ قیام پاکستان کے بعد سے اب تک ہماری خارجہ پالیسیوں کے امریکہ کی جانب جھکاﺅ سے ہمیں خطے میں کئی آزمائشوں اور اپنی سلامتی کیلئے متعدد خطرات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ تقسیم ہند کے بعد بھارت نے اپنی سامراج مخالف پالیسی اور سوویت یونین کے ساتھ تعلقات کو اپنی خارجہ پالیسی کا محور بنانے کا بھرپور فائدہ اٹھایا جس نے پاکستان کی سلامتی کیخلاف اپنی شروع دن کی سازشوںکو پروان چڑھانے کیلئے سوویت یونین کی معاونت حاصل کی چنانچہ 65ءاور 71ءکی پاک بھارت جنگوں میں سوویت یونین مکمل طور پربھارت کی سرپرستی کرتا اور اسے جدید جنگی سازوسامان اور گولہ بارود فراہم کرتا رہا۔ اسکے برعکس امریکہ نے ان جنگوں میں پاکستان کی حمایت کیلئے سوائے زبانی جمع خرچ کے اور کچھ نہ کیا اور 71ءکی جنگ کے دوران تو بھارت نے پاکستان کو سقوط ڈھاکہ کے سانحہ سے دوچار کردیا مگر پاکستان کیلئے امریکی کمک آئی نہ ساتواں بحری بیڑہ ۔جس کا امریکہ کی جانب سے پاکستان کو جھانسہ دیا گیا تھا۔ اصولی طور پر اس امریکی بے وفائی کے بعد پاکستان کی قومی خارجہ پالیسی میں عصری تقاضوں کے مطابق تبدیلی عمل میں لائی جانی چاہیے تھی اور اسے ملکی سلامتی اور قومی مفادات کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جانا چاہیے تھا مگر بدقسمتی سے ایسا نہ ہو سکا اور بھارت کے برخلاف پاکستان کی سلامتی کے تحفظ کے معاملہ میں امریکی طوطا چشمی کے باوجود پاکستان نے سوویت یونین کیخلاف شروع کی گئی امریکی سرد جنگ میں اسی کا بھرپور ساتھ دیا اور افغان مجاہدین کو تربیت دیکر انکی عسکری طاقت کی صورت میں امریکہ کو کمک پہنچائی جس نے افغان مجاہدین کی معاونت سے ہی سوویت یونین کو شکست سے دوچار کیا اور سوویت صدر گورباچوف کی گلاسنوسٹ پالیسی کی بنیاد پر سوویت یونین ٹکڑوں میں تقسیم ہو گئی جس کا امریکہ نے دنیا کی واحد سپرپاور بن جانے کی شکل میں جشن منایا مگر پاکستان کی وفاﺅں کا کوئی صلہ نہ دیا اور سوویت یونین کے ٹکڑے ہونے کے بعد اپنی خارجہ پالیسی کی سمت تبدیل کرنیوالے ہمارے مکار دشمن بھارت کو گلے لگا لیا اور اسکے ساتھ دفاعی‘ جنگی‘ تجارتی اور ایٹمی تعاون کے معاہدے کرنا شروع کر دیئے۔ یہ امریکی پالیسی بھی ہم سے اپنی قومی خارجہ پالیسی پر نظرثانی کی متقاضی تھی مگر ہم اپنے دشمن بھارت کو اپنا فطری اتحادی قرار دینے والے امریکہ کے ساتھ ایسے نتھی ہوئے کہ افغانستان میں شروع کی گئی اسکی دہشت گردی کی جنگ میں اسکے فرنٹ لائن اتحادی بن گئے اور اس طرح پرائی بلا اپنے گلے ڈال کر اپنی سرزمین کو دہشت گردوں اور انکے سرپرستوں و سہولت کاروں کے عزائم کی بھینٹ چڑھانا شروع کر دیا۔ امریکہ کو اس پرائی جنگ میں ہمارے بے لوث کردار پر بھی اعتبار نہ آیا اور اس نے ڈومور کے تقاضے کرتے ہوئے ہماری سرزمین کو ڈرون حملوں اور دوسری زمینی و فضائی کارروائیوں کے ذریعے خود بھی ادھیڑنا شروع کردیا۔ اسکے برعکس بھارت کو ہماری سلامتی اور ایٹمی ٹیکنالوجی کیخلاف اپنی سازشوں میں مکمل امریکی معاونت حاصل ہوگئی جس نے امریکی حمایت کی بنیاد پر ہی پاکستان پر دہشت گردوں کی حمایت کے الزامات لگا کر اسے دنیا میں تنہاءکرنے کا سازشی منصوبہ بنایا جس پر وہ اپنی سفارتی فعالیت کے باعث اس حد تک کامیاب ہوچکا ہے کہ ہمارے دیرینہ مخلص دوست ملک چین کی جانب سے بھی برکس کانفرنس میں دہشت گردی کی جنگ میں کالعدم تنظیموں کیخلاف مو¿ثر کارروائی کا ایسا ہی تقاضا سننے کو مل گیا جو ہم امریکہ‘ بھارت اور افغانستان تک سے دہشت گردی کی جنگ کے دوران سنتے آئے ہیں۔
امریکہ کی ٹرمپ انتظامیہ تو ہمیں فرنٹ لائن اتحادی کے کردار میں بے مثال جانی اور مالی قربانیوں کا ”صلہ“ دینے کیلئے لٹھ لے کر ہمارے پیچھے پڑ گئی ہے جس کیلئے ڈونلڈ ٹرمپ خود پیش رفت کررہے ہیں۔ انہوں نے پاکستان اور مسلمانوں پر دہشت گردی کا ملبہ ڈالنے والے اپنے انتخابی منشور کو واشنگٹن انتظامیہ کی پالیسی کا حصہ بنایا اور اسکی بنیاد پر پاکستان کو مختلف پابندیوں میں جکڑنے کی منصوبہ بندی طے کرلی۔ اسکے تحت ہی پاکستان کی سپورٹ فنڈ والی گرانٹ کم کرنے اور روکنے اور پاکستان کا فرنٹ لائن اتحادی کا سٹیٹس ختم کرنے کی باتیں واشنگٹن انتظامیہ کی جانب سے شدومد کے ساتھ سنی جا رہی ہیں جبکہ ٹرمپ نے اپنی نشری تقریر میں جنوبی ایشیاءاور پاکستان و افغانستان کیلئے اپنی نئی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان سے ڈومور کے تقاضے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اسی بنیاد پر تسلسل کے ساتھ کالعدم تنظیموں کیخلاف سخت کارروائی کا امریکی تقاضا کیا جارہا ہے اور اس حقیقت کو دانستہ طور پر تسلیم نہیں کیا جارہا کہ پاکستان تو پہلے ہی دہشت گردوں کیخلاف بے لاگ‘ بلاامتیاز اور مو¿ثر اپریشن جاری رکھے ہوئے ہے جس میں اسے امریکہ کی نیٹو فورسز کے ذریعہ شروع کی گئی افغان جنگ سے بھی زیادہ کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں جبکہ اسکے ردعمل میں پاکستان کی سکیورٹی فورسز اور سکیورٹی ادارے تک دہشت گردوں کے ہدف پر آچکے ہیں۔
پاکستان کی ان قربانیوں کا اعتراف کرنے کے بجائے امریکہ پاکستان پر دہشت گردوں کی حمایت کے الزامات کو آگے بڑھانے کیلئے اب برکس کانفرنس کے مشترکہ اعلامیہ سے بھی ہم آہنگ ہو گیا ہے اور گزشتہ روز امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان نے پاکستان سے پھر ”ڈومور“ کا تقاضا کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے اپنے رویے کو تبدیل کرے اور دہشت گردوں کیخلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔ اس صورتحال میں تو امریکہ کو بدستور اپنی خارجہ پالیسی کا محور بنائے رکھنا ہمارے لئے سراسر گھاٹے کا سودا ہے۔ اگر ہم اسی پالیسی کے اسیر بنے رہے تو پھر ہمیں اقوام عالم میں تنہاءکرنے کی بھارتی سازشیں کامیاب ہو کر رہیں گی۔
یہ خوش آئند صورتحال ہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور وزیر خارجہ خواجہ آصف کو بھی قومی خارجہ پالیسی کے حوالے سے پاکستان کو درپیش چیلنجوں کا احساس و ادراک ہو گیا ہے چنانچہ انہوں نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کی سمت تبدیل کرنے کا بجا طور پر عندیہ دیا ہے۔ اگر امریکہ کو دہشت گردی کی جنگ میں دی گئی ہماری قربانیوں اور ہماری سلامتی کیخلاف پھیلائی جانیوالی بھارتی سازشوں کا احساس و ادراک ہی نہیں تو ہمیں اسی کا دامن تھامے رکھنے کی کیا مجبوری لاحق ہے۔ ہمیں آج نہ صرف امریکہ پر اپنا انحصار کم سے کم کرنا ہے بلکہ بھارتی سازشوں کے نتیجہ میں اپنے پڑوسی مخلص دوست چین کے ہمارے بارے میںلاحق ہونیوالے تحفظات دور کرکے اسکے اعتماد کو بھی کسی قسم کی گزند پہنچنے سے بچانا ہے۔ ہماری قومی خارجہ پالیسی اب مکمل طور پر ملکی سلامتی اور قومی مفادات کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونی چاہیے تاکہ کسی کو ہماری آزادی اور خودمختاری سے کھیلنے کی جرات نہ ہوسکے۔