مسلمانوں پر مظالم، بھارت اور میانمار کیخلاف عالمی پابندیوں کی ضرورت

09 ستمبر 2017

میانمار میں روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کا سلسلہ جاری ہے جبکہ پاکستان سمیت کئی ملکوں میں گزشتہ روز بھی احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے میانمار کی صدر آنگ سانگ سوچی کے ساتھ دوطرفہ ملاقات میں باہمی مفادات کے تحفظ اور قریبی شراکت داری قائم کرنے کیلئے مل جل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔دریں اثناءروہنگیا مسلمانوں کی قاتل اورمیانمار کی حکمران جماعت کی سربراہ آنگ سان سوچی نے ریاست راکھین میں روہنگیا مسلمانوں کے مسئلے کو مقبوضہ کشمیر کے تنازعے سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا ہے روہنگیا اور کشمیریوں کے معاملہ میں مماثلت ہے، میانمار اور بھارت کو ایک جیسے مسائل کا سامنا ہے۔
آنگ سان سوچی کی سربراہی میں میانمار اور مودی کی قیادت میں کشمیر میں مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔ مودی فطرتاً مسلمانوں کا دشمن اور قاتل ہے جبکہ سوچی عالمی امن کی علمبردار سمجھی جاتی ہے، اسے نوبل انعام سمیت بے شمار ایوارڈز مل چکے ہیں مگر اب وہ ایک ڈائن کے روپ میں دنیا کے سامنے آ رہی ہے۔ اس کی خاموشی پر گمان گزرتا تھا کہ اسے صورتحال کا شاید پتہ نہ ہو مگر اب وہ کہتی ہے کہ مسلمانوں کا قتل و غارت ایک پراپیگنڈہ ہے۔ اب مودی اور سوچی ملے ہیں تو اسے مسلمانوں کے قاتلوں کی ملاقات قرار دیا جا سکتا ہے جس میں ہو سکتا ہے مسلمانوں کے قتل عام کے اپنے اپنے تجربات و مشاہدات شیئرکئے گئے ہوں۔ سوچی نے راکھین میں روہنگیا مسلمانوں کے مسئلے کو مقبوضہ کشمیر کے تنازعہ سے تشبیہ دی ہے۔ ظلم و بربریت بلا شبہ کشمیریوں اور میانمار کے مسلمانوں کا مشترکہ دکھ ضرور ہے۔ باقی دونوں میں مسئلہ کے لحاظ سے کوئی مماثلت اور مشابہت نہیں پائی جاتی۔ روہنگیا مسلمان صرف زندہ رہنے کا حق مانگتے ہیں جبکہ مقبوضہ وادی میں کشمیری اپنی آزادی کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ کشمیریوں کا بھارت نے عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے اس کے باوجود گزشتہ روز روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے کشمیریوں نے احتجاجی مارچ کیا ۔ اس مارچ پر بھی بھارتی فورسز نے فائرنگ کرکے کئی افراد کو زخمی کر دیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک بار پھر اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ وہ کشمیریوں کے قتل میں ملوث بھارت پر پابندیاں لگائے۔ سوچی سے نوبل امن پرائز کی واپسی کیلئے مہم بھی زور پکڑ رہی ہے۔ بھارت کے ساتھ میانمار حکومت کیخلاف بھی اقوام متحدہ کی پابندیوں کی ضرورت ہے، حکومت پاکستان کو اس حوالے سے اپنی کوششوں کا آغاز کرنا چاہیئے ۔ سردست مسلم ممالک کی طرف سے میانمار حکومت کیساتھ تعلقات منقطع کرنے کی ضرورت ہے۔