حج آپریشن میں بے ضابطگیاں اور کرپشن کی رپورٹس

09 ستمبر 2017
حج آپریشن میں بے ضابطگیاں اور کرپشن کی رپورٹس

حج آپریشن 2017 ءکے دوران شدید نوعیت کی بدانتظامی‘ ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی اور ناقص کھانے کی فراہمی کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ حج کے دوران 57 ہزار حجاج کو ٹرانسپورٹ ملی اور نہ ہی انہیں مونو ٹرین کی سہولت ملی جس کے باعث حجاج کو بے پناہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ مشتعل حجاج نے حج مشن کے حج عملہ کی پٹائی کر دی۔ حج مشن کا عملہ اپنے دفتر سے غائب ہوگیا۔
پیپلزپارٹی کی حکومت کے دوران وزارت حج کرپشن کی آماجگاہ بنی نظر آئی۔ گھپلوں کے الزامات پر مذہبی امور کے وزیر کے ساتھ کچھ دیگر افراد کو کئی سال جیل میں گزارنا پڑے۔ مسلم لیگ ن کی حکومت کے دوران وزارت حج کے معاملات درست نظر آئے مگر رواں سال بے ضابطگیوں کی بھرمار اور کرپشن کی ہوشربا رپورٹس سامنے آ رہی ہیں۔ سعودی عرب سے حجاج نے نوائے وقت کو بتایا ہے کہ 40 روزہ قیام کے لئے 3 اوقات کے کھانے کی فراہمی کے لئے جمیل فوگیر سے معاہدہ کیا گیا۔ معلوم ہوا ہے کہ یہ کھانا غیرمعیاری اور ناقص تھا۔ فی حاجی 70 ریال‘ حج مشن کے عملہ کے بارے میں اس مد میں 33 لاکھ 60 ہزار ریال وصول کرنے کا انکشاف ہوا ہے جو پاکستانی 9 کروڑ 74 لاکھ روپے بنتے ہیں۔ اس سال عمارات سے حرم پاک تک حجاج کو لے جانے کیلئے مہنگے داموں شٹل سروس حاصل کی گئی۔ شٹل سروس کی مد میں 320 ریال کی کٹوتی ہوئی۔ مبینہ طور پر اس میں فی کس 80 ریال کا گھپلا ہوا ہے جو 96 لاکھ ریال بنتا ہے۔ یہ رقم پاکستانی کرنسی میں27 کروڑ 84 لاکھ روپے بنتی ہے۔ معلوم ہوا ہے وفاقی وزارت مذہبی امور نے حج تربیت کیلئے 500 روپے فی حاجی وصول کئے جبکہ تربیت کے لئے شادی ہال ٹور آپریٹرز کی تنظیم ہوپ نے بک کروا کر دیئے۔ العزیزیہ میں سرکاری سکیم کے تحت رہائش گاہیں 2100 ریال فی کس حاصل کی گئیں۔ جبکہ اسی معیارکی رہائش گاہیں 1100 ریال فی حاجی پرائیویٹ حج ٹور آپریٹز نے حاصل کی ہیں۔
حکومت ان معاملات کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ذمہ داروں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی کرے اور لوٹے جانے والے حاجیوں کو رقوم واپس کرائی جائیں۔ مذکورہ بے ضابطگیوں سے جہاں پاکستان کی بدنامی ہوئی اور حاجیوں کو اذیت کا سامنا کرنا پڑا وہیں مسلم لیگ ن کی مقبولیت بھی متاثر ہونے کے خدشات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔