ذوالہجرتین

09 ستمبر 2017

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت توحید کی جیسے جیسے اشاعت زیادہ ہونے لگی ویسے ویسے کفارِ مکہ کے مظالم میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔ ’’رحمت عالم صل اللہ علیہ وسلم نے جب شمع توحید کے ان پروانوں پر کفر وشرک کے سرغنوں کے بے انداز مظالم دیکھے تو سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جاں نثار غلاموں کو اجازت دے دی کہ ظلم وستم کی اس بستی سے ہجرت کرکے حبشہ چلے جائیں کیونکہ وہاں کے بادشاہ (نجاشی ) کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ بڑا رحم دل اور انصاف پسند ہے چنانچہ بعثت کے پانچویں سال ماہ رجب میں مہاجر ین کا پہلا قافلہ اپنے پیارے وطن کو چھوڑ کر حبشہ جیسے دور افتادہ ملک کی طرف روانہ ہوا تاکہ اس پر امن فضا میں وہ جی بھر کر اپنے رب کریم کی عبادت کرسکیں ۔ اپنے عقیدہ کے مطابق آزادی سے زندگی بسر کرسکیں۔
یہ قافلہ بارہ مردوں اور چار خواتین پر مشتمل تھا۔ ان کے قافلہ سالار حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تھے۔ آپ کی زوجہ محترمہ حضرت رقیہ (جو رحمتہ للعالمین کی لخت جگر تھیں )صلی اللہ تعالیٰ علی ابیہاوعلیہا وبارک وسلم آپ کے ساتھ تھیں۔ سرکار دوعالم نے اسی جوڑے کے بارے میں فرمایا ’’ابراہیم اور لوط علیہماالسلام کے بعد یہ پہلا گھر انہ ہے جس نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی‘‘۔حضرت رقیہ کی خدمت گزاری کیلئے حضرت ام ایمن بھی ساتھ گئیں (ضیاء النبی ) حضور رحمت عالم ہجرت کے بعد اپنے اصحاب کی خیریت کی اطلاع کے منتظر رہاکرتے تھے۔
حبشہ میں ان لوگوں کو امن وعافیت میسر آئی ۔چند ماہ کے بعد وہاں یہ اطلاع پہنچی کہ اہلِ مکہ نے اسلام قبول کرلیا ہے،اور اب وہاں مکمل امن وامان ہے۔ اس پر چند لوگوں نے واپسی کا فیصلہ کیا۔ ایک روایت کیمطابق حضرت عثمان بھی واپس آنے والوں میں شامل تھے۔ لیکن واپسی کے بعد اہلِ مکہ کے بارے میں اطلاع غلط ثابت ہوئی،اور کفار نے ان لوگوں سے پہلے سے بھی زیادہ مظالم شروع کردیے۔ طعن وتشنیع اور طنز وتمسخر کا بازار گرم کردیا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں دوبارہ ہجرت کی اجازت مرحمت فرمادی ۔
اس دفعہ کئی دوسرے مسلمان بھی اس قافلہ میں شریک ہوگئے اور ان کی تعداد تراسی ہوگئی،ہجرت کرتے ہوئے ،حضرت عثمان نے بڑے تائسف کا اظہار کیا کہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم تو مکہ میں ہیں اور ہم دوسری باربھی آپ کے بغیر ہجرت پر جارہے ہیں ۔
اس پر حضور نے ارشاد فرمایا ۔ ’’
(افسوس مت کرو) تمہاری یہ دونوں ہجرتیں اللہ تعالیٰ کی طرف اور میری طرف ہیں‘‘یہ سن کر حضرت عثمان نے عرض کیا’’یا رسول اللہ اگر ایسا ہے تو پھر ہم راضی ہیں ہمیں اتنا ہی کافی ہے‘‘۔
(طبقات ابن سعد)جب تمام مسلمانوں کو ہجرت مدینہ کا حکم ہوگیا تو حضرت عثمان اس سعادت سے بھی بہر ہ مند ہوئے اور ذوالہجرتین (اللہ کے راستے میں دوہجرتیں کرنے والے )بن گئے۔