روہنگیا کے مسلمانوں کو انسان ہی سمجھ لو

09 ستمبر 2017
روہنگیا کے مسلمانوں کو انسان ہی سمجھ لو

کتنی حیرت کی بات ہے کہ دنیا کے کسی دور افتادہ گوشے میں اگر کسی غیر مسلم کی نسکیر بھی پھوٹ جائے تو انسانی حقوق کی علمبردار اور ٹھیکیدار نام نہاد تنظیمیں آسمان سر پر اٹھا لیتی ہیں۔جبکہ مسلمانوں پر ظلم وستم کے پہاڑ بھی ٹوٹ جائیں تو یہ نام نہاد تنظیمیں ٹس سے مس تک نہیں ہوتیں۔

عالم اسلام میں عید الاضحی کی ادائیگی کے دوران تقریبا پانچ کروڑ جانور قربان کئے گئے جبکہ سروے کے مطابق پچاسی لاکھ جانور پاکستان میں قربان ہوئے۔اس کے بر عکس ایک طرف عالم اسلام کی ایک قوم برما میں جانوروںکی طرح قربان ہو رہی ہے اور انسانی حقوق کی علمبردار اور ٹھیکیدارتنظیمیں جہاں غیر مسلم کی نسکیر کا شوشہ اچھالتی ہیں وہ تو بہت دور کی بات ہے چونکہ روہنگیا میں ذبح کئے گئے مسلمان انسان نہیں کہلاتے کیا؟
برما میں سرکاری فوج اور انتہا پسند بدھ مت کے پیرو کار جن کے مذہب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ امن وعدم تشدد اور صلح و آشتی مذہب ہے لیکن میانمار میں یہ بدھ مت وحشی درندوں کا روپ دھار کر مسلمانوں پر ظلم وتشدد کر رہے ہیں۔
روہنگیا مسلمانوں کی آبادی پر نظر دوڑائی جائے تو نصف صدی قبل 4ملین آبادی کو قتل عام اور دباﺅ کی پالیسیوںکی مدد سے تقریبا ایک تہائی تک گرا دیا گیا ہے اور عالم اسلام کی خاموشی ایک الگ المیہ ہے۔ سولہویں صدی سے آباد روہنگیا مسلمان جن کی کئی نسلیں یہاں پروان چڑھیں لیکن اس کے باوجود ان کو میانمار کی شہریت سے محروم رکھا جا رہا ہے جو کھلی زیادتی ہے۔
عالمی اداروں نے اگرچہ اس بات کو تسلیم تو کر لیا ہے کہ میانمار میں مسلمانوں کوچن چن کر ختم کرنے کا سلسلہ بلا تسلسل جاری و ساری ہے۔افسوس کا مقام ہے کہ عالمی برادری کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی سب سے زیادہ افسوس اور دکھ کی بات یہ ہے کہ اسلامی ممالک کو مظلوم روہنگیا کے مسلمان بھائیوں کی فلگ شگاف چیخیں سنائی نہیں دے رہیں اور مسلمان حکمران اپنے اقتدار کے نشے میں دھت ہیں۔حالیہ دنوں میں روہنگیاکے مسلمانوں کے 600کے قریب گھروں اور جھونپڑیوں کو آگ لگا کر ان مسلمانوں کو زندہ جلا دیا گیا جو بچ گئے ان کے جسموں کو کاٹ کر پھینک دیا گیا جن کی تعداد ہزاروں میں بتائی جاتی ہے۔اتنا سب کچھ ہو گیا مگر افسوس انسانی ہمدردیوں کی سب سے بڑی عدالت اقوام متحدہ نے بھی اس معاملے پر کبھی کوئی خاص توجہ نہیں دی۔اس وقت ایک بہت بڑی قوت اس مسئلے میں اپنا بہت بڑا کردار ادا کر سکتی ہے اور وہ ہے چین کیونکہ چین بھی مہاتما بدھ کے پیروکاروں کا ملک ہے اور چین کی حکومت اور عوام پاکستان کے ساتھ بہت لگاﺅ رکھتے ہیں۔ پاکستان چین کو اس بات پر آمادہ کرے کہ وہ برما کی صدر آنگ سان سوچی سے حکومتی سطح پر اور بدھ مت کے دہشت گردوں کو مذہبی سطح پر سمجھانے کی کوشش کرے کہ وہ ان روہنگیا کے مسلمانوں کی آبرو ریزی اور قتل و غارت گری کو بند کرے۔
اس سلسلے میں اب تک ترکی نے ہی بین الاقوامی سطح پر میانمار کے لئے آواز کو بلند وبالا کیا ہے۔ترک صدر اردوان نے میانمار کے حکام کو للکار کر یہ تنبیہ کی ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام پر دنیا خاموش رہے تو بھی ترکی خاموش نہیں رہے گا۔ترکی نے بنگلہ دیش کو کہا ہے کہ روہنگیا کے مسلمانوں کو اپنے ملک میں پناہ دے اس کے تمام تر اخراجات ترکی حکومت برداشت کرے گی ترکی کی طرح پاکستان سمیت تمام اسلامی ممالک کو چاہئے کہ وہ روہنگیا کے مسلمانوں کیلئے اپنے اپنے ممالک میں خیمے لگائے تا کہ روہنگیا کے مسلمانوں کی جانی و مالی مدد کی جا سکے۔
عالم اسلام کی اتحادی فوج جو سعودی عریبیہ‘ پاکستان اور کئی مسلم ممالک پر مشتمل ہے۔وہ اتحادی فوج کیا مسلمانوں کے حقوق کیلئے تشکیل دی گئی ہے یا پھر کسی اور کے کہنے پر حرکت میں لانے کیلئے؟اتحادی فوج کا مقصد ہے کہ اسلامی ممالک کا ہر ممکن تحفظ کرنا اور ہر محاظ پر اسلامی ممالک کا دفاع کرنا۔
روہنگیا کے مسلمان چیخ و پکار میں اپنے مسلمانوں کو مدد کیلئے پکار رہے ہیں اور ترکی نے ان کی پکار پر لبیک کہا ہے اسی طرح پاکستان کو بھی روہنگیا کے مسلمانوں کی مدد کیلئے فوج کو بھیجنا چاہئے اور اس مسئلے کو عالمی طور پر اٹھانا چاہئے اور روہنگیا کے مسلمانوں کی ہر طرح سے جانی اور مالی مدد کرنا چاہئے۔کیونکہ روہنگیا مسلمانوں کی جان بوجھ کر نسل کشی کی جا رہی ہے۔20ہزار مظلوم ‘مجبور اور بے بس انسانوں کے دیہات کو ‘گھروں کو نذر آتش کر دیا جا چکا ہے۔اور مسلسل تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔یہ لوگ در بدر ہو کر بنگلہ دیش کا رخ کرر رہے ہیں۔سینکڑوں روہنگیا مسلمانوں کو قتل کیا جا رہا ہے اوریہ سب کچھ انسانیت کی نگاہوں کے سامنے ہو رہا ہے لیکن افسوس کے انسانیت اس کے مقابل خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
پاکستان کو چاہئے کہ روہنگیا کے مسلمانوں کی مدد کیلئے انسانی حقوق کے تحفط کی ملکی تنظیمیں کو وہاں مدد کیلئے روانہ کرے اور ہو سکے تو پاکستان فورا روہنگیا کے مسلمانوں کی مدد کیلئے آواز بلند کرے اور ترکی کے ساتھ مل کر فوری حل تلاش کرے کیونکہ اسلامی ممالک مل کر ہی اس مسئلے کا حل نکال سکتے ہیں۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ کفر مسلسل اتحاد پر اتحاد بنا رہا ہے اور اپنی ناجائز دولت کو مسلم ممالک کے سربراہوں میں بانٹ کر انہیں ایک دوسرے کا دشمن بنا رہا ہے اس وقت مسلمانوں کو بکھیر دیا گیا ہے مگر یہ بے دین لوگ اس بات کو بھول رہے ہیں کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ ہی نہیں بلکہ اپنے ہر ایک عمل سے اپنے ساتھ پوری دنیا کیلئے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔