حکومتی قرضے اور معیشت

09 ستمبر 2017

گذشتہ دنوں مرکزی بینک کے گورنر جناب طارق باجوہ صاحب کے فیڈریشن ہاﺅس میں دئیے گئے ایک بیان نے میرے ان تمام خدشات اور پیشنگوئیوں کو درست ثابت کردیا جو میں پچھلے کئی سالوں سے متواتر اپنے کالموں میں بیان کرتا رہا ہوں ۔ "انہوں نے کہا کہ روپے کی قدر میں کمی کرنا جاری کھاتوں کا حل نہیں ہے اور جاری کھاتوں کا خسارہ معیشت کے لئے بڑا چیلنج ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مہنگائی کی شرح4فیصد پر برقرار ہے جبکہ ملک میں ڈی انڈسٹریلائزیشن ہورہی ہے اور چھوٹی و درمیانی صنعتوں کی ترقی کے بغیر معاشی ترقی کا حصول ناممکن ہے کیونکہ یہ ایسا ہی ہے کہ گھی اور مصالحے کے بغیر کھانے کی بات کی جائے ۔ اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ زرعی قرض کا زیادہ حصہ چھوٹے کاشتکاروں کو دینا چاہیے اور رئیل اسٹیٹ کے بجائے ہاﺅسنگ سیکٹرز کو فروغ دینا چاہیے۔ ہمارے کچھ معاشی افلاطونوں کا کہنا تھا کہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی کرنے سے برآمد کنندہ کو فائدہ ہوگا اوربرآمدات کے زرمبادلہ بڑھنے سے جاری کھاتوں کا خسارہ کم کیا جاسکے گا مگر یہ بھول گئے کہ ہماری برآمدات سے زیادہ درآمدات ہیں جس کی وجہ سے زرمبادلہ کے ذخائر پر بھاری ادائیگیوں کے دباﺅکی وجہ سے منفی اثر پڑے گا کیونکہ ہماری برآمدات مالی سال 2016-17میں 21,686ملین ڈالرز اور درآمدات 48,582ملین ڈالرز رہی تھیںیعنی کہ ہمارا تجارتی خسارہ ہی پاکستان کی تاریخ کی بلند ترین سطح یعنی 26,896ملین ڈالرز رہا ہے جو ہماری کل برآمدات سے بھی کہیںزیادہ ہے جبکہ تجارتی خسارہ کم کرنے کے اقدامات کا فقدان ہے ۔ 

اگر ہم گذشتہ دس پندرہ سالوں کا بیرونی تجارت کا تجزیہ کریں تو اندازہ ہوتا ہے کہ مالی سال 2002میں ہماری برآمدات 9,140ملین ڈالرز اور درآمدات 9,434ملین ڈالرز تھیں یعنی تجارتی خسارہ 3.1فیصد کے ساتھ صرف 294ملین ڈالرز تھا جو مالی سال2003میں3.9فیصد ہوا ، 2004میں 8.8فیصد ہوا اور اس کے بعدہماری ناقص اور غیر پائیدارتجارتی وصنعتی پالیسیوں کی وجہ سے اب2016-17میں 55.4فیصد کی تاریخی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے ۔ گورنر اسٹیٹ بینک بجا فرما رہے ہیں کہ ملک میں ڈی انڈسٹریلائزیشن ہورہی ہے کیونکہ برآمدات میں انتہائی کمی اور تجارتی خسارے میں بلند ترین اضافہ اس کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ملک میں چھ ہزا ر سے زائد صنعتیں بند ہوچکی ہیں جبکہ رہی سہی چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتیں اپنی آخری سانسیں لے رہی ہیں ۔ یہ ہمارے ملک کا المیہ رہا ہے کہ ہم نے پاکستان میں پیداواری عمل بڑھانے کے لئے کوشش ہی نہیں کی اورصرف تجارتی ملک کی جانب اپنے قدم بڑھائے رکھے ۔ اس لئے اگر بچی کچی صنعتوں کے بند ہونے کا عمل جاری رہا توپاکستان کا تجارتی اور جاری کھاتے کا خسارہ اپنی حدود کراس کرجائے گا ۔ اس لئے اگر حکومت معاشی ترقی کا دعویٰ کرتے ہیں تو ان کو صنعتوں کو ترقی دینے اور پیداواری عمل بڑھانے کی جانب اپنی توجہ مبذول کرنی ہوگی ۔گورنر اسٹیٹ بینک کا دعویٰ ہے کہ مہنگائی کی شرح 4فیصد پر برقرار ہے مگرپاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق مالی سال 2016-17میں مہنگائی کی مجموعی شرح NFNEکے مطابق5.2فیصد رہی جبکہ کنزیومر پرائس انڈیکس کے تحت نان فوڈ آئٹم پر مہنگائی کی شرح 4.4فیصدجنرل آئٹم پر مہنگائی کی شرح 4.15فیصد اورفوڈ آئٹم پر 2.3فیصد رہی حالانکہ پاکستان کو دیگر قریبی ممالک کی انفلیشن پالیسی کو دیکھتے اور اس پر عمل کرتے ہوئے اپنی مہنگائی کی شرح کو کنٹرول کرنا چاہیے جیسا کہ تھائی لینڈ میں مہنگائی کی شرح 0.48فیصد، سنگاپور میں 1.5فیصد، چائنا میں 2.2فیصد بھارت میں 2.18فیصد،مالدیپ میں 2.8فیصد اور نیپال میں 3.4فیصداور ملائشیاءمیں 3.9فیصد ہے۔اس کے علاوہ جاری کھاتے کا خسارہ اس وقت تک کم نہیں ہوسکتا جب تک ہم پر اندرونی و بیرونی قرضوں و ادائیگیوں کا بوجھ ہو جو کہ گذشتہ بیس سالوں سے بڑھتا ہی جارہا ہے جیسا کہ جون 1995میں پاکستان پر بیرونی قرضوں و ادائیگیوں کا بوجھ 31,863ملین ڈالرز تھا جو اگلے دس سالوں کے دوران اتار چڑھاﺅ کے بعد2005تک اوسطاً 35,061ملین ڈالرزرہا تھا مگر اس کے بعدبیرونی قرضوں و ادائیگیوں میں کافی اضافہ دیکھنے میں آیا اور جون 2013میں پاکستان پر بیرونی قرضوں و ادائیگیوں کا بوجھ48,129ملین ڈالرز تھا جس کی 2006سے 2013کے دوران اوسط 48,886ملین ڈالرز رہی تھی مگر اس کے بعد تو جیسے بیرونی قرضوں وادائیگیوں کے پر نکل آئے جو مرکزی بینک کے مطابق مارچ 2017تک 77,616ملین ڈالرز تک پہنچ چکے ہیں جس میں اضافے کا رجحان جاری ہے ۔اسی طرح سے اندرونی قرضوں و ادائیگیوں کا بوجھ بھی مسلسل اپنی بلندیوں کو چھو رہا ہے اور جو اندرونی قرضہ و ادائیگیاں مئی 2013میں 9306ارب روپے کی سطح پر تھیں اس میں گذشتہ چار سال کے دوران میں 6,195ارب روپے کا اضافہ ہوا جو 40فیصد بنتا ہے اور مئی 2017میں 15,501ارب روپے ہوچکا ہے جس میں مسلسل اضافہ جاری ہے۔
اب جبکہ ہم اندرونی وبیرونی قرضوں وادائیگیوں کا بوجھ بڑھائے جارہے ہوں اور برآمدات کی کمی اور درآمدات میں اضافہ کئے جارہے ہوں جس کی وجہ سے ہمارا تجارتی خسارہ مسلسل بڑھ رہا ہو تو پھر کرنٹ اکاﺅنٹ کا خسارہ کیسے کم ہوسکتا ہے کیونکہ کرنٹ اکاﺅنٹ کا یہ خسارہ ہماری معیشت کے لئے زہر قاتل کا درجہ رکھتا ہے اور جو ہم جی ڈی پی کی بڑھتی ہوئی شرح نمو کے شادیانے بجا رہے ہیں اس کو انتہائی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے بلکہ شرح نمو میں کمی کا انتہائی شدید اندیشہ ہے ۔ معیشت اور شرح نمو کے لئے انتہائی مضر گردشی قرضے بھی ہوتے ہیں جس کی وجہ سے معیشت اور جاری کھاتوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہیں 28جون 2013کو تقریباً800ارب کے گردشی قرضوں کی مد میںخرانے سے 480ارب روپے آئی پی پیزکودینے کا اعلان کیا تھاجس پر بڑی تنقید کی گئی کہ وہ من پسند جگہوں پر خرچ کئے گئے تھے ۔ بہرحال اب آئی پی پیز کے وہی گردشی دوبارہ 800ارب روپے سے تجاوز کرگئے ہیں اور حکومت گردشی قرضوں کی ادائیگی کے لئے مزید قرضے لے رہی ہے جیسا کہ جون کے مہینے میں 41ارب روپے کے کمرشل بینکوں سے نئے قرضے لئے ہیں جن میں سے 17ارب روپے پی ایس او کو ادا کئے گئے ہیں جبکہ باقی دیگر آئی پی پیز کو دئیے گئے ہیں مگر گردشی قرضوں کا بحران ختم ہونے کے بجائے بڑھ رہا ہے بلکہ پیپکو ذرائع کا کہنا ہے کہ صرف گذشتہ سات آٹھ میں گردشی قرضوں میں 685ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے جبکہ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ جلد ہی یہ گردشی قرضہ 1.2کھرب روپے کی سطح کو چھوجائے گا۔ مگر اس سب کے باوجودسرکاری ڈسٹری بیوشن کمپنیاں (ڈسکوز)اور نجی کمپنیاں بھی عوام کو کو سہولیات فراہم کرنے کے بجائے اضافی بلنگ کرکے مہنگائی اور کرپشن کے فروغ میں اپنا کردار اداکررہی ہیںاور ارباب اختیارکے تما م تر اقدامات کے باوجود بجلی کی کمی جاری ہے جبکہ یہی بجلی اور دیگر توانائی کی کمی اور ساتھ ساتھ توانائی کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے معیشت تباہی کا شکار ہے اور عالمی مسابقتی دوڑ سے تقریباً باہر ہے ۔
اب جبکہ اندرونی و بیرونی قرضہ بھی بڑھ رہا ہے، تجارتی خسارے میں بھی اضافہ ہورہا ہے، کرنٹ اکاﺅنٹ کا خسارہ بھی تاریخی بلندی ک چھورہا ہے اور گردشی قرضے بھی انتہائی حدوں کو کراس کررہے ہیں تو پھر کیسے من چاہی شرح نمو حاصل کی جاسکے گی؟اس کے علاوہ خسارہ بڑھنے کی صورت میں ہمیں دوبارہ آئی ایم ایف کے سامنے جھولی پھیلانی پڑے گی جو معیشت کی مزید تباہی کاباعث ہوگا۔اس لئے ہمارے ارباب اختیار کوسنجیدگی کے ساتھ اپنے ملک کے وسائل کوسامنے رکھتے ہوئے زبانی جمع خرچ کے بجائے ایسے اقدامات اٹھانے چاہئیںجو ملک کے مفاد میں ہوں جس کی وجہ سے ملک کی صنعتوں کا پہیہ چلے ، پیداواری عمل شروع ہو اور پاکستان کی معیشت ترقی کرے کیونکہ پاکستان کی معیشت کی نمو ہوگی تو تب ہی پاکستان کی نشوونمااور ترقی ہوگی ۔