کالعدم انصارالشریعہ کے گرد گھیرا تنگ‘ کراچی‘ حیدرآباد‘ کوئٹہ‘ پشین ‘ ملتان سے 25 گرفتار

09 ستمبر 2017

کراچی+ کوئٹہ (ایجنسیاں+ نوائے وقت رپورٹ) کراچی سمیت مختلف شہروں میں انصارالشریعہ کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تابڑتوڑ کارروائیاں جاری ہیں۔ ناظم آباد سے تنظیم کو فنڈنگ کرنے کے ملزم کو گرفتار کر لیا۔ سہولت کاری کے الزام میں پولیس اہلکار بھی پکڑا گیا۔ کراچی میں پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنانے والی دہشت گرد تنظیم انصارالشریعہ کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کریک ڈاو¿ن جاری ہے۔ مبینہ دہشت گرد اور ایک پولیس اہلکار کو حراست میں لیا ہے۔ مبینہ دہشت گرد ماربل کا کاروبار کرتا ہے جس پر تنظیم کے لیے فنڈنگ کا الزام ہے۔ حراست میں لیے گئے پولیس اہلکار پر بھی سہولت کاری کا شبہ ہے۔ اس سے قبل ملتان سے انصارالشریعہ کے مفرور دہشت گرد طلحہ انصاری کو گرفتار کیا گیا۔ طلحہ انصاری پیشے کے لحاظ سے انجینئر ہے جو عبدالکریم سروش کا قریبی ساتھی اور ٹارگٹ کلنگ ٹیم کا شوٹر تھا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کوئٹہ میں چھاپہ مار کر انصارالشریعہ کے اہم کارندوں بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ سائنسز کے پروفیسر مشتاق اور حیدرآباد میں مدرسے کے معلم مفتی حبیب اللہ کو گرفتار کیا جبکہ جامعہ کراچی کی رہائشی کالونی سے دانش کو گرفتار کیا۔ تنظیم کے سربراہ شہریار عرف عبداللہ ہاشمی کو کنیز فاطمہ سوسائٹی سے گرفتار کیاگیا جامعہ کراچی اپلائیڈ فزکس سے ماسٹر کی ڈگری حاصل کرنے والاعبداللہ ہاشمی ہی ٹارگٹ کلنگ کی منصوبہ بندی، پلاننگ اور ریکی کرتا تھا۔ تنظیم میں دوسرا نمبر حسان کا تھا۔ جو پولیس پر ہونے والے تمام حملوں میں ملوث رہا۔ تیسرے نمبر پر تھا عبدالکریم سروش۔ روفی روز پیٹل میں پولیس مقابلے کے دوران فرار ہونے والا سروش فنڈ جمع کرنے، ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں اور اسلحہ رکھنے کا ذمہ دار تھا۔ این این آئی کے مطابق کالعدم انصار الشریعہ کے دہشت گردوں کے گرد گھیرا تنگ کر دیا گیا۔ کراچی‘ حیدرآباد‘ کوئٹہ‘ پشین اور ملتان سے 25 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ دوسری طرف پروفیسر مشتاق نے 4 لڑکوں کی برین واشنگ کا اعتراف کر لیا۔ یہ بھی بتایا کہ جامعات کے لڑکوں کو تربیت دینے کا ٹاسک ملا تھا۔ کوئٹہ سے گرفتار کالعدم انصار الشریعہ کے دہشت گرد پروفیسر مشتاق کے دوران تفتیش سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔ تحقیقات میں پتہ چلا ہے کہ پروفیسر مشتاق نے ہی عبدالکریم سروش صدیقی اور عبداللہ ہاشمی کو حبیب اللہ سے ملوایا۔ گرفتار دہشت گرد نے یہ انکشاف بھی کیا کہ وہ کراچی کے بعد بلوچستان کی جامعہ میں نیٹ ورک منظم کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ سکیورٹی اداروں کا عزم ہے کہ دہشت گردوں سے تعلق پر کوئی نہیں بچے گا۔ طلباءہوں‘ پروفیسرز یا سہولت کار‘ پولیس اہلکا سب سلاخوں کے پیچھے جائیں گے۔ کوئٹہ سے آئی این پی کے مطابق آئی ٹی یونیورسٹی ذرائع نے بتایا کہ پروفیسر مشتاق آئی ٹی یونیورسٹی کوئٹہ کے ملازم اور شعبہ مائیکرو بائیولوجی کے چیئرمین ہیں۔ پروفیسر مشتاق چار سال سے یونیورسٹی میں تدریس سے وابستہ ہیں۔ وہ یونیورسٹی کے بیچلر ہاسٹل میں ہی قیام پذیر تھے۔ ادھر جامعہ بلوچستان کے رجسٹرار طارق جوگیزئی نے کہا ہے کہ گرفتار پروفیسر مشتاق کا جامعہ بلوچستان سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی وہ جامعہ میں ملازم ہیں۔ انصارالشریعہ پاکستان کے سربراہ عبداللہ ہاشمی نے انتہائی مطلوب دہشت گرد عبداللہ بلوچ عرف حاجی صاحب سے رابطے کا اعتراف کرلیا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گزشتہ دنوں انصارالشریعہ تنظیم کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ ہاشمی کو کراچی کے علاقے کنیز فاطمہ سوسائٹی سے گرفتار کیا تھا جس نے دوران تفتیش سنسنی خیز انکشافات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اس کی تنظیم 10 سے 12 اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکوں پر مشتمل ہے جبکہ تنظیم نے خود کو منوانے کے لیے پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عبداللہ بلوچ عرف حاجی صاحب تمام کالعدم تنظیموں کے لیے اہم امور انجام دیتا ہے اور یہ سانحہ سیہون، شکارپور، درگاہ شاہ نورانی دھماکوں کا ماسٹر مائنڈ ہے جب کہ سانحہ سیہون میں عبدالحفیظ پدنرانی نے عبداللہ بلوچ کی معاونت کی تھی۔ ذرائع کے مطابق عبداللہ بلوچ کالعدم تنظیموں کے دہشت گردوں کو رہائش اور اسلحہ فراہم کرتا ہے۔ عبداللہ بلوچ عرف حاجی صاحب اہم سہولت کار عبدالحفیظ گروپ سے بھی رابطے میں ہے۔ واضح رہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں خواجہ اظہار پر حملے کے کیس میں تحقیقات میں مصروف ہیں جس میں اب تک اہم کامیابیاں ملی ہیں۔ دریں اثنا گرفتار افراد ملزم سروش صدیقی کے گھر آتے جاتے رہتے تھے۔ سروش صدیقی کے گھر تنظیم کے دیگر کارندے بھی جمع ہوئے تھے۔کالعدم انصار الشریعہ میں خواتین کے شامل ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ حساس اداروں نے ڈاکٹر سمیت 4 خواتین کا سراغ لگا لیا۔ انصارالشریعہ کی 2 خواتین نجی یونیورسٹی میں پڑھتی ہیں۔ طالبات انصارالشریعہ کے گرفتار کارندے سے رابطے میں تھیں۔
انصارالشریعہ