حلقہ بندیوں کیلئے مردم شماری کے عبوری نتائج استعمال کرنے کا فیصلہ

09 ستمبر 2017

اسلام آباد(این این آئی) بین الصوبائی رابطہ کمیٹی (آئی پی سی سی) نے وفاقی حکومت کی پیش کش پر باضابطہ رضامندی کا اظہار کرتے ہوئے الیکشن کمشن کو الیکشن بل 2017 کے تحت نئی انتخابی حلقہ بندیوںکےلئے مردم شماری کے عبوری اعداد و شمار کا استعمال کرنے کی اجازت دےدی۔نجی ٹی وی کے مطابق سرکاری ذرائع نے بتایا کہ لاءڈویژن وفاقی حکومت کی ہدایت پر آئین کے آرٹیکل 51(5) میں ترمیم کے حوالے سے بِل ڈرافٹ کرچکا ہے۔بین الصوبائی رابطہ کمیٹی کے وزیر ریاض حسین پیرزادہ نے کمیٹی اجلاس کی صدارت کی جس میں چاروں صوبوں کے سینئر حکام اور نمائندگان شریک تھے۔واضح رہے کہ آئین کے آرٹیکل 51(5) کے تحت چاروں صوبوں، وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے (فاٹا) اور وفاقی دارالحکومت کےلئے مردم شماری کے حتمی نتائج کے مطابق نشستیں مختص کی جاتی ہیں جبکہ یہ منصوبہ بندی کے لیے بھی ضروری ہے۔پاکستان ادارہ برائے شماریات کے مطابق مردم شماری کی حتمی رپورٹ اپریل 2018 تک مکمل ہوگی تاہم الیکشن کمشن پہلے ہی یہ واضح کرچکا ہے کہ حلقہ بندیوں کا عمل مکمل ہونے میں 7 ماہ کا وقت لگ سکتا ہے۔ذرائع کے مطابق اس سے قبل بھی لاءڈویژن نے دو اجلاس منعقد کیے تاکہ ای سی پی کو حلقہ بندیوں کےلئے عبوری اعداد و شمار کے استعمال کی اجازت کےلئے قانون میں ترمیم کےلئے تیار ہونے والے ڈرافٹ پر غور کیا جاسکے۔