نواز شریف، حسین،حسن، مریم ، کیپٹن صفدر، اسحاق ڈار کیخلاف 4ریفرنس دائر:عدالت کی مکمل معاونت کریں گے:ترجمان نیب

09 ستمبر 2017

اسلام آباد(نامہ نگار+ بی بی سی) قومی احتساب بیورو (نیب) نے سابق وزیراعظم نوازشریف کے بچوں‘ داماد اور اسحاق ڈار کیخلاف احتساب عدالت میں 4 ریفرنسز دائر کردئیے جنہیں منظور کرلیا گیا۔ریفرنسز اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی عدالت میں دائر کئے گئے۔ ڈپٹی پراسیکیوٹرجنرل نیب سردار مظفر عباسی نے اپنی ٹیم کے ہمراہ احتساب عدالت کے رجسٹرار آفس میں ریفرنسز جمع کرائے۔ نیب ذرائع کے مطابق شریف خاندان کیخلاف جمع کرائے گئے 4 ریفرنسز میں ہر ریفرنس 6 ہزار صفحات پر مشتمل ہے اور ہر ریفرنس کے ساتھ پاناما جے آئی ٹی رپورٹ بھی منسلک کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق جے آئی ٹی کے 9 جلدیں لگائی گئی ہیں۔ رجسٹرار نے تصدیق کی کہ ریفرنسز کے ساتھ بڑی تعداد میں دستاویزات جمع کراد دی گئی ہیں۔ نیب پراسیکیوشن ونگ کی جانب سے جمع کرائے ریفرنسز میں سابق وزیراعظم نوازشریف انکے بچے حسن، حسین اورمریم نواز، داماد کیپٹن(ر) صفدر اور سمدھی اسحاق ڈار کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔ شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ پراپرٹیز اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ کے 2ریفرنسز دائر کئے گئے جبکہ ایک ریفرنس عزیزیہ سٹیل مل کے معاملے پر دائر کیا گیا ہے۔ وزیر خزانہ کے خلاف ناجائز اثاثہ جات ریفرنس دائر کیا گیا۔ شریف خاندان اور اسحاق ڈار کیخلاف 4 ریفرنسز میں مختلف دفعات شامل کی گئی ہیں جن میں نوازشریف کے خلاف 3 ریفرنسز میں نیب کی سیکشن 9 اے لگائی گئی، نیب آرڈیننس سیکشن 9 اے غیرقانونی رقوم اور تحائف کی ترسیل سے متعلق ہے، نیب راولپنڈی نے ریفرنسز میں دفعہ 9 اے کی تمام 14ذیلی دفعات کو شامل کیا گیا ہے اور سیکشن 9 اے کی دفعات کے تحت سزا 14 سال قید مقرر ہے۔ نوازشریف کے سمدھی اور موجودہ وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے خلاف جمع کرائے گئے ریفرنس میں سیکشن 14 سی لگائی گئی ہے جو آمدن سے زائد اثاثے رکھنے سے متعلق ہے، دفعہ 14 سی کی سزا 14 سال قید مقرر ہے جب کہ عوامی نمائندوں کیلئے سزا کے بعد تاحیات نااہلی بھی ہوتی ہے۔ نوازشریف کی صاحبزادی مریم نوازشریف پر جعلی دستاویزات دینے پر الگ سے شیڈول 2 کا حوالہ دیا گیا ہے اور ان کے خلاف تحقیقات کو نقصان پہنچانے کی دفعہ 131 اے بھی شامل کی گئی جس کی سزا 3 سال قید ہے۔نیب کے ایگزیکٹو بورڈ نے گزشتہ روز 4 ریفرنسز کی منظوری دی۔ شریف خاندان اور اسحاق ڈار کے خلاف ریفرنسز پانامہ کیس کے فیصلے میں سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں تیار کئے گئے ہیں۔ دوسری جانب ترجمان نیب علی نوازش نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شریف خاندان اوراسحاق ڈار کے خلاف تمام ریفرنسز منظور کرلئے گئے ہیں۔ احتساب عدالت نے کسی بھی ریفرنس کو واپس نہیں بھیجا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہنا کہ کسی ریفرنس کو قبول نہیں کیا گیا، محض قیاس آرائیاں ہیں، ریفرنسز کا معاملہ ٹرائل کلئے بھیج دیا گیا ہے۔ عدالت قانون کے مطابق کارروائی کریگی۔ انہوں نے کہا کہ ریفرنسزکے معاملے پرعدالت کی مکمل معاونت کریں گے، ریفرنسز کے معاملے پر ہمارے ذمے جو کام تھا وہ کردیا، اب معاملہ عدالت میں ہے، اس پرمزید بات نہیں کرسکتے۔ نیب ترجمان علی نوازش نے نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیب قانون کی پاسداری کرتا ہے۔ احتساب عدالت کا جو فیصلہ ہوگا اس پر عملدرآمد کیا جائیگا۔ حدیبیہ پیپرز مل کیس سے متعلق فی الحال کچھ معلوم نہیں۔ قبل ازیں بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں لکھا تھا کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت کے رجسٹرار نے نوازشریف‘ انکے تین بچوں اور داماد کے علاوہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف نیب کی جانب سے دائر کئے گئے چار ریفرنسز کو نامکمل قرار دیتے ہوئے حکام کو اعتراضات دور کی ہدایت کی ہے۔ ابتدائی سکروٹنی میں یہ بات سامنے آئی کہ ریفرنسز میں دستاویزات کی نقول مکمل نہیں ہیں۔ واضح رہے اسلام آباد کی احتساب عدالت نمبر ایک کے جج نثار بیگ کا تبادلہ کردیا گیا ہے۔ نثار بیگ گزشتہ تین سال سے اسلام آباد میں اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ انکے تبادلے کے بعد اب اسلام آباد کی احتساب عدالتوں میں صرف ایک جج ہی رہ گئے ہیں۔

آئین سے زیادتی

چلو ایک دن آئین سے سنگین زیادتی کے ملزم کو بھی چار بار نہیں تو ایک بار سزائے ...