نومبر کے بعد لوڈ شیڈنگ ختم کردینگے، سی پیک منصوبوںکے ثمرات عوام تک پہنچنا شروع ہوگئے:شاہد خاقان

09 ستمبر 2017

کندیاں/ میانوالی (چودھری محمد اکرم سے+ نامہ نگار) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے چشمہ کے مقام پر چشمہ نیوکلیئر اٹامک انرجی پلانٹ C-4 کا افتتاح کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کا افتتاح ملک و قوم کیلئے خوش آئند ہے، وطن عزیز سے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ اولین ترجیح ہے، نومبر میں لوڈشیڈنگکا خاتمہ ہوجائیگا۔ 28 دسمبر 2016ءکو چشمہ کے مقام پر C-3 منصوبے کا افتتاح ہوا تھا، اسکے 8 ماہ بعد ہی ملکی پانچواں ایٹمی منصوبے C-4 کا افتتاح ہوا۔ یہ حکومت کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ جوہری توانائی کے پلانٹس سے سستی بجلی فراہم ہو رہی ہے۔ یہ منصوبہ 2020ءکے جوہری پروگرام میں اہم قدم ہے، اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ منصوبے برادر ملک چین کے تعاون سے ممکن ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چینی کمپنیوں کو دعوت دیتا ہوں کہ مزید پلانٹس لگائیں۔ ہماری حکومت نے 10 ہزار میگاواٹ کے بجلی منصوبے شروع ہوئے ہیں جن میں کئی پایہ تکمیل کے قریب ہیں۔ انہوں نے کہا چشمہ اور مظفر گڑھ کے مقام پر ایٹمی توانائی کے منصوبے لگائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی این آر اے، چشمہ اٹامک انرجی عالمی مروجہ قوانین کے مطابق محفوظ ہیں۔ انہوں نے کہا پاکستان اٹامک انرجی کمشن کی خدمات گرانقدر ہیں۔ اٹامک انرجی کمشن کے 18 کینسر ہسپتال میں ملک کے 80% کینسر مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے۔ تھرکول، گوادر پورٹ اور سی پیک کے نجی شعبوں میں مواقع فراہم کر رہے ہیں۔ موجودہ حکومت محمد نوازشریف کے اس عزم کو پورا کریگی کہ جو ہدف پاکستان اٹامک انرجی کمشن کو دیا تھا، اسکو پورا کرنے میں ہر ممکن مدد کریگی اور یہ ہماری اوّلین ترجیح ہوگی۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ہماری حکومت نے چین کے ساتھ معاشی راہداری یعنی سی پیک کے تحت بہت سے بڑے منصوبے شروع کئے ہیں جن کے ثمرات پاکستان کے عوام تک پہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔ ملک میں شاہراہوں کا جال بچھایا جا رہا ہے، تھرکول کو ترقی دی جا رہی ہے، گوادر پورٹ بھی تکمیل کے مراحل میں ہے اور ان کی مدد سے ملک کی شرح ترقی پانچ فیصد سے تجاوز کر گئی ہے اور ہمیں پوری امید ہے کہ انشا اﷲ اس سال 6 فیصد کے لگ بھگ ہوگی۔ کراچی کے قریب K-I اور K-II ایٹمی توانائی کے منصوبے لگائے جا رہے ہیں۔ K-I منصوبہ 2020ءمیں اور K-II منصوبہ 2021ءکو پایہ تکمیل کو پہنچے گا۔ آخر میں چین سے آئے ہوئے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا پاک چین دوستی زندہ باد، پاکستان زندہ باد۔ مزید برآں وزیراعظم کے دورہ چشمہ C-4 کے دوران چشمہ کمپلیکس کے تمام پراجیکٹس سکولز کالجز کی عام تعطیل کا اعلان کیا گیا، تمام مارکیٹیں اور بنک بند کروائے گئے۔ آج صبح 8 بجے سے ڈیڑھ بجے تک تمام روڈ بند رکھے گئے جس سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ قبل ازیں وزیراعظم شاہدخاقان عباسی پی اے ایف بیس میانوالی پہنچے جہاں بیس کمانڈر، ڈی سی اور ڈی پی او نے استقبال کیا۔ پھر وہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے چشمہ روانہ ہو گئے۔ ان کے ساتھ وزیر داخلہ احسن اقبال اور پاور کے وزیر چوہدری عابد شیر علی تھے۔ اس موقع پر مقامی صحافیوں کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا جس پر صحافیوں نے احتجاج ریکارڈ کرایا۔

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی صدارت میں فاٹا اصلاحات کے بارے میں اعلیٰ سطح کی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی شرکتکی۔ آرمی چیف اور وزیراعظم کے درمیان الگ سے ملاقات بھی ہوئی۔ اجلاس میں گورنر کے پی کے اقبال ظفر جھگڑا‘ وزیراعلیٰ کے پی کے پرویز خٹک‘ وفاقی وزیر سیفران عبدالقادر بلوچ‘ وفاقی وزیر قانون زاہد حامد‘ ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمشن سرتاج عزیز اور دوسرے اعلیٰ فوجی اور سول افسران موجود تھے۔ کمیٹی نے اس بات پر اطمینان ظاہر کیا کہ فاٹا اصلاحات کے پیکج پر جس کی منظوری کابینہ نے مارچ 2017 ءمیں دی تھی پارلیمنٹ اور قبائلی علاقوں میں مثبت ردعمل ظاہر کیا گیا ہے۔ کمیٹی نے پیکج پر عملدرآمد کو تیز کرنے کے لئے متعدد فیصلے کئے۔ وزیراعظم نے وفاقی وزیر قانون کو ہدایت کی کہ فاٹا کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لئے قانون سازی اور انتظامی اقدامات میں تیزی لائی جائے تاکہ فاٹا کے عوام کو بھی بنیادی حقوق حاصل ہو سکیں اور وہ ملک کے دیگر حصوں کے عوام کے مساوی ہو سکیں۔ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ پولیس کی بھرتی کو تیز کیا جائے گا اور پولیس کے امور کو نبٹانے کے لئے ایف سی کا کچھ حصہ بھی تعینات کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ فاٹا میں عبوری معیاد کے لئے مناسب انتظامی ڈھانچہ بھی بنایا جائے گا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ عبوری معیاد کے لئے چیف آپریٹنگ آفیسر مقرر کیا جائے گا۔ بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے فاٹا میں ریاست کی رٹ کو قائم کرنے کے لئے حاصل شدہ کامیابیوں کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے سیکورٹی اور سرحدوں پر انفراسٹکچر کے حوالے سے اقدامات سے آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ان اصلاحات کا مقصد فاٹا کے عوام کی زندگی کو بہتر بنانا ہے۔ فاٹا کے عوام کو گزشتہ تین دہائیوں میں جنگ‘ شورش کے باعث بہت مصائب برداشت کرنا پڑے ہیں۔ دریں اثناءامریکہ میں پاکستان کے سفیر اعزاز احمد چودھری اور بھارت میں پاکستان کے ہائی کمشنر سہیل محمود نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کی۔ انہوں نے اپنی اپنی تعیناتی کے ملک کے حوالے سے وزیراعظم کو مختلف امور سے آگاہ کیا۔
وزیراعظم کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ پروگرام کی سربراہ ماروی میمن نے وزیراعظم کو بتایا کہ 2013 ءمیں پروگرام کے لئے بجٹ میں 70 ارب روپے رکھے گئے تھے جو اب 121 ارب روپے کر دیئے گئے ہیں۔ وظیفہ 3 ہزار روپے سہ ماہی بڑھا کر 4834 روپے کر دیا گیا ہے۔ 2016-17 ءمیں 102.8 ارب روپے تقسیم کئے گئے۔ ایک لاکھ ایک ہزار 88 ہاوس ہولڈز کو قرضے دیئے گئے۔