کچھ بھی ہو جائے پاکستان کے مفادات کا تحفظ کرینگے:چین

09 ستمبر 2017

بیجنگ (صباح نیوز+ آئی این پی+ آن لائن) چین نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جنگ کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کچھ بھی ہوجائے ہم اپنے دوست ملک کے مفادات کا تحفظ ہر صورت کریں گے۔ بدلتی علاقائی، بین الاقوامی صورتحال میں پاکستان اور چینساتھ کھڑے ہیں، ہم مانتے ہیں کہ پاکستان کئی دہائیوں سے دہشتگردی کا شکار ہے اور جاری دہشتگردی کے دوران لازوال قربانیاں دیں۔ عالمی برادری کو بھی پاکستانی قربانیوں کا اعتراف کرنا چاہئے، دہشتگردی کے خاتمے کیلئے تمام ممالک کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔ وزیر خارجہ خواجہ آصف نے بیجنگ میں اپنے چینی ہم منصب سے اہم ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے کہا افغانستان میں امن کا قیام پاکستان اور چین کے مفاد میں ہے۔ پاکستان کی ترقی اور استحکام کےلئے ان کےساتھ ہیں۔ چینی وزیر خارجہ نے کہا پاکستان گزشتہ کئی سال سے دہشت گردی کا شکار رہا ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہرممکن کوشش کی۔ دہشت گردی عالمی مسئلہ ہے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ وانگ ژی نے کہا پاکستان اور چین خطے میں امن کے لیے مل کر کام کریں گے۔ پاک چین سٹرٹیجک تعلقات مزید مضبوط کرنے کے لیے پرعزم ہیں اور پاکستان اور چین ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا چین پاکستان کے مفادات کا احترام کرتا ہے، دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جنگ کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ چینی وزیر خارجہ نے کہا خواجہ آصف کے دورہ چین کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا سی پیک ایک عظیم منصوبہ ہے، بدلتی علاقائی، بین الاقوامی صورتحال میں پاکستان اور چین ساتھ کھڑے ہیں۔ ان کا کہنا تھا ہم پاکستان اور افغانستان کو ساتھ لے کر سہ فریقی مذاکرات کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تنازعات کو کم کیا جا سکے۔ افغانستان میں امن کا قیام پاکستان اور چین کے مفاد میں ہے، پرامن افغانستان ہی خطے کے مفاد میں ہے۔ اس موقع پر وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا پاکستان اور چین کی پالیسی بے مثال اور قابل تقلید ہے، پاکستان اور چین علاقائی، عالمی فورم پر ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں، افغان مسئلے کا فوجی حل ممکن نہیں، افغان مسئلے کا حل صرف بات چیت اور امن سے ممکن ہے۔ خواجہ آصف نے کہا پاکستان اور چین کے تعلقات تاریخی نوعیت کے ہیں، پاکستان ون چائنا پالیسی کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا بطور وزیرخارجہ یہ میرا چین کا پہلا دورہ ہے اور میں چینی وزیرخارجہ کا شکر گزار ہوں ۔ انہوں نے کہا سی پیک چین کے صدر کا فلیگ شپ منصوبہ ہے، سی پیک باہمی رابطوں اور خطے کی ترقی کےلئے بہت اہم ہے اور یہ منصوبہ رابطوں اور علاقائی تعاون میں سنگ میل ثابت ہوگا، کچھ بھی ہو جائے ہر قیمت پر سی پیک کا تحفظ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا پاکستان میں پاک فوج کے تعاون سے آپریشن ضرب عضب اور آپریشن ردالفساد کا آغاز کیا اور اس کی مدد سے ملک کے کونے کونے سے دہشت گردوں کا صفایا کیا جا رہا ہے۔ امریکہ کی نئی افغان پالیسی کا بغور مطالعہ کیا ہے، افغانستان کے مسئلے کا کوئی فوجی حل موجود نہیں، افغانستان میں امن کے لئے چین کا کردار مثبت رہا ہے۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا پاکستان ہمسایہ ممالک کےساتھ برابری کی بنیاد پر تعلقات چاہتا ہے، ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت اور اقتصادی ترقی پر یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا تبت تائیوان سمیت تمام قومی معاملات میں چین کے موقف کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا افغانستان ہمارا پڑوسی ملک ہے اور اس میں قیام امن خطے کی ترقی اور خوشحالی کیلئے انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا اس سال افغانستان میں سہ فریقی مذاکرات کئے جائیں گے جس کا مقصد خطے میں امن و امان کی فضا کو مزید مستحکم بنانا ہے۔ چینی وزیر خارجہ نے کہا پاکستان اور چین دفاعی و علاقائی سلامتی کیلئے ایک دوسرے سے بھرپور تعاون کریں گے۔ پاکستان اور چین کے عوام کے مابین مضبوط تعلقات ہیں۔ پاکستان کی ترقی اور استحکام کیلئے اسلام آباد کے ساتھ ہیں، علاقائی اور بین الاقوامی معاملات میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں۔ پاکستان اور چین کے سٹرٹیجک تعلقات مستحکم ہیں، پاکستان اور افغانستان خطے کے اہم ممالک ہیں۔ چین، پاکستان اور افغانستان کے مابین سکیورٹی ڈائیلاگ اور سٹرٹیجک تعاون کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے مابین اختلافات کم کرنے کی کوششیں کریں گے۔ افغانستان کے حوالے سے امریکی پالیسی کا گہرا مطالعہ کیا ہے۔ پاکستانی وزیر خارجہ کے اعزاز میں چینی وزیر خارجہ کی جانب سے ظہرانہ بھی دیا گیا جس میں دونوں ممالک کے وفود نے شرکت کی۔