میانمار:روہنگیا مسلمانوں کے گھر، مدارس جلانے کا سلسلہ جاری، سوچی آواز اٹھائیں:اقوام متحدہ

09 ستمبر 2017

ینگون+ لندن+ اسلام آباد + واشنگٹن+ کوالالمپور +سیﺅل(نیوز ایجنسیاں) میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے گھروں، مدارس سمیت دیگراملاک کو بودھ شدت پسندوں کی جانب سے نذر آتش کرنے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ ریاست رخائن سے جانیں بچا کر فرار ہونیوالے روہنگیا مسلمانوں کے گھروں کو نذر آتش کیا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے برائے انسانی حقوق نے کہا ہے کہ میانمار میں پہلے ہی زیادہ تر روہنگیا مسلمانوں سمیت ایک ہزار افراد کو ہلاک کیا جا چکا ہے، آنگ سان سوچی بحران کے بارے میں آواز اٹھائیں۔ ادھر برطانوی نشریاتی ادارے کے ایک رپورٹر نے کہا ہے رخائن میں بودھ متوں نے پولیس کی مدد سے مسلمانوں کے گاﺅں جلائے۔ یاد رہے اس سے قبل میانمار حکومت نے ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ روہنگیا مسلمان اپنے گھروں کو خود نذر آتش کر رہے ہیں۔ اے ایف پی کے مطابق اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے خصوصی نمائندے یانگی لیسی نے کہا ہے کہ میانمار میں پہلے ہی 1000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں اکثریت روہنگیا مسلمانوں کی ہے۔ یہ تعداد حکومتی اعداد و شمار سے دوگنا ہے۔ انہوں نے بتایا گزشتہ دو ہفتوں کے دوران 2لاکھ 70ہزار افراد بنگلہ دیش جان بچا کر پہنچے ہیں اور ان میں زیادہ تر روہنگیا مسلمان ہیں۔ این این آئی کے مطابق امریکی ٹی وی نے کہا ہے کہ ریاست رخائن میں روہنگیا مسلمانوں کے گھر اب بھی جلائے جا رہے ہیں۔ دوسری طرف برطانوی نشریاتی ادارے کے ایک رپورٹر جوناتھن ہیڈ جسے میانمار کی حکومت نے غیر ملکی صحافیوں کی ایک ٹیم کے ساتھ رخائن کے کچھ علاقوں کا دورہ کرنے کی اجازت دی تھی نے بتایا ہے کہ وہاں ایک گاﺅں میں گھروں میں آگ لگی تھی اور وہاں سے چند نوجوانوں کو باہر نکلتے دیکھا جن کے ہاتھوں میں چھریاں، تلواریں اور غلیلیںتھےں۔ انہوں نے چند صحافیوں کو بتایا کہ وہ رخائن کے بودھ مذہب کے ماننے والے ہیں، ان میں سے ایک نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اس نے آگ لگائی اور پولیس نے اس کی مدد کی۔ ہم نے ایک مدرسہ کو بھی نذر آتش ہوتے ہوئے دیکھا۔ امریکہ نے میانمار میں بحران پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وہاں کی حکومت پر زور دیا ہے کہ صوبہ رخائن تک انسانی رسائی کی اجازت دی جائے۔ جمعہ کو امریکی محکمہ خارجہ کی خاتون ترجمان ہیتھر ناریٹ نے سکیورٹی فورسز پر روہنگیا دیہات کو نذر آتش کرنے اور تشدد کے واقعات سمیت انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کئے۔ دوسری جانب بھارت نے مسلمانوں پر تشدد کیخلاف عالمی اقتصادی فورم کی منظور قرارداد کا حصہ بننے سے انکار کر دیا۔ دریں اثناءمشترکہ اعلامیے میں میانمار میں مسلم کش فسادات پر اظہار تشویش کیاگیا، فورم نے تمام پائیدار ترقی اہداف کا بروقت حصول یعنی بنانے کیلئے آزادی امن سلامتی اور تمام انسانوں کا احترام کرنے انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنانے میں ارکان پارلیمنٹ کا کردار بڑھانے پر بھی زور دیا ۔ علاوہ ازیں دنیا بھر سے ہزاروں افراد نے نوبل کمیٹی سے نام نہاد جمہوریت پسند رہنما آنگ سان سوچی سے امن انعام واپس لینے کے مطالبے کے لئے آن لائن پٹیشن پر دستخط کر دیئے۔ پٹیشن میں کہا گیا ہے میانمار کی خود ساختہ حکمران نے اپنے ملک میں انسانیت کے خلاف جرم کو روکنے کے لئے کچھ بھی نہیں کیا۔ واضح رہے کہ چینج ڈاٹ او آر جی کی آن لائن پٹیشن پر اب تک 3لاکھ 65ہزار سے زائد وصوخطوط وصول کئے جا چکے ہیں۔ دوسری طرف نوبل انسٹیٹیوٹ کے سر براہ ولاونجو لسٹیڈ نے کہا ہے کہ جب ایک بار کسی کو نوبل انعام دے دیا جائے تو اسے واپس لینا ناممکن ہے۔

لاہور/ فیصل آباد (نامہ نگاران+ نمائندہ خصوصی) روہنگیا مسلمانوں سے اظہار یکجہتی اور ان پر جاری مظالم کیخلاف سیاسی و دینی جماعتوں جن میںجماعت اسلامی، تحریک انصاف، پیپلز پارٹی، انجمن طلبہ اسلام، پاکستان عوامی تحریک، تحریک لبیک یارسول اللہ، دفاع پاکستان کونسل اور دیگر شامل تھیں نے احتجاجی مظاہرے کئے اور ریلیاں نکالیں۔ سیالکوٹ میں عوامی تحریک کے زیراہتمام ریلی ضلعی آفس مجاہد روڈ سے علامہ اقبال چوک تک نکالی گئی جس میں ہزاروں کارکنوں اور عوام نے شر کت کی۔ ضلعی امیر پروفیسر یونس قادری نے کہا کہ میانمار کی حکومت متاثرہ علاقوں میں اقوام متحدہ کے مشن اور انٹرنیشنل میڈیا کو جانے کی اجازت نہیں دے رہی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ میانمار کے مسلمان بدترین ریاستی دہشتگردی کا شکار ہیں۔ ضلعی ناظم تحریک قاری قاسم نے کہا کہ دو ہفتوں کے بعد بھی اسلامی دنیا یا اقوام متحدہ کی طرف سے میانمار کے مظلوم مسلمانوں کے تحفظ کےلئے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کئے گے جو بے حسی اور سفاکیت ہے۔ ضلعی جنرل سیکرٹری میاں محمد رضا نے کہا کہ برما کے مسلمانوں پر ہونے والے ظلم کے خلاف سب سے پہلے ڈاکٹر طاہرالقادری نے آواز اٹھائی۔ ریلی سے میاں رضا، میاں ظفر اقبال، مہر خالد جاوید، چوہدری اشرف اور حافظ واصف نے بھی خطاب کیا۔ سرفراز احمد چوہدری نے قرارداد پیش کی جسے احتجاجی مظاہرے میں شریک افراد نے ہاتھ اٹھا کر منظورکیا۔ فیصل آباد میں ریلی کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے سید غضنفر عباس نے کہا کہ روہنگیا مسلمانوں کی نسل کسی اور سفاکانہ قتل عام رکوانے کےلئے مسلم اُمہ اور اقوام متحدہ اپنا کردار ادا کرے اور پاکستان کو روہنگیا مسلمانوں پر ہونیوالے مظالم کو رکوانے کےلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے اور برما سے سفارتی تعلقات منقطع کرتے ہوئے 35 ملکی فوجی اتحاد کے ذریعے برما کو ایسا سبق سکھانا چاہئے۔ برما میں مسلمانوں پر بدھ مت دہشتگرداور فوج مظالم کر رہی ہے۔ روزانہ سینکڑوں روہنگیا مسلمانوں کو شہید اور خواتین کی عصمت دری کی جارہی ہے۔ ریلی سے صفدر علی شان ایڈووکیٹ نے بھی خطاب کیا۔ چنیوٹ میں جماعت اسلامی کی ریلی سے عبدالقیوم ہنجرا، چوہدری محمد اسلام خان، سید نور الحسن شاہ، سید ذوالفقار علی شاہ، محمد نواز سپرائ، لیاقت علی مغل ایڈووکیٹ و دیگر نے خطاب میں کہا کہ برما میں مسلمانوں کا قتل عام رکوانے کے لیے فوری طور پر برما کے سفارتخانے بند کر کے عالمی سطح پر اپنا احتجاج کرنا چاہئے۔ جھنگ میں وکلاءاور انجمن طلباءاسلام نے ریلیاں نکالیں۔ برما حکومت کے خلاف شدید نعرہ بازی کی گئی۔ شرکاءریلی نے کہا کہ وہ روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری مسلمانوں کے قتل عام اور ان پر ہونے والے بے رحمانہ تشدد کی روک تھام کے لیے اقدامات کرے۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں تاجدار ختم نبوت فاﺅنڈیشن کی ریلی کی قیادت بانی علامہ پیر شمس الزماں قادری نے کی جبکہ ریلی میں سینکڑوں شہریوں اور کارکنوں نے شرکت کی۔ عوامی تحریک کی قیادت عبدالحفیظ بھٹہ نے کی، ریلی ڈسٹرکٹ پرےس کلب سے شہباز چوک تک نکالی گئی۔ علاوہ ازیں مرکزی جمعیت اہلحدیث کے رہنما علامہ صاحبزادہ برق التوحیدی نے بھی برما میں مسلمانوں پر مظالم کی شدید مذمت کی ہے۔ رجانہ میں نکالی جانے والی ریلی میں پرےس کلب رجانہ (رجسڑڈ)، تحرےک تحفظ اسلام انٹرنےشنل، سنی تحرےک، انصاف رکشہ ےونےن، حضرت سلطان باہو ٹرسٹ سمےت تحرےک انصا ف کے کارکنوں نے شرکت کی۔ رےلی کے شرکاءنے برما کی حکومت کے خلاف بےنرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر برمی حکومت کی طرف سے مسلمانوں پر ظلم و بر برےت کو بند کرنے کے مطالبات درج تھے۔ پی ٹی آئی رہنما چوہدری محمد رمضان پروےز نے کہا کہ عراق اور لےبےا مےں انسانی حقوق کے نام پر بم برسائے گئے مگر آج برما مےں برمی حکومت کےطر ف سے جس طرح انسانےت کی تذلےل کی جارہی ہے معصوم بچوں کو ذبح کےا جا رہا ہے انکو کےوں نظر نہےں آرہا، اقوام متحدہ اس مسئلہ پر کےوں خاموش ہے۔ محمد عمران چشتی، ملک آصف، شرجےل عطای،نصےر احمد زےن، اختر بلوچ، ذوالفقار جانثار، ارشد رانجھا نے بھی خطاب کیا۔ جہلم میں عوامی تحریک نے مرکزی دفتر سے جادہ چونگی تک ریلی نکالی جس میں دیگر سیاسی ومذہبی جماعتوں نے بھی شرکت کی۔ عوامی تحریک پاکپتن شریف نے سیرگاہ میں احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں رانا غلام مصطفی،سید ابو داﺅ بخاری، اطہر محمود اجی خان سمیت تحریک منہاج القرآن کے جملہ فورمز کے قائدین و کارکنان، مجلس وحدت المسلمین کے قائدین، پاکستان پپلز پارٹی پاکپتن کے کارکنان، وکلاءو تاجر برادری کے راہنماﺅں، شہر فرید سے تعلق رکھنے والی بڑی سیاسی، مذہبی و سماجی جماعتوں کے قائدین و عوام نے بھرپور شرکت کی۔ عقیل شہباز ایڈووکیٹ نے خطاب میں کہا کہ برما میں بسنے والے روہنگیا مسلمانوں پر انسانی تاریخ کے بدترین ظلم اور نسل کشی کی مذمت کرتے ہیں۔ راجووال، اختر آباد شہر کے مختلف مقامات سے جلوس نکالے سب سے بڑا احتجاجی جلوس مرکزی جامعہ مسجد حضرت شاہ مقیم محکم الدین سے نکالا گیا جس کی قیادت صدر جماعت اہلسنت حاجی غلام رسول، مقصود الحسن علوی، زبیر جاوید راول ودیگر عمائدین نے کی۔ دوسری بڑی ریلی سید فیصل گیلانی مرکزی ناظم متحدہ امن کونسل کی قیادت میں بائیس تنظیموں کے اشتراک سے نکالی گئی۔ گجرات میں تحریک لبیک یارسول اللہ کے بانی پیر محمد افضل قادری کی قیادت میں ریلی نکالی گئی جو مراڑیاں شریف سے شروع ہو کر شاہین چوک، سرگودھا روڈ سے ہوتی ہوئی جی ٹی ایس چوک میں اختتام پذیر ہوئی۔ عوامی تحریک کے زیراہتمام جی ٹی ایس چوک سے ریلی چوہدری گلریز محمود اختر، مرزا طارق بیگ کی قیادت میں نکالی گئی۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے زیراہتمام بھی ریلی نکالی گئی۔ ریلیوں کے شرکاءنے ہاتھوں میں بینرز، پلے کارڈ تھام رکھے تھے جن پر مسلمانوں پر ڈھائے جانیوالے مظالم بند کےے جائیں۔ فیصل آباد میں دفاع پاکستان کونسل نے ضلع کونسل چوک میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ شرکاءبرمی فوج‘ بدھسٹ دہشت گردوں اور بھارت و امریکہ کیخلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔ احتجاجی مظاہرے کے اختتام پر آنگ سان سوچی کی تصویر بھی نذر آتش کی گئی۔ مظاہرے سے ابوبصیر مقبول احمد‘ قاری عبدالشکور‘ ابو ساریہ مظہر‘ حمزہ بنوری‘ قاری یونس خلیق‘ شیخ سلیم الرحمن و دیگر قائدین نے خطاب کیا۔ ساہیوال میں جماعت اسلامی ضلع کے امیر مولانا رحمت اللہ وٹو کی قیادت میں ریلی جناح سٹریٹ سے نکالی گئی۔ دوسری ریلی جمعیت اہلحدیث پاکستان کے سیکرٹری مولانا ضیاءاللہ بخاری کی قیادت میں مسجد رحمانیہ سے نکالی گئی۔ مولانا رحمت اللہ وٹو‘ مولانا حمزہ آصف‘ ڈاکٹر زاہد محمود اور مولانا ضیاءاللہ بخاری نے خطاب کیا۔